دور حاضر میں حلال و حرام کے تقاضے
صحیح اسلامی عقیدہ کسی بھی معاشرہ کی اساس ہوتا ہے اور توحید اس عقیدہ کا جوہر اور پورے دین کی روح ہوتی ہے۔ صحیح عقیدہ اور توحید خالص کا تحفظ وہ اولین مقصد ہے جس کو اسلام نے اپنی تشریح و تعلیم میں ہر جگہ پیش نظر رکھا ہے۔ ساتھ ہی ان جاہلی عقائد و بدعات کی مخالفت بھی ضروری ہے جن کو بت پرستوں نے رائج کر رکھا ہے تاکہ مسلم معاشرہ کو شرک کی آلائشوں اور گمراہی کے اثرات سے پاک رکھا جاسکے۔
سنن الہی کا احترام
اولین عقیدہ جس کو اسلام اپنے فرزندوں کے دلوں میں راسخ کرتا ہے یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کا نظام جس کی زمین کے اوپر اور جس کے آسمان کے نیچے انسان زندگی بسر کرتا ہے کوئی اٹکل پچو کی چیز نہیں ہے جو بغیر رہنمائی کے چل رہا ہو اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی مخلوق کی خواہش کے مطابق چلے کیونکہ خواہشات باہم متناقض ہوتی ہیں :
وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ
اگر حق اُن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور جو ان میں ہیں، سب درہم برہم ہو جاتے۔
سورہ المؤمنون : 71
امر واقع یوں ہے کہ یہ کائنات قوانین قدرت اور سنن الہی سے مربوط و منسلک ہے جن میں کسی قسم کا تغیر و تبدل ممکن نہیں جیسا کہ قرآن نے متعدد مقامات پر واضح کیا ہے :
وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا
”تم اللہ کی سنت طریقہ میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“
سورہ الفاطر : 43
کتاب وسنت کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان ان سنتوں کا احترام کریں اور اسباب کے ذریعہ نتائج کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسباب کو نتائج کے ساتھ مربوط کر رکھا ہے۔ اور ان مزعومہ خفیہ اسباب کی طرف مطلق توجہ نہ کریں جن کو عبادت گاہوں کے مجاور پیشہ ورانہ مکر و فریب اور مذہب کی دوکان چلانے والے مقصد براری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
اوہام و خرافات کے خلاف جنگ
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو سوسائٹی میں فریب کاروں شعبدہ بازوں کا ایک گروہ موجود تھا جنہیں کاہن یا نجومی کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ غیب کی سابقہ یا آئندہ ہونے والی باتیں جنات کے ذریعہ جاننے کا دعوی کرتے تھے۔ اس دجل و فریب کے خلاف جس کو علم و ہدایت اور کتاب الہی سے کوئی واسطہ نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان جنگ کیا اور ان فریب کاروں کو اللہ کا کلام سنایا :
قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ
”کہو اللہ کے سوا زمین اور آسمانوں میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔“
سورہ النمل : 65
در حقیقت غیب کا علم نہ فرشتے رکھتے ہیں، نہ جن اور نہ انسان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا یہ فرمان سنایا :
وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
”اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بڑے فوائد جمع کر لیتا اور مجھے کوئی گزند نہ پہنچتا۔ میں تو بس خبردار کرنے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔“
سورہ الاعراف : 188
اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے جنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا :
أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
”اگر وہ غیب کے جانے والے ہوتے تو اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔“
سورہ سبأ : 14
لہذا جو شخص اس بات کا دعویدار ہو کہ حقیقتاً اسے غیب کا علم ہے وہ اللہ تعالیٰ کو، لوگوں کو اور حقیقت میں خود کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو خیال کر رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی علم غیب کے دعویدار ہوں گے اس لیے ان لوگوں نے اپنے ہاتھ میں کوئی چیز چھپائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : بتلائیے، ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور سے فرمایا : میں کاہن نہیں ہوں کاہن، کہانت اور کہانت کرنے والے سب آگ میں ہوں گے۔
أخرجه أبو نعيم في دلائل النبوة ح : 781، 190 كما في الدر المنثور : 776 وزاد السيوطى و السلفى فى الطيوريات وقال فى 5-334 الحكيم الترمذى 4211 بدون السند عن ابن عباس ولفظه انما يفعل هذا بالكاهن والكهانة ولتكن في النار و في اسناده ابی نعیم الحکم بن ظهير هو متروك رمي بالرفض والتهمه ابن معين التقريب ص : 79
کاہنوں کی تصدیق کرنا کفر ہے
اسلام نے کاہنوں اور دجالوں کی مخالفت ہی نہیں کی، بلکہ ان لوگوں کو بھی برابر گناہ میں شریک ٹھہرایا جو ان کے پاس جا کر سوالات کرتے اور ان کے اوہام اور گمراہ کن باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
من أتى عرافا فسأله عن شيء فصدقه بما قال لم تقبل له صلاة أربعين يوما
”جو شخص نجومی کے پاس گیا اور سوالات کئے، پھر اس کی باتوں کی تصدیق کی اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوگی۔“
مسلم کتاب السلام باب تحريم الكهانة واتيان الكهان ح : 2230
نیز فرمایا :
من أتى كاهنا فصدقه بما قال فقد كفر بما أنزل على محمد
”جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ ہدایت سے کفر کیا۔“
مسند البزار كشف : 3045 ونحوه في مسند احمد : 429/2 – ابو داود : 3904 ترمذی : 135 ابن ماجه : 639
کفر اس وجہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہدایت نازل کی گئی ہے کہ غیب اللہ وحدہ ہی کے لیے ہے حتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کا علم نہیں ہے مگر جو بذریعہ وحی بتا دیا جائے اور کسی اور کو تو بدرجہ اولیٰ نہیں ہے۔
قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ
”کہو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ ہی تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر کی جاتی ہے۔“
سورہ الانعام : 50
قرآن کی اس صریح اور واضح ترین حقیقت کو جاننے کے باوجود اگر ایک مسلمان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ، نعوذ باللہ بعض لوگ پردہ غیب کو ہٹا کر تقدیر کو براہ راست دیکھ سکتے ہیں اور غیب کے راز ہائے سربستہ معلوم کر سکتے ہیں تو وہ اس ہدایت کے ساتھ کفر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے۔