دلیل نمبر:4
لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ إِلَى الْكُوفَةِ أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا، فَأَخَذَ بِيَدِى سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ؟ فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ…. قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ: "اثْبُتْ حِرَاءُ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ”۔ قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا۔
”عبداللہ بن ظالم بیان کرتے ہیں جب فلاں شخص کوفہ آیا تو فلاں شخص کو خطیب مقرر کیا، تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: کیا آپ اس ظالم کی طرف دیکھ رہے ہیں؟ میں نو اشخاص کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں، اور اگر میں دسویں کا بھی بتا دوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔ میں نے کہا کہ وہ نو افراد کون ہیں؟ سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- جب آپ حراء پہاڑ پر تھے (تو پہاڑ ہلنے لگا-): اے حراء ٹھہر جا تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے۔ (عبداللہ کہتے ہیں) میں نے پوچھا وہ نو جنتی کون ہیں؟ تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم۔ میں نے پوچھا کہ دسواں کون ہے؟ تو وہ ذرا ہچکچائے، پھر فرمایا: میں۔“ (سنن ابوداود:4648)
انجینئر صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر میں اس کے مزید دو طرق بیان کیے ہیں:
لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْكُوفَةَ أَقَامَ مُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَتَنَاوَلُونَ عَلِيًّا فَأَخَذَ بِيَدِى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ: أَلَا تَرَى هَذَا الظَّالِمَ الَّذِى يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ قُلْتُ مَنِ التِّسْعَةُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ: اثْبُتْ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ قَالَ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قُلْتُ: مَنِ الْعَاشِرُ قَالَ: أَنَا۔
”عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خطباء مقرر کیے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بدکلامی کر رہے تھے، تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: کیا آپ اس ظالم کو دیکھ رہے ہیں جو ایک جنتی شخص پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے…………“ (سنن نسائی الکبریٰ:333/7)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ فَقُلْتُ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا الظَّالِمِ أَقَامَ خُطَبَاءَ يَشْتِمُونَ عَلِيًّا؟ فَقَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا، أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَصَدَقْتُ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ، فَتَحَرَّكَ فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ قُلْتُ: وَمَنْ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدٌ قُلْنَا: فَمَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ: أَنَا۔
”عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ اس ظالم پر تعجب نہیں کرتے جس نے خطباء مقرر کیے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟…………“ (سنن نسائی الکبریٰ:326/7)
یہ ایک ہی روایت ہے، جو مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ عرض ہے کہ یہ روایت بھی ضعیف ہے، محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اگرچہ بظاہر سند صحیح معلوم ہوتی ہے۔ تفصیلات سے پہلے اس کی سند ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ (ابی داؤد)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَصِينٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ (نسائی، طریق:1)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَصِينٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ (نسائی، طریق:2)
یعنی تینوں میں ہلال بن یساف بواسطہ عبداللہ بن ظالم روایت کر رہے ہیں، مگر یہ روایت ہلال بن یساف نے عبداللہ سے نہیں سنی، اور ان دونوں میں ایک راوی ہے جو کہ مجہول ہے، جس کی وجہ سے روایت ضعیف ہے۔ اور اس بات کی صراحت مرزا صاحب ہی کے پیش کردہ حوالوں میں موجود ہے۔
یہ روایت محدثین کے نزدیک ضعیف ہے:
امام ابوداود رحمہ اللہ ہلال بن یساف عن عبداللہ بن ظالم تک سند بیان کر کے لکھتے ہیں: ” ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ“ یعنی: ”سفیان نے (اپنی روایت میں) کسی راوی کا اضافہ کیا ہے جو ہلال بن یساف اور عبداللہ بن ظالم کے درمیان ہے“۔ پھر وہ متن ذکر کیا جو مرزا صاحب پیش کرتے ہیں، پھر اس کے بعد دوسری سند ذکر کی: قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ”امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: اشجعی نے عن سفیان عن منصور عن ہلال بن یساف عن ابن حیان عن عبداللہ بن ظالم کے طریق سے اسی طرح کی روایت بیان کی“۔ بالکل یہی بات امام نسائی رحمہ اللہ نے اس طریق کے تحت کہی۔
اور انجینئر صاحب نے جو تیسرا طریق بیان کیا ہے، اسے نقل کرنے کے بعد امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ۔
”ہلال بن یساف نے یہ روایت عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنی۔“ (سنن نسائی الکبریٰ:326/7)
تو لیجیے ہمارا مدعا مرزا صاحب ہی کی پیش کردہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنی۔
امام نسائی رحمہ اللہ ایک دوسرے مقام پر بھی یہی بات فرماتے ہیں:
هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ۔
”ہلال بن یساف نے یہ روایت عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنی۔“ (سنن نسائی الکبریٰ:331/7)
امام نسائی رحمہ اللہ یہی حدیث اپنی کتاب ”فضائل صحابہ“ میں ذکر کرنے کے بعد بھی بالکل یہی تبصرہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت ہلال نے عبداللہ سے نہیں سنی۔ (فضائل الصحابة: 101) تو جب ایک بات آپ بار بار دہرا رہے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا؟ ظاہری بات ہے وہ اس روایت کا ضعف بیان کر رہے ہیں، جو کہ مخفی ہے۔ آیئے اس روایت پر دیگر محدثین کی آراء دیکھتے ہیں: امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سمعتُ ابن حماد يقول: قال البُخارِيّ عبدالله بن ظالم عن سَعِيد بن زيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولم يصح۔
”میں نے ابن حماد سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: عبداللہ بن ظالم عن سعید بن زید عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم والی روایت صحیح نہیں ہے۔“ (الکامل فی ضعفاء الرجال:370/5)
پھر آپ رحمہ اللہ مرزا صاحب کی پیش کردہ روایت اختصار سے بیان کر کے کہتے ہیں:
وهذا الحديث هو الذى أراده البُخارِيّ۔
”وہ حدیث یہی ہے جس کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔“ (الکامل فی ضعفاء الرجال:371/5)
اور امام ابن عدی کا اسے اپنی کتاب ”الضعفاء“ میں ذکر کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے قول پر اعتماد کر رہے ہیں، اور یہ روایت ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔
امام ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”الضعفاء الکبیر“ میں فرماتے ہیں:
حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ۔
”مجھے آدم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: عبداللہ بن ظالم عن سعید بن زید عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم والی روایت صحیح نہیں ہے۔“ (الضعفاء الکبیر:267/2)
اس کے متصل بعد فرمایا:
وَهَذَا الْحَدِيثُ: حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْكُوفَةَ أَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَلْعَنُونَ عَلِيًّا، وَفِي الدَّارِ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَأَخَذَ بِيَدِى فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ الَّذِى يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ…………..
(وہ) حدیث یہ ہے:………… اور پھر وہ ساری حدیث نقل کی جو کہ مرزا صاحب دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
پھر اس روایت کو رواۃ کے اختلاف کے ساتھ تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ بعض راوی اسے ہلال بن یساف عن عبداللہ عن سعید کے طریق سے روایت کرتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں: ہلال بن یساف عن حیان بن غالب عن عبداللہ، اور بعض: ہلال عن ابن حیان عن عبداللہ بن ظالم۔ (در اصل یہ ایک ہی شخص ہے مگر اس کے نام میں ہی اختلاف ہے، بعض راوی اسے ابن حیان کہتے ہیں اور بعض حیان بن غالب- [تہذیب الکمال فی اسماء الرجال:135/15، لسان المیزان:5743])۔ پھر امام عقیلی رحمہ اللہ ہلال اور عبد اللہ کے درمیان اس واسطے کو ذکر کر کے فرماتے ہیں:
وَحَيَّانُ بْنُ غَالِبٍ لَيْسَ بِمَشْهُورٍ بِالنَّقْلِ۔
”اور حیان بن غالب/ ابن حیان روایت کے لحاظ سے معروف نہیں۔“ (الضعفاء الکبیر:268/2)
یعنی یہ مجہول راوی ہے، اور یہی ہمارا مدعا ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے روایت ضعیف ہے۔
امام العلل ابوالحسن الدارقطنی رحمہ اللہ: آپ اس کی سند میں رواۃ کے اختلاف کو بیان کر کے فرماتے ہیں:
وَالَّذِى عِنْدَنَا أَنَّ الصَّوَابَ قَوْلُ مَنْ رَوَاهُ، عن الثوری، عن منصور، عن هلال، عن فُلَانِ بْنِ حَيَّانَ، أَوْ حَيَّانَ بْنِ فُلَانٍ، عن عبدالله بن ظالم، لأن منصور أَحَدُ الْإِثْبَاتِ، وَقَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ هِلَالٍ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ ظَالِمٍ وَأَنَّ بَيْنَهُمَا رَجُلًا۔
”ہمارے نزدیک اس کی بات درست ہے جس نے اس روایت کو عن الثوری عن منصور عن ہلال عن ابن حیان/ حیان بن غالب عن عبداللہ بن ظالم کے طریق سے بیان کیا ہے، کیوں کہ منصور اثبات محدثین میں سے ایک ہیں تو انہوں نے اپنی بیان کردہ روایت میں واضح کیا ہے کہ یہ روایت ہلال نے عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنی اور یہ کہ ان دونوں (ہلال اور عبد اللہ) کے درمیان ایک آدمی ہے۔“ (علل الدارقطنی:412/4)
علامہ ذہبی رحمہ اللہ عبداللہ بن ظالم کی بحث میں فرماتے ہیں:
عبد الله بن ظَالِم عَن سعيد بن زيد الْعشْرَة فِي الْجنَّة قَالَ الْبُخَارِيّ لم يَصح۔
”عبداللہ بن ظالم عن سعید بن زید کے طریق سے جو ”الْعشْرَة فِي الْجنَّة“ (دس جنتیوں) والی حدیث مروی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ روایت صحیح نہیں۔“ (المغنی فی الضعفاء:3225)
امام ذہبی رحمہ اللہ اسے الضعفاء میں لائے ہیں، یہ بیان کرنے کے لیے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ آپ نے اسے ”دیوان الضعفاء:2212“، اور ”میزان الاعتدال :447/2“ میں بھی ذکر کیا ہے۔
اور ہلال بن یساف اور عبداللہ بن ظالم کے درمیان جس راوی (ابن حیان) کا واسطہ ہے اسے آپ نے ”مجہول“ قرار دیا۔ (دیوان الضعفاء:5098)
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ: آپ نے بھی ابن حیان کے متعلق کہا ”لا یعرف“ یعنی مجہول۔ (لسان المیزان:5743)
محدثین کی تصریحات سے معلوم ہوا:
(1) سند میں بظاہر اگرچہ ہلال عن عبداللہ ہے، جس سے سند کے صحیح ہونے کا وہم ہوتا ہے مگر یہ روایت ہلال نے عبداللہ سے سنی ہی نہیں۔
(2) ان دونوں میں ایک راوی ہے، اور ہلال بن یساف نے یہ حدیث اس سے سنی ہے۔
(3) اور وہ راوی ”ابن حیان/ حیان بن غالب“ ہے، جو کہ مجہول ہے۔
(4) محدثین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مرزا صاحب کی پیش کردہ روایات میں ہی یہ تصریحات موجود ہیں، مگر مرزا صاحب اسے کبھی بیان نہیں کرتے بلکہ چھپا لیتے ہیں، اور مرزا صاحب یہی روایات بیان کر کے کہتے ہیں کہ علماء نے حق چھپایا ہے۔
مولانا غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں:
سند ضعیف ہے، ہلال بن یساف کا عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں ہے، دونوں میں ابن حیان کا واسطہ ہے۔ (اور) ابن حیان مجہول ہے۔ (دفاع صحابہ:554)
شیخ شعیب الأرنؤوط (تخریج ابوداود: 4277) اور علامہ محمد ضیاء الرحمٰن الاعظمی (الجامع الکامل:293/12) نے بھی اسے معلول (ضعیف) قرار دیا اور ابن حیان کو مجہول کہا ہے۔
تنبیہ: شیخ شعیب الأرنؤوط نے سنن ابوداود کی زیر بحث روایت کے صرف مرفوع حصے کو صحیح قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ عبداللہ بن ظالم کی متابعت موجود ہے، یعنی اس میں موجود حراء پہاڑ کا واقعہ اور عشرہ مبشرہ والی حدیث دیگر صحیح اسانید سے موجود ہیں۔ لیکن باقی قصہ غیر ثابت ہے۔ ان تمام محدثین کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ علامہ البانی و زبیر رحمہما اللہ سے اس روایت کو صحیح کہنے میں خطا ہوئی ہے، کیونکہ محدثین کی یہ تصریحات ان سے مخفی رہ گئیں ورنہ آپ ضرور اسے ضعیف ہی لکھتے۔
سنن ابوداود:3774 میں ایک حدیث اس سند کے ساتھ موجود ہے:
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ۔
اب اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور سند بظاہر متصل معلوم ہوتی ہے مگر جس طرح مرزا صاحب کی پیش کردہ روایت (سنن ابوداود:4648) کے بعد اور متن سے قبل امام ابو داود رحمہ اللہ نے صراحت فرمائی ہے کہ ہلال بن یساف اور عبداللہ بن ظالم کے مابین ایک اور راوی بھی ہے، اسی طرح اس سند کے متعلق بھی لکھا: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنَ الزُّهْرِيِّ۔
”یہ حدیث جعفر نے زہری سے نہیں سنی“، پھر اس کے بعد وہ سند ذکر فرمائی کہ جس میں جعفر اور زہری کے درمیان مجہول راوی کا واسطہ موجود ہے۔
اب اس روایت کی تخریج میں علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إسناده ضعيف، جعفر بن برقان لم يسمع هَذَا الحديث من الزهري كما بينه أبو داود، بينهما رجل مجهول۔
”اس کی سند ضعیف ہے، جعفر بن برقان نے یہ حدیث زہری سے نہیں سنی جیسا کہ امام ابو داؤد نے واضح کیا ہے، اور ان دونوں کے درمیان ایک مجہول راوی ہے۔“ (انوار الصحیفة: ص134)
لہٰذا ہمیں کوئی شیخ زبیر صاحب کا حوالہ دے کر دھوکا نا دے۔
مرزا صاحب مجہول راویوں کی روایات کو جھوٹی، جعلی اور فارغ روایات قرار دیتے ہیں، مگر صحابہ پر تنقید کا ایسا جنون ہے کہ اس کے لیے جو کچھ بھی مل رہا ہے بلا تمیز پیش کیے جا رہے ہیں۔ اور انہی ضعیف روایات کی بنیاد پر آپ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار کو اچھالتے اور لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرزا صاحب نے دعویٰ تو یہ کیا تھا کہ مودودی صاحب نے جو کچھ تاریخ سے پیش کیا ہے ہم نے وہ سب احادیث کی کتب سے ثابت کر دکھایا ہے، اور اسے آپ بہت ہی بڑا معرکہ اور انکشاف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مرزا صاحب کے دلائل آپ کے سامنے ہی ہیں، ذرا بتائیں تاریخی روایات اور احادیث کی کتب میں موجود مجہول راویوں کی روایات میں آخر فرق کیا ہے؟ لہٰذا یہ بات خوب سمجھ لیں کہ مرزا صاحب نے کوئی نیا اور انوکھا کام نہیں کیا، بلکہ آپ نے بھی ضعیف اور غیر ثابت روایات ہی جمع کی ہیں۔