دوسرا شبہ
کتابت حدیث کی ممانعت اور انھیں جلانے کو مختلف صحابہ کرام کی طرف منسوب کرنااس بارے میں ان کی
❀ پہلی دلیل: پرویز صاحب لکھتے ہیں کہ امام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سو احادیث کا ایک مجموعہ لکھا تھا، ایک رات اس کے متعلق نہایت متردد اور مضطرب تھے، آخر صبح کے وقت اسے لے کر آگ میں جلا دیا۔ ظاہر ہے کہ اس سے صحیح مجموعہ اور کون سا ہو سکتا تھا مگر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کا رکھنا بھی تقویٰ کے منافی سمجھا کہ شاید کوئی غلط روایت اس میں شامل ہو گئی ہو۔
مقام حدیثت ص: 91
جواب:
(1) اس واقعے کی سند صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں علی بن صالح مجہول الحال ہے۔
تقريب التهذيب : 696/1
محمد بن موسیٰ غیر ثقہ ہے۔
لسان الميزان: 394/5
اور موسیٰ بن عبد اللہ کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ”فيه نظر“ یہ محل نظر ہے کے الفاظ سے جرح کی ہے۔
لسان الميزان : 160/6
(2) بالفرض اگر یہ واقعہ ثابت بھی ہو، پھر احادیث نہ لکھنا یا لکھنے سے منع کرنا حجیت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ احادیث کی حفاظت یاد رکھنے کے ذریعے سے بھی ہوتی ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی یاد کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سینکڑوں روایات موجود ہیں۔
❀ دوسری دلیل: پرویز صاحب کا دعوی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ استخارہ کر کے کتابت حدیث سے باز رہے۔ لکھتا ہے: عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک بار خواہش ظاہر کی کہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھوا لیں، صحابہ سے مشورہ بھی کر لیا، پھر ایک مہینے تک اللہ تعالیٰ سے دعا اور استخارہ کرتے رہے۔ بالآخر اس ارادے سے باز رہے اور کہا کہ پہلی قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں کی حدیثیں لکھیں، پھر انھی پر جھک پڑیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو چھوڑ دیا۔
مقام حدیث ، ص : 92
تو اس کا جواب یہ ہے کہ
➊ یہ روایت بے سند ہے، اس کی سند ثابت کرنا پرویز صاحب کے ذمے ہے۔ جب تک سند ثابت نہ ہو تو استدلال کیسا؟
اس کے باوجود عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتابت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
”قيدوا العلم بالكتاب“
”علم (قرآن و حدیث) کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرو۔“
جامع بيان العلم : 72/1
اگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بالفرض درست مان بھی لیا جائے تو پھر اس کی توجیہ یہ ہے کہ ممکن ہے شروع میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھیوں نے مشورہ نہ دیا ہو اور انھوں نے اپنے اجتہاد سے احادیث نہ لکھی ہوں اور پھر انھوں نے احادیث لکھنے کی اجازت کے متعلق احادیث سن لی ہوں یا ان کے ساتھیوں نے انھیں احادیث لکھنے کا مشورہ دیا ہو تو انھوں نے اپنے اجتہاد سے رجوع کر لیا ہو اور احادیث لکھنے کا حکم دیا ہو۔
➋ احادیث لکھنے کی ممانعت حجیت حدیث کی نفی نہیں کرتی۔ محدثین نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے 539 احادیث نقل کی ہیں۔
❀ تیسری دلیل: پرویز نے لکھا ہے: ”فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جس طرح روایت حدیث کو روکنے میں سخت تھے اسی طرح کتابت حدیث میں بھی سخت تھے۔ ان کے عہد میں جب حدیثیں زیادہ ہو گئیں تو اعلان کر دیا کہ لوگ اپنی لکھی ہوئی حدیثیں ان کے پاس لائیں، پھر انھوں نے ان سب حدیثوں کو لے کر جلا دیا اور فرمایا کہ اہل کتاب کی طرح ”مثناة نبوی“ چاہتے ہو۔ (یہود نے اپنے انبیاء کی روایتیں جمع کر کے اس کا نام ”مثناة نبوی“ رکھا)“
جواب:
➊ یہ روایت ثابت نہیں، منقطع ہے، متصل نہیں۔ یہ روایت ان روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کتابت حدیث کے متعلق منقول ہیں۔
➋ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حدیث کی ایک کتاب لکھوائی تھی جو ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی۔
الموطأ، ص : 109
امام مالک رحمہ اللہ نے وہ کتاب خود پڑھی تھی۔ امام دار قطنی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس کتاب کی نقل کروا کر اس پر عمل کروایا تھا۔
سنن الدار قطني ، ص : 210
➌ مزید برآں اگر بالفرض عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جلانا ثابت بھی ہو، پھر بھی لکھی ہوئی احادیث کو جلانا اس کی عدم حجیت کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سینکڑوں احادیث روایت کی ہیں اور یہ حجیت حدیث کی دلیل ہے۔
❀ چوتھی دلیل: پرویز صاحب نے لکھا ہے: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ ہر اس شخص کو جس کے پاس حدیث لکھی ہوئی ہو عہد دلاتا ہوں کہ یہاں سے واپس جانے کے بعد اس کو مٹا ڈالے کیونکہ گذشتہ اقوام اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ انھوں نے اپنے علماء کی روایت کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو چھوڑ دیا۔“
مقام حدیث، ص: 92
جواب:
➊ منکرین حدیث یہ اور اس طرح کی دیگر روایات ”جامع بيان العلم“ کے باب ”كراهية كتابة العلم“ سے نقل کرتے ہیں اور وہ باب اس حوالے سے قابل اعتبار نہیں کیونکہ اس میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات بھی بیان کی گئی ہیں۔ خاص طور پر علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی سند میں جابر جعفی کذاب راوی ہے۔ اس کے مقابلے میں خود امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اس کتاب کے ”باب الرخصة فى كتابة العلم“ میں اس سے دگنی روایات کتابت حدیث کے حق میں بیان کی ہیں تو منکرین حدیث ان ابواب کی طرف کیوں نہیں دیکھتے۔
➋ حفاظت حدیث کے باب میں ہم نے لکھا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ نے عہد نبوی میں خود احادیث کا ایک صحیفہ لکھا تھا جس میں دیت، قصاص اور زکاۃ وصدقات کے بے شمار مسائل تھے۔ وہ صحیفہ ان کی زندگی کے آخری لمحات تک ان کے پاس رہا اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی تحویل میں چلا گیا۔
➌ علاوہ ازیں محدثین نے اپنی مسند کتابوں میں علی رضی اللہ عنہ کی 586 روایات بیان کی ہیں۔
➍ مزید برآں علی رضی اللہ عنہ نے بر سر منبر اعلان فرمایا تھا کہ کوئی ہے کہ وہ ایک درہم کا کاغذ خرید کر لے آئے تا کہ میں تمھیں احادیث لکھوا دوں۔ حارث اعور رحمہ اللہ جلدی سے کاغذ لے آئے تو آپ نے احادیث لکھ دیں۔
الطبقات الكبرى لابن سعد : 168/6
❀ پانچویں دلیل: پرویز صاحب نے لکھا ہے کہ ابو نضرہ نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جو احادیث ہم آپ کی زبان سے سنتے ہیں لکھ لیا کریں؟ فرمایا: تم ان کو مصحف بنانا چاہتے ہو؟
مقام حدیث ، ص : 93
جواب:
یہ بات درست ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جن سے امام مسلم رحمہ اللہ نے حدیث نہ لکھنے والی روایت نقل کی ہے، حدیث نہ لکھنے کے قائل تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے نزدیک حدیث حجت نہیں کیونکہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جیسے ہم نے زبانی احادیث یاد کی ہیں تم بھی ایسے ہی یاد کرو، چنانچہ انھوں نے اس کے آخر میں بھی یہی فرمایا ہے:
”خذوا عنا كما أخذنا عن رسول الله“
”ہم سے احادیث ویسے ہی حاصل کرو، جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی ہیں۔“
المستدرك للحاكم : 564/3
یعنی وہ احادیث یاد کرنے کی ترغیب دلاتے تھے اور محدثین نے ان سے 1170 احادیث نقل کی ہیں۔
❀ چھٹی دلیل: پرویز نے لکھا ہے: ”سنن ابو داود، کتاب العلم، حدیث: 3647 میں ہے کہ ایک بار زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتب وحی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ امیر موصوف نے ان سے ایک حدیث پوچھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی تو انھوں نے ایک شخص کو لکھنے کا حکم دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کو لے کر مٹا دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ آپ کی حدیثیں نہ لکھی جائیں۔
مقام حدیث، ص:91
مزید لکھا ہے: ”زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے کہ اس کو خلیفہ مروان نے بلایا وہاں انھوں نے کچھ لوگوں کو حدیثیں لکھتے ہوئے دیکھا، ان سے فرمایا ممکن ہے کہ روایت جس طرح تم سے بیان کی گئی ہو اس طرح نہ ہو۔“
مقام حدیث، ص : 93
اس کا بھی وہی جواب ہے جو پہلے دیا گیا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ انھی صحابہ میں سے تھے جو حدیث نہ لکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ زبانی یاد کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ ابتدائی دور کا واقعہ ہے اس کے بعد کتابت حدیث کے جواز و استحباب پر صحابہ کرام کا اجماع منعقد ہو گیا تھا۔
فتح الباري:204/1، تحت حديث: 111
مزید برآں محدثین نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی 92 احادیث متفرق کتابوں میں باسند بیان کی ہیں، چنانچہ ثابت ہوا کہ وہ بھی حدیث کو حجت تسلیم کرتے تھے لیکن وہ حفظ حدیث کو کتابت حدیث پر ترجیح دیتے تھے۔
❀ ساتویں دلیل: پرویز صاحب نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور امام اوزاعی رحمہ اللہ کی روایات بھی بیان کی ہیں کہ وہ بھی ممانعت کتابت حدیث کے قائل تھے۔
مقام حدیث ، ص : 94,93
اس کا بھی وہی جواب ہے جو پہلے گزر چکا ہے، نیز اس کے باوجود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے 848 اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 2660 احادیث منقول ہیں۔