كتاب الأشربة
شراب کو ضائع کرنا
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یتیموں کو وراثت میں ملنے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أهرقها ”اسے بہا دو“۔
انہوں نے پوچھا: ”کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں؟“ فرمایا:
لا ”نہیں“۔
ابوداؤد، كتاب الاشربة، حديث 3675۔
② سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی، جب سورہ مائدہ نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ یتیم کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أهرقوه ”اسے بہا دو“۔
الترمذى، كتاب البيوع، حديث 1263۔
پانی پینے کے آداب
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی پیتے تو تین سانس لیتے تھے۔
بخاری 5631۔ مسلم 122/2028۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی پیتے تو تین سانس لیتے تھے اور فرماتے:
إنه أروىٰ وأبرأ وأمرأ
”اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی، زیادہ بہتری اور زیادہ پڑھو تری ہے“۔
مسلم، كتاب الاشربة 123/2028۔
برتن کو ڈھانپنا
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أغطوا الإناء وأوكوا السقاء فإن فى السنة ليلة ينزل فيها وباء لا يمر بإناء ليس عليه غطاء أو سقاء ليس عليه وكاء إلا نزل فيه من ذٰلك الوباء
”برتن کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکیزے کو باندھ کر رکھو، کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ جب وہ کسی ایسے برتن کے پاس سے گزرتی ہے جس پر ڈھکنا نہ ہو، یا ایسے مشکیزے کے پاس سے جو بندھا ہوا نہ ہو، تو وہ وبا اس میں داخل ہو جاتی ہے“۔
مسلم، كتاب الاشربة 99/2014۔
② سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، لیکن وہ ڈھانپا ہوا نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا خمرته ولو تعرض عليه عودا
”آپ اسے ڈھانپ ہی لیتے، خواہ تم عرضاً کوئی لکڑی رکھ لیتے“۔
مسلم، كتاب الاشربة 93/2010۔