اکٹھے کھانا کھانے کے متعلق احکامات
① سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی:
”اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلعلكم تفترقون؟
”شاید کہ تم الگ الگ کھاتے ہو؟“
انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فاجتمعوا علىٰ طعامكم واذكروا اسم الله يبارك لكم فيه
”اجتماعی طور پر مل کر کھانا کھاؤ، اللہ کا نام لو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔
ابوداؤد، کتاب الاطعمة 3764۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
پلیٹ کے کناروں سے کھانے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البركة تنزل وسط الطعام فكلوا من حافته ولا تأكلوا من وسطه
”برکت کھانے کے وسط میں نازل ہوتی ہے، اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے وسط میں سے نہ کھاؤ“۔
ابو داؤد، کتاب الاطعمة 3772۔ ترمذی، كتاب الأطعمة 1805۔
② سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں چھوٹا بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھا، اور میرا ہاتھ پلیٹ کی ہر سمت حرکت کرتا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
يا غلام سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك
”اے بچے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے سامنے سے کھاؤ“۔
بخاری، کتاب الاطعمة 5376 ، 5378۔ مسلم، کتاب الأطعمة 2022۔ ابوداؤد، کتاب الاطعمة 3777۔
ضیافت کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تو میرے دونوں کانوں نے اسے سنا، میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی تکریم کرے اور اس کی خوب خاطر مدارات کرے“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس کی خاطر مدارات کب تک کرنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يوم وليلة ، والصيافة ثلاثة أيام فما كان وراء ذٰلك فهو صدقة
”ایک رات اور دن، جبکہ ضیافت تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو تو وہ صدقہ ہے“۔
بخاری، کتاب الادب 6109۔ مسلم، کتاب الایمان 3 / 1352، 1353۔ ابو داؤد، کتاب الأطعمة 3848۔
② سیدنا ابو کریمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليلة الضيف واجبة علىٰ كل مسلم فمن أصبح بفنائه فهو عليه دين ، إن شاء اقتضىٰ وإن شاء ترك
”مہمان کی رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، پس جو شخص اس کے گھر میں صبح کرے تو وہ اس پر قرض ہے، اگر وہ (مہمان) چاہے تو تقاضا کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے“۔
ابوداؤد، كتاب الأطعمة 3750۔ ابن ماجه، كتاب الادب 3677۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں کسی آدمی کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ مجھے ٹھہراتا ہے نہ میری ضیافت کرتا ہے۔ پھر وہ میرے پاس سے گزرتا ہے تو کیا میں اسے ٹھہراؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ، أقره
” اسے نہ ٹھہراؤ“۔
وہ بیان کرتے ہیں، آپ نے مجھے بوسیدہ لباس میں دیکھا تو فرمایا:
هل لك من مال؟
”کیا تیرے پاس مال ہے؟“
میں نے عرض کیا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے، میرے پاس اونٹ بھی ہیں اور بکریاں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلير عليك
”تو پھر ان کا اثر تجھ پر ظاہر ہونا چاہئے“۔
ترمذى، كتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2006۔ مسند احمد، مسند المكيين 473/3۔ روایت صحیح ہے۔