کیا سورۂ لقمان کی آیت لہو الحدیث سے احادیثِ نبوی مراد ہیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

تیسرا شبہ

حدیث گمراہی کا سبب ہے۔
اس شبہ کے اثبات کے لیے حافظ اسلم کہتے ہیں۔ تمھارے قرآن میں کتاب اللہ کے سوا حدیث پر ایمان لانے کا حکم نہیں ہے بلکہ ممانعت نکلتی ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ‎
”اور بعض آدمی ایسے ہیں جو حدیث کے مشغلہ کے خریدار بنتے ہیں تا کہ اللہ کی راہ سے بلاعلم (یقین کے) بھٹکا دیں اور اس کو مذاق بنا لیں۔“ (یہ ترجمہ بھی انھی کا ہے)
(31-لقمان:6)
✿ حافظ اسلم نے کہا ہے:
اس آیت میں حدیث کی تین صفتیں بیان کی گئی ہیں:
➊ اس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔
➋ اس کی بنیاد علم، یعنی یقین پر نہیں ہے۔
➌ اس سے لوگ اللہ کی راہ، یعنی دین کو مذاق بناتے ہیں۔

جواب:

اس آیت میں ”لهو الحديث“ فضول باتوں کے نقصانات بتائے گئے ہیں، حدیث کے نہیں۔ ”لهو الحديث“ اور حدیث میں تو کوئی نسبت ہی نہیں کیونکہ لفظ حدیث کا اطلاق تو قرآن پر بھی کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ
”اگر وہ بچے ہیں تو وہ بھی اس جیسی حدیث (قرآن) لے آئیں۔“
(52-الطور:34)
نیز فرمایا:
أَفَمِنْ هَٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ‎
”کیا تم اس حدیث (قرآن) پر تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو۔“
(53-النجم:59)
نیز فرمایا:
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ
”اور پھر اس کے بعد وہ کس حدیث (قرآن) پر ایمان لائیں گے۔“
(7-الأعراف:185) (77-المرسلات:50)
نیز فرمایا:
‏ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا
”کہیں یہ نہ ہو کہ اگر یہ اس حدیث، یعنی قرآن پر ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے افسوس کرتے کرتے اپنے تئیں ہلاک کر ڈالیں۔“
(18-الكهف:6)
نیز فرمایا:
‏ أَفَبِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ
”کیا تم اس حدیث (قرآن) سے منکر ہو۔“
(56-الواقعة:81)
نیز فرمایا:
فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ
”پس مجھے اس حدیث (قرآن) کو جھٹلانے والے سے نبٹ لینے دو۔“
(68-القلم:44)
مندرجہ بالا تمام آیات میں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے جبکہ ایک جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو بھی حدیث قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا:
وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا
”اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ سے ایک خفیہ حدیث (بات) کہی۔“
(66-التحريم:3)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو حدیث قرار دیا ہے۔
ہم حافظ اسلم سے پوچھ سکتے ہیں کہ ”لهو الحديث“ فضول باتوں اور لفظ حدیث میں اگر کوئی فرق نہیں تو پھر نعوذ باللہ تمھاری بیان کردہ حدیث کی تین صفتیں قرآن کریم میں بھی ماننی پڑیں گی۔ اور یہ صفتیں قرآن کے متعلق ماننے سے تمھارے کفر میں کوئی شک نہیں ہوگا۔
معلوم ہوا کہ مفسرین نے ”لهو الحديث“ کا مفہوم راگ، گانے اور رقص جو بیان کیا ہے وہ اس میں حق بجانب ہیں کیونکہ یہ چیزیں اللہ کی راہ سے روکنے کا سبب اور گمراہی کا ذریعہ ہیں، نیز راگ گانے کا فی الواقع علم و یقین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا علم و یقین کے ساتھ کامل تعلق ہے۔ ہم اس تعلق کو ان شاء اللہ ثابت کریں گے۔ اگر تمام احادیث، لہو الحدیث ہیں جیسا کہ حافظ اسلم نے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے تو پھر پرویز صاحب جن بعض احادیث کو مانتے ہیں وہ بھی اس زمرے میں شامل ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ منکرین حدیث میں سے حافظ اسلم کے سوا کسی نے بھی یہ ہرزہ نہیں کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لہو الحدیث اور گمراہی کا سبب ہیں۔ یہ کفریہ کلمہ حافظ اسلم کی امتیازی خصوصیت ہے۔