سچے خواب نبوت کا جزو ہیں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رؤيا المؤمن جزء من ستة وعشرين جزءا من النبوة .
”مومن کے خواب نبوت کا چھبیسواں جزء ہیں۔“
(التمهيد لابن عبد البر : 282/1 وسنده حسن)
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو حسن الإسناد .
”اس کی سند حسن ہے۔“
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رؤيا المؤمن جزء من أربعين جزءا من النبوة .
”مومن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 10/4 ، 11 سنن الترمذي : 2278 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6049) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رؤيا المسلم جزء من خمس وأربعين جزءا من النبوة .
”مسلمان کا خواب نبوت کا پنتالیسواں جزو ہے۔“
(صحیح مسلم : 2263)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة .
”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے۔“
(صحيح البخاري : 6988 ، صحیح مسلم : 2263)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الرؤيا الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة .
”سچے خواب نبوت کا سترواں جزو ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2265)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا اقترب الزمان لم تكد تكذب، رؤيا المؤمن ورؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وما كان من النبوة فإنه لا يكذب .
”جب قیامت قریب ہوگی، تو مومنوں کو سچے خواب آئیں گے، مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزو ہوتا ہے اور جو نبوت کا جزو ہو، وہ جھوٹ نہیں ہوتا۔“
(صحيح البخاري : 7017 ، صحیح مسلم : 2263)
صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :
إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المسلم تكذب، وأصدقكم رؤيا أصدقكم حديثا .
”جب قیامت قریب ہوگی، تو مسلمان کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے، جو جتنا سچا ہوگا، اتنے اسے سچے خواب آئیں گے۔“
سچے خواب نبوت کا جزو ہونے کا مفہوم و معنی :
وحی غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ایک ذریعہ تھا، نبوت ختم ہونے سے وہ منقطع ہو چکا ہے، اب صرف سچے خواب باقی ہیں، اس سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ اب وحی کا نزول نہیں ہوگا، دوسری یہ کہ اب نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا، یعنی ظلی و بروزی نبوت وغیرہ کا اگر وجود تھا بھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد باقی نہیں رہا۔
نیک خواب نبوت کا جزو ہیں۔ اس بارے میں وارد احادیث باہم مختلف ہیں، علمائے امت نے ان احادیث کی تطبیق اور معنی و مفہوم کچھ اس طور بیان کیا ہے۔
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں :
اختلاف آثار هذا الباب فى عدد أجزاء الرؤيا من النبوة ليس ذلك عندي باختلاف تضاد وتدافع والله أعلم لأنه يحتمل أن تكون الرؤيا الصالحة من بعض من يراها على ستة وأربعين جزءا أو خمسة وأربعين جزءا أو أربعة وأربعين جزءا أو خمسين جزءا أو سبعين جزءا على حسب ما يكون الذى يراها من صدق الحديث وأداء الأمانة والدين المتين وحسن اليقين فعلى قدر اختلاف الناس فيما وصفنا تكون الرؤيا منهم على الأجزاء المختلفة العدد والله أعلم فمن خلصت له نيته فى عبادة ربه ويقينه وصدق حديثه كانت رؤياه أصدق وإلى النبوة أقرب .
”خواب کے اجزائے نبوت ہونے کی تعداد اگرچہ مختلف ہے، تاہم اس میں تضاد نہیں، واللہ اعلم ! کیوں کہ بعض خواب چھیالیسواں اور بعض پنتالیسواں بعض چوالیسواں اور بعض پچیسواں یا سترواں جزو ہو سکتے ہیں۔ یہ خواب دیکھنے والے کے حسب حال ہوتا ہے، وہ کتنا سچا، امانت دار، متدین اور عقیدے میں پختہ ہے۔ جیسی کسی کی کیفیت ہے، ویسا اس کے خواب کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم، جو خلوص نیت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، ایمان میں پختہ اور قول میں سچا ہو اس کے خواب زیادہ سچے اور نبوت کے زیادہ قریب ہیں۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد : 283/1)
حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) لکھتے ہیں :
ليس معنى الحديث أن النبوة تتجزأ ولا أن من جمع هذه الخلال كان فيه جزء من النبوة مكتسبة ولا مجتلبة بالأسباب، وإنما هي كرامة من الله سبحانه وخصوصية لمن أراد إكرامه بها من عباده والله يعلم حيث يجعل رسالاته وقد انقطعت النبوة بموت محمد صلى الله عليه وسلم وفيه وجه آخر وهو أن يكون معنى النبوة ههنا ما جاءت به النبوة ودعت إليه الأنبياء صلوات الله عليهم، يريد أن هذه الخلال جزء من خمسة وعشرين جزءا مما جاءت به النبوات ودعا إليه الأنبياء صلوات الله عليهم .
”حدیث کا یہ معنی نہیں کہ نبوت ٹکڑوں میں منقسم ہو جاتی ہے اور نہ ہی یہ مطلب ہے کہ جو ان خصائل کو جمع کر لے، اسے کسبی یا سببی نبوت حاصل ہو جائے گی۔ نبوت اللہ کی مرضی پر منحصر ہے، وہ جس پر چاہے کرم کر دے اور نبوت عطا کر دے، اللہ بخوبی جانتا ہے کہ کسے رسالت عطا کرنی ہے؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے ساتھ ہی نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ نبوت کا معنی نبوی تعلیمات اور انبیا کی دعوت سے بھی کیا جا سکتا ہے، تب اس حدیث کا معنی ہوگا کہ نیک خواب نبوت کی تعلیمات اور انبیائے کرام کی دعوت کے پچیس اجزا میں سے ایک جزو ہیں۔“
(معالم السنن : 107/4)
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) لکھتے ہیں :
إنه يجب أن نعلم ما معنى كون الرؤيا جزءا من أجزاء النبوة فلو كانت جزءا من ألف جزء منها لكان ذلك كثيرا فنقول وبالله التوفيق : إن لفظ النبوة مأخوذ من النبا والإنباء، وهو الإعلام فى اللغة والمعنى أن الرؤيا إنباء صادق من الله، لا كذب فيه كما أن معنى النبوة الإنباء الصادق من الله الذى لا يجوز عليه الكذب فتشابهت الرؤيا النبوة فى صدق الخبر عن الغيب .
”نبوت کا ہزارواں جزو ہونا بھی بہت بڑی بات ہے، تو آخر کیوں خواب کو نبوت کا جزو قرار دیا گیا، ضروری ہے کہ اس کے مفہوم کا ادراک کیا جائے، ملاحظہ کیجیے : نبوت کا لفظ خبر دینے سے ماخوذ ہے، معنی اس کا یہ ہے کہ خواب اللہ کی طرف سے سچی خبر ہے، اس میں جھوٹ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ نبوت اللہ کی طرف سے سچی خبر ہے، یہ جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں خواب کو نبوت سے تشبیہ دی گئی ہے اور وجہ شبہ خبر کی سچائی ہے۔“
(شرح صحيح البخاري : 517/9)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں :
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة، ولهذا الحديث وجهان : أحدهما : أن النبوة لما كانت تتضمن اطلاعا على أمور يظهر تحقيقها فيما بعد، وقع التشبيه لرؤيا المؤمن بها، والثاني : أنه لما كان جماعة من الأنبياء ثبتت نبوتهم بمجرد الوحي فى النوم، وجماعة أخرى ابتده وا بالوحي فى المنام ثم رقوا إلى الوحي واليقظة، حسن التشبيه، فإن قيل : فما وجه حصرها بسية وأربعين؟ فقد قال بعض العلماء : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بقي فى النبوة ثلاثا وعشرين سنة، أقام منها بمكة ثلاث عشرة سنة، وكان يوحى إليه فى منامه فى أول الأمر ستة أشهر وهى نصف سنة، فصارت هذه المدة جزءا من سية وأربعين جزءا من أيام نبوته وقد تواطأ على رواية هذا اللفظ جماعة من الصحابة، وأخرج فى الصحيحين عن عبادة، وأبي سعيد، وأبي هريرة، غير أنه قد روى مسلم من حديث ابن عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال الرؤيا الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة، فعلى هذا تكون رؤيا المؤمن مختلفة، فأدناها من سبعين جزءا وأعلاها من ستة وأربعين، وقال ابن جرير : فأما قوله : من سبعين، فعام فى كل رؤيا صالحة لكل مسلم، ب أى أحواله كان وعلى أى حال راها، وأما جزء من ستة وأربعين فحاله من يكون من أهل إسباغ الوضوء فى السبرات، والصبر على المكروهات، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، قال : وقد روي : جزء من خمسة وأربعين جزءا، وذلك لما بين ذلك من الأحوال .
”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے۔ اس حدیث کے دو معنی ہیں۔ نبوت میں ایسے امور کی خبر ہوتی ہے، جنہوں نے بعد میں وقوع پذیر ہونا ہوتا ہے، چنانچہ مومن کے خواب کو بھی اسی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تشبیہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض انبیا کی نبوت کا ثبوت یہ تھا کہ نیند میں ان کو اللہ کی طرف سے وحی ہوئی اور بعض انبیا کو نبوت سے پہلے سچے خواب آتے رہے، پھر انہیں حالت بیداری میں وحی ہونے لگی۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر چھیالیسواں جز کہنے کا کیا مقصد؟ بعض علما نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا عرصہ تئیس سال پر محیط ہے۔ تیرہ برس مکہ میں گزرے اور نبوت کے ابتداء میں چھ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب آتے رہے، تو یہ مدت نبوت کے تئیس برس کا چھیالیسواں حصہ بنتی ہے۔ یہ چھیالیسویں جز والی حدیث صحیحین میں صحابہ کرام کی ایک جماعت، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے۔ صحیح مسلم کی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خواب نبوت کا سترواں جز ہے۔ اس حدیث کے مطابق مومن کے خواب کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔ خواب کی ادنی کیفیت 70 واں جز اور اعلیٰ کیفیت چھیالیسواں جز ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ 70 واں جز عام ہے، یہ وہ خواب ہے، جو ہر مسلمان دیکھتا ہے، وہ کسی بھی حالت وکیف میں ہو۔ جب کہ چھیالیسواں جز ان لوگوں کے لئے ہے، جو سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرتے ہیں، مکروہات پر صبر کرتے ہیں اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی روایت ہوا کہ خواب پنتالیسواں جز ہے، اسے بھی مختلف احوال وکیف پر محمول کیجیے۔“
(کشف المشكل من حديث الصحيحين : 77/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
قال ابن الجوزي : لما كانت النبوة تتضمن اطلاعا على أمور يظهر تحقيقها فيما بعد، وقع تشبيه رؤيا المؤمن بها .
”ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبوت میں ایسے امور کی خبر ہوتی ہے، جنہوں نے بعد میں وقوع پذیر ہونا ہوتا ہے، مومن کے خواب کو بھی اسی سے تشبیہ دی گئی ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 367/12)
مزید لکھتے ہیں :
قال ابن التين : معنى الحديث أن الوحي ينقطع بموتي ولا يبقى ما يعلم منه ما سيكون إلا الرؤيا .
”بقول ابن تین رحمہ اللہ، اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ میری وفات کے ساتھ ہی وحی منقطع ہو جائے گی اور آئندہ کی خبریں صرف خواب کے ذریعے ہی بتائی جا سکیں گی۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 376/12)
نیز فرماتے ہیں :
الرؤيا الصادقة وإن كانت جزءا من النبوة فهي باعتبار صدقها لا غير وإلا لساع لصاحبها أن يسمى نبيا .
”سچے خواب کو نبوت کا جز کہنے کی وجہ مشابہت سچائی ہے، کوئی اور نہیں، وگر نہ تو سچا خواب دیکھنے والا نبی کہلاتا۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 20/1)
مزید لکھتے ہیں :
قوله : لم يبق من النبوة إلا المبشرات …. وظاهر الاستثناء مع ما تقدم من أن الرؤيا جزء من أجزاء النبوة أن الرؤيا نبوة وليس كذلك لما تقدم أن المراد تشبيه أمر الرؤيا بالنبوة أو لأن جزء الشيء لا يستلزم تبوت وصفه له كمن قال : أشهد أن لا إله إلا الله رافعا صوته لا يسمى مؤدنا ولا يقال : إنه أذن وإن كانت جزءا من الأذان وكذا لو قرأ شيئا من القرآن وهو قائم لا يسمى مصليا وإن كانت القراءة جزءا من الصلاة ويؤيده حديث أم كرز …. قالت : سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول : ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ، أخرجه أحمد وابن ماجة وصححه ابن خزيمة وابن حبان … ولابي يعلى من حديث أنس رفعه إن الرسالة والنبوة قد انقطعت ولا نبي ولا رسول بعدي ولكن بقيت المبشرات قالوا : وما المبشرات، قال : رؤيا المسلمين جزء من أجزاء النبوة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبوت سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں۔ یہاں استثنا کے ظاہری الفاظ سے اشتباہ ہوتا ہے کہ سچے خواب کو نبوت کہا گیا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ خواب کو نبوت کے ایک جز سے تشبیہ دی گئی ہے اور کسی چیز کے جز کے حصول سے اس چیز کا حصول لازم نہیں آتا، جیسے اگر کوئی بلند آواز سے لا اله الا الله کہے تو اسے موذن نہیں کہا جائے گا، حالاں کہ یہ کلمہ اذان کا ایک جز ہے۔ اسی طرح کوئی قرآن کی آیت پڑھے، تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے نماز پڑھی ہے۔ حالاں کہ قرآن کی آیت پڑھنا نماز کا جزو ہے۔ اس مفہوم کی تائید سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہوتی ہے، بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : نبوت ختم ہو چکی اور اب صرف مبشرات باقی ہیں، اس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، جب کہ امام ابن خزیمہ وامام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند ابی یعلی میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں، مبشرات البتہ باقی ہیں، صحابہ نے عرض کیا : مبشرات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : مسلمان کا خواب نبوت کا ایک جزو ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 375/12)
مزید فرماتے ہیں :
قال الخطابي : قيل : معناه أن الرؤيا تجيء على موافقة النبوة لا أنها جزء باق من النبوة، وقيل : المعنى أنها جزء من علم النبوة لأن النبوة وإن انقطعت فعلمها باق .
”حافظ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض کے مطابق خواب علم نبوت کی موافقت میں آتے ہیں، یہ نبوت کا جز نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ خواب علم نبوت کا ایک جز ہیں، کیوں کہ نبوت تو ختم ہو چکی لیکن اس کا علم باقی ہے۔“
(فتح الباري : 363/12)
حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) لکھتے ہیں :
اعلم أن الرؤيا إن كانت لنبي فهي وحي وإن كانت لغيره فليست وحيا، وأما قوله عليه الصلاة والسلام : إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة، فإنه سمى ما يقع لغير الأنبياء من الرؤيا مبشرات النبوة على طريق التشبيه فإنها ليست من النبوة لكنها تشبهها فى صورتها وصحتها .
”یاد رکھیے کہ نبی کا خواب وحی ہوتا ہے، غیر نبی کا خواب وحی نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ سچے خواب مبشرات نبوت سے ہیں، تو یہ تشبیہ ہے، خواب نبوت تو نہیں، لیکن اپنی صورت اور سچائی میں نبوت کے مشابہ ضرور ہیں۔“
(طرح التثريب : 183/4)
ابو زرعہ ابن عراقی رحمہ اللہ (826ھ) لکھتے ہیں :
لا يتخيل من هذا الحديث أن رؤيا الصالح جزء من أجزاء النبوة فإن الرؤيا إنما هي من أجزاء النبوة فى حق الأنبياء عليهم السلام وليست فى حق غيرهم من أجزاء النبوة ولا يمكن أن يحصل لغير الأنبياء جزء من النبوة وإنما المعنى أن الرؤيا الواقعة للصالح تشبه الرؤيا الواقعة للأنبياء التى هي فى حقهم جزء من أجزاء النبوة فأطلق أنها من أجزاء النبوة على طريق التشبيه، قال الخطابي : وإنما كانت من أجزاء النبوة فى الأنبياء صلوات الله عليهم دون غيرهم لان الأنبياء صلوات الله عليهم يوحى إليهم فى منامهم كما يوحى إليهم فى اليقظة، ثم قال : وقال بعض أهل العلم معناه أن الرؤيا تجيء على موافقة النبوة لا أنها جزء باق من النبوة، وقال آخر : معناه إنها جزء من أجزاء علم النبوة وعلم النبوة باق والنبوة غير باقية .
”اس سے یہ دلیل نہیں لی جاسکتی کہ سچے خواب نبوت کا کوئی جزو ہیں، انبیا کے حق میں تو یقیناً ایسا ہی ہے، لیکن سب کے لئے ایسا نہیں اور نہ یہ ممکن ہے کہ غیر نبی کو نبوت کا کوئی جز حاصل ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ نیک آدمی کے خواب انبیا کے خوابوں کے مشابہ ہوتے ہیں، تو یہاں تشبیہ بیان کی گئی ہے۔ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ خواب انبیا کے لئے تو نبوت کا جز ہوتے ہیں غیر انبیا کے لئے نہیں۔ انبیا کو نیند میں بھی اسی طرح وحی کی جاتی ہے جس طرح حالت بیداری میں کی جاتی ہے۔ اسی لئے بعض علما کہتے ہیں کہ خواب نبوت کی موافقت میں آتے ہیں، انہیں بذاتہ نبوت کا جز نہیں کہا جاسکتا۔ بعض علما نے کہا ہے کہ خواب علم نبوت کا جز ہیں اور نبوت کا علم باقی ہے، جبکہ نبوت باقی نہیں ہے۔“
(طرح التثريب : 214/8)
علامہ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) لکھتے ہیں :
المراد بقوله : إلا المبشرات ، يعني بعده، وكذا روى مفسرا : ليس يبقى بعدي من النبوة إلا المبشرات، يريد أن الوحي ينقطع بموته، فلا يبقى ما يعلم أنه سيكون إلا الرؤيا الصالحة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بعد نبوت باقی نہ رہے گی، البتہ سچے خواب باقی رہیں گے۔ مراد یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی ختم ہو جائے گی اور آئندہ کی باتیں جانے کا صرف ایک ذریعہ ہوگا، اچھے خواب۔“
(التوضيح شرح الجامع الصحيح : 147/32)
علامہ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) لکھتے ہیں :
معنى اقترب الزمان فيه أقوال : إذا دنا قيام الساعة، قال ابن بطال : معناه، والله أعلم إذا اقتربت الساعة، وقبض أكثر العلم، ودرست معالم الديانة بالهرج والفتنة، فكان الناس على فترة من الرسل يحتاجون إلى مدكر ومجدد لما درس من الدين، كما كانت الأمم قبلنا تذكر بالنبوة، فلما كان نبينا عليه أفضل الصلاة والسلام خاتم الرسل وما بعده من الزمان ما يشبه الفترة عقضوا بما منع من النبوة بعده بالرؤيا الصادقة التى هي جزء من كذا الآتية بالتبشير والإندار .
”میرے مطابق اقترب الزمان کا معنی قرب قیامت ہے۔ ابن بطال رحمہ اللہ اس کا معنی یہ بیان کرتے ہیں : جب قیامت قریب آجائے گی اور علم کا کثیر حصہ اٹھا لیا جائے گا، ہرج (قتل) اور فتنہ کی وجہ سے دیانت کے نشان مٹ جائیں گے، لوگ فترة (انقطاع وحی) کی کیفیت میں ہوں گے، جن کو ایک واعظ اور دین کے مٹائے ہوئے نشانات کو ایک مجدد کی ضرورت ہوگی، پہلی امتوں کی طرف ایک نبی بھیج دیا جاتا تھا لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور نبوت کے بعد قریب الفترة زمانے میں سچے خوابوں کا آپشن باقی رکھا گیا جو کہ بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے نبوت کا ایک جز ہیں۔“
(التوضيح شرح الجامع الصحيح : 204،203/32)