اللہ ہی کافی ہے
اس آیت کریمہ میں ”کافی ہے“ کے لیے ”ورسوله“ نہیں کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مومنین کے لیے کافی و شافی ہے۔ جیسے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
”اے نبی! تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے۔“
(8-الأنفال:64)
مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ اور سب مومنین کے لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٩٤﴾ أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ﴿١٩٥﴾إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿١٩٦﴾
”اے نبی! ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں (معبودوں) کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کر لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو۔ میرا حامی و ناصر وہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔“
(7-الأعراف:194-196)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صالحین کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
هم الذين لا يعدلون بالله فيتولاهم وينصرهم ولا تضرهم عداوة من عاداهم
”یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے، پس وہ ان کو اپنا دوست بناتا اور ان کی مدد فرماتا ہے اور انہیں کسی کی عداوت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“
ارشاد الہی ملاحظہ فرمائیے:
إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
”یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“
(40-غافر:51)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں:
سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ
”عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے عطا کرے گا اور اس کا رسول بھی، ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔“
(9-التوبة:59)
بعض لوگ اس آیت کریمہ سے رسول اللہ کا مختار كل ہونا نکالتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مختار كل اللہ کی ذات ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ کو غنیمت کے مال وغیرہ سے اسباب عطا کرتا ہے اور آپ وہ غنائم وغیرہ اپنے اصحاب میں تقسیم کر دیتے تھے۔ سورہ توبہ سے بھی آپ کے مختار کل ہونے کی نفی ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
اور ان لوگوں کے لیے بھی گناہ کی کوئی بات نہیں جو آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام کریں تو آپ نے کہہ دیا: ”میرے پاس تمہارے لیے کوئی سواری نہیں۔“(9-التوبة:92)
احمد رضا خان نے ترجمہ یہ کیا ہے:
”نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ، تم سے یہ جواب پائیں: میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں۔“
پھر مراد آبادی صاحب نے تفسیر یوں کی ہے:
”شانِ نزول: اصحابِ رسول میں سے چند حضرات جہاد میں جانے کے لیے حاضر ہوئے، انہوں نے حضور سے سواری کی درخواست کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں، جس پر میں تمہیں سوار کروں، تو وہ روتے ہوئے واپس ہوئے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ص 300 مطبوعہ چاند کمپنی لاہور)۔“
اسی طرح صحیح بخاری، كتاب الزكاة: باب الاستعفاف عن المسألة (رقم 1369) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہ انصاری لوگوں نے رسول اللہ سے سوال کیا، آپ نے ان کو دے دیا۔ پھر مانگا، آپ نے پھر انہیں دے دیا، پھر انہوں نے سوال کیا، آپ نے پھر دے دیا۔ یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا ختم ہو گیا۔ اس صحیح حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ آپ مختار کل نہیں کیونکہ اللہ کے دیے ہوئے مال کو تقسیم کیا اور وہ ختم ہو گیا، جو اللہ کے ہاں ہے وہ ختم نہیں ہوتا۔ ارشاد ہے:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ(16-النحل:96)
معلوم ہوا کہ مختار کل کے خزانوں میں کمی نہیں ہوتی۔ اسی طرح بعض لوگ:
انما انا قاسم والله يعطى (بخاري كتاب العلم)
سے بھی آپ کا مختار کل ہونا بیان کرتے ہیں۔
صحیح بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق علم اور غنائم و خمس وغیرہ کی تقسیم سے ہے۔
اللہ نے جو آپ کو شریعت کا علم دیا وہ آپ اپنی امت کو آگے سکھاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:اويغلمكم مالم تكونوا تعلمون ”یا جہاد میں غنیمتیں حاصل ہوتیں۔ مالِ فے اور خمس آتے تو آپ غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیتے تھے۔“ واللہ اعلم (مبشر احمد ربانی)
چنانچہ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اللہ ہی سے رغبت رکھیں۔ ارشاد الہی ہے:
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ﴿٧﴾ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب ﴿٨﴾
”جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو۔“
(94-الشرح:7-8)