کھانا کھانے کے بعد ہاتھ (انگلیاں) چاٹنے کے احکامات
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أكل أحدكم طعاما فلا يمسح يده حتىٰ يلعقها أو يلعقها
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ صاف نہ کرے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے“۔
بخاري، كتاب الاشربة 5645۔ مسلم، كتاب الاشربة 2031۔ ابو داؤد، کتاب الأطعمة 3847۔
کھانے کے عیب نکالنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کھانے میں عیب نہیں نکالا۔ اگر آپ کو کوئی چیز مرغوب ہوتی تو اسے کھا لیتے اور اگر وہ چیز ناپسند ہوتی تو اسے ترک کر دیتے۔
بخاری، کتاب الاطعمة 5409۔ مسلم، كتاب الاشربة 188 / 2064۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے میں عیب نکالتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، اگر وہ چیز آپ کو پسند ہوتی تو اسے کھا لیتے اور اگر اسے ناپسند کرتے تو خاموش ہو جاتے۔
مسلم، كتاب الأشربة 188 / 2064۔
زیادہ کھانے کی ممانعت
① نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ وہ ایک مسکین کو بلاتے اور اس کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ ایک دن میں نے ایک آدمی کو آپ کے پاس بھیجا، وہ آپ کے ساتھ کھاتا رہا، پس اس نے زیادہ کھا لیا، تو انہوں نے کہا: نافع! اسے دوبارہ میرے پاس نہ بھیجنا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
المؤمن يأكل فى معى واحد ، والكافر يأكل فى سبعة أمعاء
”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے“۔
بخاری، کتاب الاطعمة 5393۔ مسلم، كتاب الاشربة 2060/182۔
اس حدیث میں تمثیل بیان کی گئی ہے کہ مومن دنیا کی تھوڑی سی چیزیں ملنے پر بھی راضی ہوتا ہے، جبکہ کافر زیادہ کی حرص رکھتا ہے۔