بھینس کی قربانی کا حکم
سوال:
کیا بھینس کی قربانی جائز ہے؟ (ایک سائل)
الجواب:
اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ بھینس گائے کی ایک قسم ہے، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے۔
❀ امام ابن المنذر (متوفی 318ھ) فرماتے ہیں:
”وأجمعوا على أن حكم الجواميس حكم البقر“
اور اس بات پر اجماع ہے کہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔
(الاجماع، کتاب الزکاۃ ص 43 حوالہ: 91)
❀ ابن قدامہ (متوفی 620ھ) لکھتے ہیں:
”لا خلاف فى هذا نعلمه“
اس مسئلہ میں، ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں۔
(المغنی ج 2 ص 240 مسئلہ: 1711)
زکوۃ کے سلسلے میں، اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھینس گائے ہی کی ایک قسم ہے، تاہم چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے صراحتاً بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں، لہذا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ صرف اونٹ، گائے، بیل، بھیڑ اور بکری کی ہی قربانی کی جائے اور اسی میں احتیاط ہے۔ واللہ اعلم
(شہادت، مارچ 2001ء)
[فتاویٰ علمیہ 281/2]