اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ اعمال قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ و ناپسندیدہ کام

اللہ تعالیٰ دین میں اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:

[شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ]

اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔ [الشوری:13]

اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ کاموں اور پسندیدہ کاموں کے لیے دیکھیے:

[البقرۃ:6تا20، 165تا167، 219]،[الانعام:151، 152]،[الاعراف:33]،[المدثر:42، 48]،[لقمان:6، 33]،[الحاقہ:33، 34تا48]،[الفجر:17تا20]،[سورۃ الماعون:مکمل]

 ان کی مکمل فہرست قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل ہے:

ناپسندیدہ کام:

[1] اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔

[2] سحر (یعنی) جادو۔

[3] اللہ نے جو حکم نازل کیا اس کے خلاف فیصلہ کرنا اور شریعت الہیہ کے خلاف چلنا۔

[4] کافر و مشرک یہودیوں، عیسائیوں اور ملحدوں سے دوستی کرنا اور جو لوگ اللہ کی پرستش کے ساتھ ساتھ نبیوں اور صالحین کی پرستش کر کے شرک کرتے ہیں ان کی ہم نوائی کرنا۔

[5] بدفالی اور بدشگونی لینا شرک ہے۔

[6] قبر کو سجدہ گاہ بنانا۔

[7] ان پر چراغ جلانا۔

[8] اللہ کو چھوڑ کر مزاروں کو بت بنا کر انہیں پکڑے رہنا۔

[9] ان کے گرد پھیرے لگانا۔

[10] ان کو چومنا چاٹنا۔

[11]ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا۔

[12] غیراللہ کی قسم کھانا۔

[13] جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا۔

[14] بلا عذر نماز کو وقت سے ٹال کر پڑھنا۔

[15] بلا عذر جمعہ کی نماز ترک کر دینا۔

[16] زکوٰۃ روک لینا۔

[17] ماہ رمضان میں روزے ترک کرنا۔

[18] قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرنا۔

[19] مقابلہ کے دن دشمن کے سامنے سے راہ فرار اختیار کرنا۔

[20] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرنا۔

[21] ترک سنت اور اس پر مصر رہنا۔

[22] بدعت، ماتم، عرس، میلاد۔

[23] پیشاب کے وقت پردہ نہ کرنا اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا۔

[24] جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا اس کو ناحق قتل کرنا۔

[25] خودکشی کرنا۔

[26] قتل کرنا اور اس سے زیادہ بدترین گناہ نسل کشی ہے۔

[27] زنا کاری اور بدترین زنا کاری اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا ہے۔

[28] اغلام بازی۔

[29] نشہ آور چیزوں کا استعمال، شراب اور جملہ مسکرات کے حرام ہونے کی حکمت۔

[30] قمار یعنی جوا بازی۔

[31] ایماندار، بھولی بھالی، پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانا۔

[32] چوری کرنا۔

[33] جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔

[34] حرام کھانا۔

[35] سود خوری۔

[36] یتیم کا مال کھانا۔

[37] مزدوری نہ دینا۔

[38] ورثاء کو ستانا۔

[39] سودا سلف میں دھوکا دہی۔

[40] ناپ تول اور پیمائش میں کمی کرنا۔

[41] ظلم و ستم کرنا۔

[42] رشوت کا لین دین کرنا۔

[43] رشوت لینے اور دینے والے کے درمیان دوڑ دھوپ کرنا۔

[44] جھوٹی گواہی دینا۔

[45] والدین کی نافرمانی کرنا۔

[46] والدین کو گالی دینا، والدین کے ساتھ نیکی نہ کرنا۔

[47] رسول اللہﷺ یا آپ کی آل یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی کی تصویر کشی کرنا، آلِ رسولﷺ کی زندگی کا فلمانا یا اسٹیج کرنا۔

[48] کسی جاندار جیسے انسان، چرند، پرند وغیرہ کی تصویر بنانا اور انہیں گھروں یا دکانوں میں لٹکانا۔

[49] امانت میں خیانت۔

[50] نقصِ عہد، لڑائی جھگڑا اور فسق و فجور۔

[51] بات چیت میں جھوٹ بولنا۔

[52] غداری اور وعدہ خلافی کرنا۔

[53] لڑائی جھگڑے میں جھوٹ بولنا۔

[54] مذاق اور ٹھٹھا کرنا۔

[55] عیب جوئی کرنا، طعن کرنا، غیبت کرنا۔

[56] چغل خوری کرنا۔

[57] غرور اور تکبر کرنا۔

[58] پڑوسی کو ستانا۔

[59] مسلمان کو گالی دینا۔

[60] اس کی عزت و آبرو میں دست درازی کرنا۔

[61] اپنے والدین کو خود تو گالی نہ دینا لیکن اس کا سبب بننا کہ کوئی دوسرا اس کے والدین کو گالی دے۔

[62] مسلمان کو لعن طعن کرنا۔

[63] دو رخا ہونا۔

[64] علم کا چھپانا۔

[65] قطع رحمی کرنا۔

[66] اپنے ماں باپ یا قبیلہ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرنا۔

[67] کافروں کی پیروی کرنا۔

[68] مردوں کا عورتوں اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا۔

[69] عورتوں کا بے پردہ اور بن سنور کر نکلنا۔

[70] شرعی نکاح کی بجائے زنا اور فحش کاری کا رجحان۔

[71] خاندانی اور عائلی نظام میں بگاڑ اور طلاق کا عام ہونا۔

[72] فحش کاری اور شہوت رانی کا پھیل جانا۔

[73] نوع انسانی کی نسل کشی۔

[74] بالوں کو جوڑنا۔

[75] جسموں کو گودنا۔

[76] دانتوں کو الگ الگ کرنا۔

[77] حسین بننے کے لیے بھوؤں کو نوچنا۔

[78] اجنبی عورت کو شہوت کے ساتھ دیکھنا۔

[79] اجنبیہ کے ساتھ خلوت کرنا، اس کو چھونا۔

[80] نگاہ نیچی رکھنے کے فوائد اور نظر بازی کے مفاسد۔

[81] شوہر کے خلاف بیوی کو بھڑکانا۔

اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کام:

اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کام مندرجہ ذیل ہیں، سورۂ بقرہ کی کچھ آیات میں درج ذیل باتوں پر زور دیا گیا ہے:

[1] غیب کی باتوں (اللہ تعالیٰ کی ذات، وحی، عذاب قبر اور جملہ امور آخرت) پر ایمان لانا۔

[2] نماز پڑھنا۔

[3] اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔

[4] وحی پر ایمان لانا۔

[5] آخرت پر یقین رکھنا۔

[6] اللہ، یوم آخرت، فرشتوں، اللہ کی کتابوں اور نبیوں پر ایمان لانا، وعدہ پورا کرنا۔

[7] صبر کرنا۔

[8] [سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا](ہم نے سنا، ہم نے مانا) کا رویہ اختیار کرنا۔

[9] تقویٰ اختیار کرنا۔

[10] ایمان لانا اور اللہ سے گناہوں کی معافی مانگنا۔

آل عمران کی (15تا18، 134تا136) آیات میں درج ذیل احکامات کا ذکر ہے:

[11] صبر کرنا، سچ بولنا، فرماں برداری کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور پچھلی رات کو اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگنا اور اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا۔

[12] تنگی اور فراخی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، غصہ کو پی جانا، لوگوں کو معاف کر دینا، لوگوں پر احسان کرنا، اگر گناہ کر بیٹھے تو استغفار کرنا۔

[13] صرف اللہ کی عبادت کرنا، شرک نہ کرنا، ماں باپ، رشتہ داروں، یتیموں، ہمسایوں، مسافروں، لونڈیوں اور غلاموں سے اچھا سلوک کرنا۔

[14] سچی گواہی دینا، خواہ کسی کے بھی خلاف ہو، عدل کرنا۔

[15] اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنا۔

[16] اللہ سے ڈرنا، اللہ پر توکل کرنا۔

[17] نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا۔

[18] اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، توبہ کرنا، اللہ کی عبادت کرنا، اللہ کی حمد بیان کرنا، رکوع و سجود کرنا، نیکی کا حکم کرنا، برائی سے منع کرنا، اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنا (ایسے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے)۔

[19] اللہ تعالیٰ کی وحی کو حق جاننا، برے حساب سے ڈرنا، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، ایمان لانا اور نیک عمل کرنا، اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا، اس پر توکل کرنا، اس کے آگے توبہ کرنا۔ اسی طرح مندرجہ ذیل مقامات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کردہ اس کے پسندیدہ کاموں کا قرآن مجید سے مطالعہ کرنا چاہیے اور اس کے مطابق عقیدہ رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

حوالہ جات کے لیے دیکھیے:

[سورۃ ابراہیم:31]،[سورۃ النحل:41، 42، 91تا100، 151تا153]،[سورۃ بنی اسرائیل:17تا34]،[سورۃ الشعراء:30]،[سورۃ المؤمنون:1تا11، 57تا61]،[سورۃ النور:37، 38]،[سورۃ الفرقان:63تا76]