عقیدہ ختمِ نبوت : آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عقیدہ ختمِ نبوت : آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

ضروری ہے کہ رازدانان رموز شریعت اور عارفان علوم نبوت، صحابہ کرام کی آراء اور ان کا عقیدہ بیان کر دیا جائے، وہ لوگ جنہوں نے شریعت کا جام جہاں نما صاحب شریعت کے ہاتھوں سے لے کر غٹک لیا تھا، شریعت کی چاندی جن کے سراپوں میں اتر کر انہیں کافوری کر گئی تھی۔ وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست شاگرد رہے، رسول خدا نے انہیں اسلام کے چمن کا نگہبان نامزد کیا، انہیں تبلیغ شریعت کا چارج دیا گیا، یہ چارج اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اسلام کا ہر عقیدہ و عمل انہی ذی حشم ہستیوں سے لیا جائے گا، کسی دوسرے سے نہیں۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس بات کا کیا معنی اور کیا مفہوم ہے۔ ان کی آراء ملاحظہ ہوں :

◈ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ :

ختم نبوت کے حوالے سے نبوت کے ان وارثین نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں اور اس کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا تھا؟ اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا وہ فیصلہ پڑھ لیجئے، جو انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اس کے پیرووں کے متعلق کیا۔ مسیلمہ کی طرف فوج روانہ کی گئی، اس سے جنگ ہوئی اور بالآخر مسیلمہ کو قتل کر دیا گیا، جھوٹے مدعی نبوت کو قتل کرنے کا یہ فیصلہ صحابہ کے اجماع نے کیا تھا، کوئی صحابی اس فیصلے کی مخالفت کرتا نظر نہیں آیا، سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خرج مسيلمة الكذاب، قلت : لأخرجن إلى مسيلمة، لعلي أقتله فأكافئ به حمزة، قال : فخرجت مع الناس، فكان من أمره ما كان، قال : فإذا رجل قائم فى ثلمة جدار كأنه جمل أورق ثائر الرأس، قال : فرميته بحربتي، فأضعها بين ثدييه حتى خرجت من بين كتفيه، قال : ووثب إليه رجل من الأنصار فضربه بالسيف على هامته .
”مسیلمہ کذاب کے فتنہ نے زور پکڑا، تو میرے دل میں خیال آیا کہ مسیلمہ کو میں قتل کر دوں، تا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بوجھ میرے سر سے اتر جائے۔ میں اس سے جنگ کرنے والے لشکر میں شامل ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے، یہ خاکستری اونٹ کی طرح گندم گوں تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے۔ میں نے نیزہ اس کے سینے کے پار کر دیا، پھر ایک انصاری نے تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا۔“
(صحيح البخاري : 4072)
اس واقعہ پر تدبر کیجئے، تو سمجھ آتی ہے کہ ختم نبوت کے عقیدہ پر اختلاف کی گنجائش ہی موجود نہیں، چہ جائیکہ کسی نبی کی آمد کا امکان ہو۔
صحابہ کے مجموعی تعامل کے بعد بعض صحابہ کے اقوال بھی نقل کئے جاتے ہیں تا کہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

◈ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ :

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا :
يا أيها الناس ، ألا إنا إنما كنا نعرفكم إذ بين ظهرانينا النبى صلى الله عليه وسلم، وإذ ينزل الوحي، وإذ ينبئنا الله من أخباركم، ألا وإن النبى صلى الله عليه وسلم قد انطلق وقد انقطع الوحي .
”لوگو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہم آپ کی کیفیت جان لیتے تھے، کیوں کہ تب وحی نازل ہوتی تھی اور اللہ ہمیں آپ کی خبر دے دیا کرتا تھا۔ خبر دار! نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 41/1 وسنده حسن)
ایک دفعہ فرمایا :
إن أناسا كانوا يؤخذون بالوحي فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإن الوحي قد انقطع .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انسانوں کا مؤاخذہ بذریعہ وحی کیا جاتا تھا، مگر اب وحی منقطع ہو چکی ہے۔“
(صحيح البخاري : 2641)

◈ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا :
انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها، كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها، فلما انتهينا إليها بكت، فقالا لها : ما يبكيك؟ ما عند الله خير لرسوله صلى الله عليه وسلم، فقالت : ما أبكي أن لا أكون أعلم أن ما عند الله خير لرسوله صلى الله عليه وسلم، ولكن أبكي أن الوحي قد انقطع من السماء، فهيجتهما على البكاء، فجعلا يبكيان معها .
”ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس چلتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس جایا کرتے تھے، جب ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو وہ رونے لگیں : عرض کیا : روتی کیوں ہیں؟ اللہ کے ہاں جو ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے ، کہنے لگیں : جانتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ کے ہاں بہت بہتر ہے، روتی مگر اس لئے ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا، یہ سن کر سیدنا عمر اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہما کے دیدے بھی نم ہو گئے۔“
(صحیح مسلم : 2454)

◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء .
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(صحیح مسلم : 1394)

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لو بقي لكان نبيا ولكن لم يكن ليبقى لأن نبيكم صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء .
”ابراہیم اگر زندہ رہتے، تو نبی ہوتے لیکن انہیں زندہ رہنا ہی نہیں تھا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر الزمان پیغمبر ہیں۔“
(تاریخ ابن عساكر : 135/3 وسنده حسن)

◈ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ:

اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا :
رأيت إبراهيم بن النبى صلى الله عليه وسلم، قال : مات صغيرا، ولو قضي أن يكون بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبي عاش ابنه، ولكن لا نبي بعده .
”کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ فرمایا : وہ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش ہوتی، تو آپ کا وہ صاحبزادہ زندہ رہتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(صحيح البخاري : 6194 ، سنن ابن ماجه : 1510 ، المعجم الأوسط للطبراني : 6638 ، تاریخ ابن عساکر 1353)

◈ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:

آپ فرمایا کرتے تھے:
”درود میں اچھے الفاظ کا انتخاب کریں، کیا معلوم وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے۔ لوگوں نے کہا: آپ ہمیں وہ الفاظ سکھا دیجیے۔ فرمایا: تو پڑھیں:“
اللهم اجعل صلاتك، ورحمتك، وبركاتك على سيد المرسلين، وإمام المتقين، وخاتم النبيين، محمد عبدك ورسولك، إمام الخير، وقائد الخير، ورسول الرحمة، اللهم ابعثه مقاما محمودا، يغبطه به الأولون والآخرون، اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد .
”اے اللہ! تو سید المرسلین، امام المتقین اور خاتم النبیین، جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرما، جو تیرے بندے، رسول، امام الخیر، قائد الخیر اور رسول رحمت ہیں۔ یا اللہ! انہیں مقام محمود پر فائز فرما، جس پر اولین و آخرین رشک کریں۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر اس طرح رحمت فرما، جس طرح ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر فرمائی تھی، بلاشبہ تو ہی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کو اس طرح برکت دے، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو برکت دی، بلاشبہ تو ہی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔“
(سنن ابن ماجه : 906 ، المعجم الكبير للطبراني : 115/9 ، مسند الشاشي : 611 ، الدعوات الكبير للبيهقي : 177 وسنده صحيح)

◈ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ :

سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا :
إنها لم تكن نبوة قط إلا تناسخت
”سلسلہ نبوت اب ختم ہو چکا ہے۔“
(صحیح مسلم : 2967)