صفوں کی اصلاح کے متعلق احکامات
① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا:
أقيموا صفوفكم ثلاثا ، والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم
”اپنی صفوں کی اصلاح کرو۔ تین بار فرمایا۔ اللہ کی قسم! تم اپنی صفیں درست کر لو یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے مابین تفریق پیدا کر دے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 662۔ روایت صحیح ہے۔ ابن حبان 2173، احسان۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقيموا الصفوف و حاذوا بين المناكب و سدوا الخلل ، ولينوا بأيدي إخوانكم ، ولا تذروا فرجات للشيطان ، ومن وصل صفا وصله الله ، ومن قطعه قطعه الله
”صفیں درست کرو، کندھے ملاؤ، شگاف پر کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے شگاف نہ چھوڑو۔ جو شخص صف ملاتا ہے اللہ اسے ملائے گا اور جو اسے قطع کرتا ہے اللہ اسے قطع کرے گا۔“
ابوداؤد، كتاب الصلوة 666۔ النسائي، كتاب الامامة 2/ 93۔ مسند احمد، اول مسند الكوفيين 2/ 98۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو يعلم الناس ما فى النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا
”اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف کی کتنی فضیلت ہے اور پھر (اس کے حصول کے لیے) قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا تو وہ قرعہ اندازی کرتے“۔
بخاری، کتاب الاذان 615۔ مسلم، كتاب الصلوة 437۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو تعلمون ما فى الصف الأول لكانت قرعة
”اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ پہلی صف کی کتنی فضیلت ہے تو قرعہ اندازی ہوتی۔“
مسلم، كتاب الصلوة 439۔
⑤ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کی ایک طرف سے ہوتے ہوئے دوسری طرف تشریف لے جاتے، آپ ہمارے سینوں اور کندھوں کو ہاتھ لگاتے اور فرماتے:
لا تختلفوا فتختلف قلوبكم
”باہم فرق پیدا نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے“
راوی بیان کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
إن الله وملائكته يصلون على الصف الأول
”اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمتیں بھیجتے ہیں۔“
یہ روایت صحیح ہے۔ ابو داؤد، کتاب الصلوة 664۔ النسائي، كتاب الامامة 2/ 89، 90۔
⑥ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
أن رسول الله كان يصلي على الصف الأول ثلاثا ، و على الثاني واحدة
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف کے لیے ایک مرتبہ دعائے خیر کرتے تھے۔
یہ روایت صحیح ہے۔ نسائی، کتاب الامامة 2/ 92، 93۔ ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 996۔ ابن خزیمه 3/ 27۔
⑦ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا:
ألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها؟
”تم ویسے کیوں نہیں صفیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں؟“
ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يتمون الصفوف الأول ويتراصون فى الصف
”پہلے وہ پہلی صفیں پوری کرتے ہیں اور پہلی صف میں خوب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
مسلم، كتاب الصلوة 438۔ ابوداؤد 680۔ النسائي، كتاب المساجد 730 2/ 83۔ ابن ماجه 992۔
پہلی صف میں دائیں طرف کھڑے ہونا
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف
”اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کی دائیں طرف والوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں۔“
یہ روایت حسن ہے۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 686۔ ابن ماجه، کتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 1000۔ ابن حجر نے فتح الباری میں اسے حسن قرار دیا ہے۔ 213/2۔
② سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
رب قني عذابك يوم تبعث عبادك
”میرے رب! جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“
مسلم كتاب صلوة المسافرين و قصرها 709۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 615۔ نسائی، کتاب الامامة 94/2۔ ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 1006۔