کیا صرف متواتر حدیث ہی حجت ہے؟ خبرِ واحد قرآن و سنت کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خبر واحد

خبر واحد کی حجیت اور عدم حجیت کا مسئلہ اہل السنہ اور فرق ضالہ کے یہاں مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے، اہل السنہ کے نزدیک خبرِ واحد حجت ہے، اسی لئے

امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرمایا کرتے تھے:

[من رد حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو على شفا هلكة]
جس نے رسول اللہ ﷺ کی ایک بھی حدیث رد کی، وہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ [الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی: 289/1، وسندہ حسن]

اسی طرح علامہ ابو العباس احمد بن ابی احمد بن القاص رحمہ اللہ (335ھ) فرماتے ہیں:

[من انكر خبر الآحاد انكر الشريعة] اخبارِ احاد کا انکار کرنے والے لوگ، درحقیقت شریعت کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔
[الفقیہ والمتفقہ للخطیب: 37/2، وسندہ حسن]
خبر واحد ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار تو ممکن ہے، اس سے مفر مگر ممکن نہیں، جو لوگ اور جو فرق خبر واحد کی حجیت کا انکار کرتے ہیں، ان میں سے اکثر خبر واحد سے دلیل اور استنباط لیتے پائے گئے ہیں، حتیٰ انہوں نے اپنے اعمال و عقائد کی بنیاد بھی خبر واحد پر رکھ چھوڑی ہیں، خبر واحد کیا انہوں نے کئی دفعہ اخبارِ ضعیفہ و موضوعہ کو بھی اپنے لئے حجت بنایا ہے، اس کی تفصیل کسی دوسرے وقت پہ اٹھاتے ہیں۔
بعض لوگ مطلق خبرِ واحد کو ٹھکراتے ہیں، بعض کے یہاں خبرِ واحد میں تفصیل پائی گئی ہے، کہ عام احوال میں حجت ہے عقائد وغیرہ میں حجت نہیں، اجماع کے مخالف ہو تو حجت نہیں یا اس قسم کی دیگر شرائط، اہل سنت خبرِ واحد کو مطلق طور پر حجت مانتے ہیں، جب کہ وہ صحیح سند سے ثابت ہو جائے۔
ہمارا ماننا ہے کہ خبرِ واحد کی وہ صورت جو علمِ حدیث اور علل کی چھلنی سے صحیح سلامت گزر آتی ہے اور امت کے محدثین اس کو صحیح قرار دیتے ہیں، اس کے بعد خبرِ واحد نہ تو عقل کے خلاف رہ جاتی، نہ اجماع کے مخالف ہوتی اور نہ قطعی الثبوت معاملات کی مخالفت کرتی، اگر کسی کو لگے کہ یہ خبر ان میں سے کسی چیز کی مخالفت کر رہی ہے، تو اس کو مزید غور و فکر کرنا چاہئے، تا آنکہ اس پر حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔
ذیل میں قرآن و سنت سے خبرِ واحد کی حجیت کے دلائل ذکر کئے جاتے ہیں، تدبر کیجئے:

خبرِ واحد کی حجیت اور قرآنی نصوص:

قرآنِ مجید نے بہت سارے مقامات پر خبرِ واحد کی حجیت کو بیان کیا ہے، جن میں چند ایک احباب کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔

[1] فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

[سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىہُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ]
"عنقریب کچھ بیوقوف کہیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے قبلہ اول سے کس نے پھیر دیا؟” (البقرة: 142)

استدلال:

علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

[فيها دليل على جواز القطع بخبر الواحد، وذلك أن استقبال بيت المقدس كان مقطوعا به من الشريعة عندهم]
"اس آیت میں خبر واحد کو قطعی الثبوت ماننے کی دلیل ہے، وہ اس طرح کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کو قطعی الثبوت شرعی مسئلہ سمجھتے تھے۔” [تفسیر القرطبی: 151/2]

نیز فرماتے ہیں:

[فيها دليل على قبول خبر الواحد، وهو مجمع عليه من السلف معلوم بالتواتر من عادة النبي صلى الله عليه وسلم في توجيهه ولانه ورسله آحاد للآفاق، ليعلموا الناس دينهم فيبلغوهم سنة رسولهم صلى الله عليه وسلم من الأوامر والنواهي]
"یہ آیت میں خبر واحد کی قبولیت کی دلیل ہے۔ اس پر سلف کا اجماع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر سنت مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے قاصدین اپنے اپنے علاقے والوں کے لیے ‘آحاد’ ہی تھے، ان کا مقصد لوگوں کو دین کی تعلیم دینا اور سنت نبوی کی تبلیغ کرنا تھا۔” [تفسیر القرطبی: 152/2]

[2] فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

[وَ لَقَدۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۚ وَ بَعَثۡنَا مِنۡہُمُ اثۡنَیۡ عَشَرَ نَقِیۡبًا ؕ]
"البتہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا۔ ہم (یعنی اللہ تعالیٰ) نے ان میں بارہ نقیب (سردار) مقرر کیے۔” (المائدة: 12)

استدلال:

علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:

[في الآية دليل على قبول خبر الواحد فيما يفتقر إليه المرء، ويحتاج إلى اطلاعه من حاجاته الدينية والدنيوية، فتركب عليه الأحكام، ويرتبط به الحلال والحرام]
"یہ آیت دلیل ہے کہ انسان کے دینی و دنیاوی مسائل کے حل میں خبرِ واحد کو دلیل بنایا جا سکتا ہے، ان پر احکامات، حلال و حرام کو مرتب کیا جا سکتا ہے۔” [أحکام القرآن: 82/2]

[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ]
"تمام مومنین کو (جہاد کے لیے) نہیں جانا چاہیے، بلکہ ان کی ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکلیں اور دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں، پھر اپنی قوم میں واپس آ کر انہیں ڈرائیں، تاکہ وہ باز رہیں۔” (التوبة: 122)

استدلال:

امیر المؤمنین فی الحدیث، امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں:

[يسمى الرجل طائفة لقوله تعالى: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا (الحجرات: 9)، فَلَوْ اقْتَتَلَ رَجُلَانِ دَخَلَا فِي مَعْنَى الْآيَةِ]
"ایک شخص پر بھی ‘طائفہ’ کا لفظ بولا جا سکتا ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ‘اگر مومنوں کے دو گروہ باہم جھگڑ پڑیں۔’ (الحجرات: 9) لہذا اگر دو شخص بھی لڑیں، تو وہ اس آیت کے معنی میں داخل ہوں گے۔” [صحیح البخاری، قبل الحدیث: 7246]

علامہ ابن الاثیر رحمہ اللہ (606ھ) لکھتے ہیں:

[الطائفة؛ الجماعة من الناس، وتقع على الواحد]
طائفہ’ ایک جماعت کو کہتے ہیں، یہ لفظ فردِ واحد پر بھی بولا جاتا ہے۔ [النهاية في غريب الحديث والأثر: 153/3]

علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں:

[فيه بالدليل على وجوب العمل بخبر الواحد، وهو صحيح لا من جهة أن الطائفة تنطلق على الواحد ولكن من جهة أن خبر الشخص الواحد أو الأشخاص خبر واحد، وأن مقابله وهو التواتر لا ينحصر، قلت: أنص ما يستدل به على أن الواحد يقال له طائفة، قوله تعالى: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا (الحجرات: 9) يعني نفسين، دليله قوله تعالى: فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ (الحجرات: 10)، فجاء بلفظ التثنية، والضمير في اقتتلوا وإن كان ضمير جماعة فأقل الجماعة اثنان في أحد القولين للعلماء]
"اس میں خبرِ واحد پر عمل کے واجب ہونے کی دلیل موجود ہے، یہ بات صحیح ہے، لیکن اس جہت سے صحیح نہیں ہے کہ طائفہ کا لفظ ایک شخص پر بھی بولا جاتا ہے، بلکہ اس جہت سے کہ ایک آدمی کی دی ہوئی خبر ہو یا کئی آدمیوں کی دی ہوئی خبر ہو، ہے تو وہ خبرِ واحد ہی۔ اس کے مقابل تواتر آتا ہے، جو کہ کسی چیز پر منحصر ہی نہیں۔ میں یہاں ایک نص پیش کرتا ہوں جس کے مطابق طائفہ کا لفظ ایک شخص پر بولا جاتا ہے، قرآنِ مجید میں ہے: ‘اگر مسلمانوں کے دو گروہ باہم جھگڑ پڑیں تو۔۔۔۔۔۔’ اس سے مراد دو آدمی ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہے: فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ‘دو بھائیوں کے درمیان صلح کروائیے۔’ یہاں لفظِ تثنیہ مستعمل ہوا ہے، لفظ اقتتلوا میں اگرچہ ایک جماعت کی ضمیر بیان ہوئی ہے، سب سے چھوٹی جماعت دو نفوس پر مشتمل ہوتی ہے، جیسا کہ علما بتاتے ہیں۔” [تفسیر القرطبی: 294/8]

[4] فرمانِ الٰہی ہے:

[وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا]
"(نبی کی بیویو!) اس نعمت کو یاد کرو کہ جو آیاتِ الٰہیہ اور حکمت کی باتیں تمہارے گھروں میں تلاوت ہوتی ہے، بلا شبہ اللہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے۔” (الأحزاب: 34)

استدلال:

علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں:

[هذا يدل على جواز قبول خبر الواحد من الرجال والنساء في الدين]
"یہ آیت اس بات پر دلالت کناں ہے کہ دین کے مسئلے میں مرد و عورت ہر دو کی خبرِ واحد قبول کرنا جائز ہے۔” [تفسیر القرطبی: 184/14]

[5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ]
"مومنو! اگر فاسق تمہیں کوئی خبر دے، تو اس کی تحقیق کر لو، کہ تم انجانے میں کسی قوم پر حملہ کر دو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔” (الحُجُرات: 6)

استدلال:

علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں:

[في هذه الآية دليل على قبول خبر الواحد إذا كان عدلا، لأنه إنما أمر فيها بالتثبت عند نقل خبر الفاسق، ومن ثبت فسقه بطل قوله في الأخبار إجماعا، لأن الخبر أمانة والفسق قرينة يبطلها]
"اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ناقل اگر عادل ہو، تو خبر واحد مقبول ہے، کیونکہ آیت میں تحقیق کا حکم اس وقت دیا گیا ہے، جب خبر دینے والا فاسق ہو، جس کا فسق ثابت ہو جائے، تو حدیث میں اس کی بات معتبر نہ ہوگی، اس پر اجماع ہے، کیونکہ خبر امانت ہے اور فسق اس امانت کو باطل کر دیتا ہے۔” [تفسیر القرطبی: 184/14]

[6]،[7] فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

[وَّ اَشۡہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ]
"اپنے میں سے کوئی دو عادل لوگوں کو گواہ بناؤ۔” (الطلاق: 2)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ]
"بلاشبہ جو لوگ ہماری نازل کردہ نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، بعد اس کے کہ ہم نے اسے کتاب میں لوگوں کے لیے واضح کر دیا ہے، ان لوگوں پر اللہ کی بھی لعنت ہے اور تمام لعنت کرنے والوں کی بھی لعنت ہے۔” (البقرة: 159)

استدلال:

علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں:

[فيه دليل على وجوب العمل بقول الواحد، لأنه لا يجب عليه البيان إلا وقد وجب قبول قوله]
"اس آیت میں دلیل ہے کہ ایک (راوی) کی روایت پر عمل کرنا واجب ہے، کیونکہ راوی پر (دین کو) بیان کرنا واجب ہی اس لیے ہے، کیونکہ اس کی بات کو قبول کرنا واجب ہے۔” [تفسير القرطبي: 185/3]

احادیثِ رسول سے خبرِ واحد کا ثبوت:

صحابہ کا مجموعی عمل خبرِ واحد پر عمل کا رہا ہے، وہ چاہے عام معاملات ہوں یا خاص، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسی کئی امثلہ پیش آئیں، جہاں صحابہ نے خبرِ واحد سے حجت پکڑی اور اس کے مطابق عمل سرانجام دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو کسی علاقے میں دعوت کی غرض سے بھیجتے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بھی بیانِ دین میں معتبر ہو سکتا ہے۔

[1] سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو فرمایا: إنك تقدم على قوم من أهل الكتاب، فليكن أول ما تدعوهم إلى أن يوحدوا الله تعالى.
"آپ اہل کتاب کے پاس جا رہے ہیں، انہیں سب سے پہلی دعوتِ توحید باری تعالیٰ کی دیجئے۔” [صحيح البخاري: 7372، صحيح مسلم: 19]

[2] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ اہل یمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے: ابعث معنا رجلا يعلمنا السنة والإسلام قال فأخذ بيد أبي عبيدة فقال: هذا أمين هذه الأمة.
"ہمارے ساتھ کسی (عالم) آدمی کو بھیج دیں، جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ بندہ امتِ محمدیہ کا امین ہے۔” [صحيح مسلم: 2419]

[3] سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

قلت لابن عباس: إن نوفا البكالي يزعم أن موسى عليه السلام، صاحب بني إسرائيل ليس هو موسى صاحب الخضر، عليه السلام، فقال: كذب عدو الله، سمعت أبي بن كعب يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قام موسى عليه السلام خطيبا في بني إسرائيل……
"میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: نوف بکالی کہتا ہے کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ اور خضر علیہ السلام والے موسیٰ الگ الگ ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا۔ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مابین خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔” [صحيح البخاري: 122، صحيح مسلم: 2380]

[4] سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن تميما الداري كان رجلا نصرانيا، فجاء فبايع وأسلم، وحدثني حديثا وافق الذي كنت أحدثكم عن مسيح الدجال، حدثني أنه ركب في سفينة بحرية، مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام……
"تمیم داری عیسائی تھے، وہ میرے پاس آئیں اور بیعت کر کے مسلمان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی ہے، جو میری اسی بات کے موافق ہے، جو میں نے تمہیں پہلے سے ہی دجال کے بارے میں بتا دی ہے۔ تمیم نے مجھے بیان کیا کہ وہ لخم اور جذام قبیلوں کے تیس افراد کے ہمراہ ایک بحری بیڑے پر سوار تھے ۔۔۔۔۔۔” [صحيح مسلم: 2262]

[5] سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلغوا عني ولو آية.
"مجھ سے (سن کر آگے) پہنچا دو، گو ایک آیت ہی ہو۔” [صحيح البخاري: 3461]

[6] سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نضر الله امرأ سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره، فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ورب حامل فقه ليس بفقيه.
’’اللہ تعالیٰ اسے تروتازہ رکھے، جو مجھ سے کوئی حدیث سنے، پھر اسے یاد رکھ کر دوسروں کو پہنچا دے، بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے اپنے سے زیادہ بہتر سمجھنے والوں کو پہنچا دیتے ہیں اور بہت سے لوگ علم کو حاصل کرتے ہیں، لیکن اس کی (کماحقہ) فقہ نہیں رکھتے۔‘‘
[سنن الترمذي: 2656، وسندہ صحیح]

[7] سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: ليبلغ الشاهد الغائب، فإن الشاهد عسى أن يبلغ من هو أوعى له منه.
’’حاضر شخص، غائب کو پہنچا دے، کیونکہ ممکن ہے کہ حاضر آدمی کسی ایسے شخص کو علم پہنچا دے، جو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔‘‘
[صحیح البخاري: 67]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں:

قال بن جرير: فيه دليل على جواز قبول خبر الواحد لأنه معلوم أن كل من شهد الخطبة قد لزمه الإبلاغ وأنه لم يأمرهم بإبلاغ الغائب عنهم إلا وهو لازم له فرض العمل بما أبلغه كالذي لزم السامع سواء وإلا لم يكن للأمر بالتبليغ.
’’امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث دلیل ہے کہ خبرِ واحد کو قبول کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ تو معلوم بات ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے تمام حاضرین پر ابلاغ کی ذمہ داری تھی، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو غائبین تک علم پہنچانے کا حکم اس لیے دیا کہ ہر شخص پر اس علم پر عمل کرنا اتنا ہی ضروری تھا، جتنا کہ براہِ راست سننے والے پر۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابلاغِ علم کا حکم نہ فرماتے۔“ [فتح الباري: 44/4]

[8] سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ألا إني أوتيت الكتاب، ومثله معه ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول: عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه، وما وجدتم فيه من حرام فحرموه، ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي، ولا كل ذي ناب من السبع، ولا لقطة معاهد.
’’خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے، ساتھ میں اس کی مثل (حدیث) بھی دی گئی ہے۔ خبردار! عنقریب ایک پیٹ بھرا آدمی تکیے پر ٹیک لگائے کہے گا: ’اس قرآن کو لازم پکڑ لو، تم اس میں جسے حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اور جسے حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔‘ خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ معاہد کی گری ہوئی چیز کو استعمال کرنا جائز ہے۔‘‘
[سنن أبي داود: 4604، وسندہ صحیح، وأخرجه الإمام أحمد: 4/132 والترمذي: 2664، وقال: حسن غريب، وابن ماجه: 12، وسندہ صحیح]
❀ امام حاکم رحمہ اللہ (109/1) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

قوام السنہ امام ابو القاسم اصبہانی رحمہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:

في هذا دليل على أن أمره صلى الله عليه وسلم إذا أخبر به واحد ثقة، لزم اتباعه، ووقع العلم به، وإن لم يوجد له في كتاب الله نص حكم.
’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ جب کوئی ایک ثقہ راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کی خبر دے، تو اس کا اتباع کرنا واجب ہے، اسے علم (ضروری) کہا جائے گا، اگرچہ کسی کو اس کی کتاب اللہ میں کوئی نص بھی نہ ملے۔‘‘
[الحُجَّة في بيان المَحَجَّة: 1/ 375-376]

[9] سیدنا یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أتانا ابن مربع الأنصاري ونحن بعرفة في مكان يباعده عمرو بن موقف الإمام قال: فقال: إني رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم يقول: كونوا على مشاعركم هذه فإنكم على إرث من إرث إبراهيم عليه السلام.
’’ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، ہم عرفہ میں ایک ایسی جگہ موجود تھا، جو امام سے کافی دور واقع ہوا تھا، ابن مربع کہنے لگے کہ مجھے آپ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، آپ فرما رہے ہیں کہ انہی قربان گاہوں پر قائم رہیں، کیونکہ آپ اس وقت ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر موجود ہیں۔‘‘
[سنن أبي داود: 1921، سنن النسائي: 3014، سنن الترمذي: 883، سنن ابن ماجه: 311، وسندہ صحیح]
❀ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن‘‘، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2819) نے ’’صحیح‘‘ اور امام حاکم رحمہ اللہ (633/1) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔

[10] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ جب تحویل قبلہ کا حکم آیا تو صحابہ کی ایک جماعت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہی تھی: مر رجل من بني سلمة وهم ركوع في صلاة الفجر، وقد صلوا ركعة، فنادى: ألا إن القبلة قد حولت، فمالوا كما هم نحو القبلة.
”بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے گزرا، جو نماز فجر پڑھتے ہوئے رکوع کر رہے تھے، پہلی رکعت پڑھ چکے تھے، اس شخص نے آواز دی: خبردار! بلاشبہ قبلہ تبدیل ہو گیا ہے، تو ان لوگوں نے اسی حالت میں اپنا منہ قبلہ (بیت اللہ) کی جانب پھیر لیا۔“ (صحیح مسلم: 527)

[11] سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

بينا الناس بقباء في صلاة الصبح، إذ جاءهم آت، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أنزل عليه الليلة قرآن، وقد أمر أن يستقبل الكعبة، فاستقبلوها، وكانت وجوههم إلى الشام، فاستداروا إلى الكعبة.
”کچھ لوگ قبا بستی میں نماز فجر ادا کر رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن نازل ہوا ہے، جس میں تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا ہے، لہذا آپ بھی قبلہ رو ہو جائیں۔ اس وقت ان کے منہ شام کی جانب تھے، (یہ سن کر) وہ کعبہ کی طرف پھر گئے۔“ [صحیح البخاري: 403، صحیح مسلم: 526]

امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (316ھ) فرماتے ہیں:

هذا الحديث مما يحتج به في إثبات الخبر الواحد. ”یہ حدیث خبر واحد کی حجیت کی دلیل ہے۔“
[مستخرج أبي عوانة، تحت الحديث: 1168]

[12] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كان أبو طلحة وأبي بن كعب وسهيل بن بيضاء عند أبي طلحة يشربون من شراب تمر وبسر، أو قال: رطب وأنا أسقيهم من الشراب حتى كاد يأخذ منهم فمر رجل من المسلمين، فقال: ألا هل علمتم أن الخمر قد حرمت؟ فقالوا: يا أنس اكفئ ما في إنائك، وما قالوا: حتى نتبين، قال: فكفأته.
”ابو طلحہ کے پاس ابی بن کعب اور سہل بن بیضاء رطب اور خشک کھجور کی بنی شراب پی رہے تھے۔ میں ان کا ساقی تھا، ابھی وہ پینے ہی والے تھے کہ ایک مسلمان آدمی آیا اور کہا: خبردار! کیا تم جانتے ہو کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس! برتن میں موجود شراب انڈیل دو۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پہلے ہم تحقیق کریں گے۔ پھر میں نے وہ شراب انڈیل دی۔“ [سنن الدارقطني: 4305، وسندہ حسن]

ابو عبد اللہ عبید اللہ بن عبد الصمد بن مہتدی رحمہ اللہ (323ھ) فرماتے ہیں:

هذا يدل على أن خبر الواحد يوجب العمل. "یہ روایت دلیل ہے کہ خبر واحد پر عمل کرنا واجب ہے۔“
[سنن الدارقطني، تحت الحديث: 4305]

[13] سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

ترائی الناس الهلال، فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم، أني رأيته فصامه، وأمر الناس بصيامه.
”لوگوں نے ہلال دیکھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کا) روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی حکم دیا۔“ [سنن أبي داود: 2342، سنن الدارقطني: 2156، وسندہ صحیح]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ) نے ”صحیح“، امام حاکم رحمہ اللہ (322/1) نے امام مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔

حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:

قبوله في ذلك قوله وحده دليل على وجوب قبول أخبار الآحاد وأنه لا فرق بين أن يكون المخبر بذلك منفردا عن الناس وحده وبين أن يكون مع جماعة من الناس فلا يشاركه أصحابه في ذلك.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے کے معاملہ میں صرف ایک شخص کی بات کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اخبارِ آحاد پر عمل کرنا واجب ہے، نیز خبر دینے والا صرف ایک ہی شخص ہو یا لوگوں کی ایک جماعت خبر دے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ [معالم السنن: 102/2]