مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت اور احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مساجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟
”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں، جس کے ذریعے سے اللہ خطائیں معاف کر دیتا ہے اور اس کے ذریعے سے درجات بلند کرتا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إسباغ الوضوء على المكاره، وكثرة الخطا إلى المساجد، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط
”ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مساجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی رباط ہے، یہی رباط ہے۔“
مسلم، كتاب الطهارة، 251۔ ترمذى، كتاب الطهارة، 51۔
”رباط“ یعنی جہاد کا ثواب رکھتا ہے۔ اصل میں رباط کہتے ہیں جہاد کے لیے مستعد رہنے کو اور گھوڑے باندھنے کو۔ اور بعض نے کہا: رباط اس کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز باندھیں۔ اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ خصلتیں آدمی کو گناہ کی طرف جانے سے باندھ دیتی ہیں اور گناہ سے باز رکھتی ہیں۔ لغات الحدیث

مساجد کی طرف چلنے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تطهر فى بيته ثم مضى إلى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله، كانت خطوتاه إحداهما تحط خطيئة والأخرى ترفع درجة
”جو شخص اپنے گھر سے وضو کرے پھر اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے اللہ کے کسی گھر (مسجد) کی طرف جائے تو اس کے اقدام میں سے ایک قدم ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور دوسرا قدم ایک درجہ بڑھا دیتا ہے۔“
مسلم، كتاب الطهارة، 666/282۔
② سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بشر المشائين فى الظلم إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة
”اندھیروں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت دے دو۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة، 561۔ ترمذى، كتاب الصلوۃ، 223۔ روایت صحیح ہے ۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من غدا إلى المسجد أو راح، أعد الله له فى الجنة نزلا كلما غدا أو راح
”جو شخص صبح یا شام بار بار مسجد میں جائے تو اللہ جنت میں اس کی اس قدر مہمانی تیار کرے گا جس قدر وہ صبح و شام گیا ہوگا۔“
بخاري، كتاب الاذان، 662۔ مسلم، كتاب الصلوة، 669۔ مسند احمد، باقی مسند المكشرين، 509/2۔