اللہ کے اذن و اجازت کے بغیر شفاعت کا تصور بھی نہیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ ﴿٢٢﴾
”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! (ان مشرکین سے) کہو پکار دیکھو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو۔“
(34-سبأ:22-23)
شفاعت اللہ تعالی کی رضا اجازت اور حکم کے ساتھ مفید ہے
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں:
شفاعت کرنے والے اور جن کی شفاعت ہوگی دونوں کو اجازت ملے گی۔ کیونکہ سید الشفعاء صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت کا ارادہ فرمائیں گے تو فرماتے ہیں:
”فإذا رأيت ربي خررت له ساجدا وأحمده بمحامد يفتحها على لا أحسنها الآن – فيقال لي: ارفع رأسك وقل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع قال: فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة“
”میں اللہ کو دیکھتے ہی سجدے میں گر جاؤں گا۔ اس وقت میرے قلب پر اللہ تعالیٰ ایسی تعریفیں وارد کرے گا جو اب نہیں ہیں۔ مجھے حکم ہوگا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور سوال کرو اور کہو تو سنا جائے گا۔ سوال کرو تو دیا جائے گا۔ اور سفارش کرو تو قبول ہو گی۔ پھر میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ جس کے اندر سفارش کر کے لوگوں کو جنت میں پہنچاؤں گا۔“
صحیح بخاری کتاب الرقاق: باب صفة الجنة والنار (حديث: 2525) کتاب الایمان: باب ادنی اهل الجنة منزلة فيها (حديث: 193)
دوسری اور تیسری بار بھی اسی طرح شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٨٦﴾
اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے۔“
(43-الزخرف:86)
اس آیت کریمہ میں بتایا گیا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی بھی شفاعت کا مالک نہیں ہے۔ إلا من شهد بالحق یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی جو حق کے شاہد ہیں شفاعت ان ہی کا حق ہے شفاعت کرنے والا اور جس کی شفاعت کی گئی ہے دونوں اس حکم میں داخل ہیں۔
مخلص مسلمانوں کے حق میں شفاعت ہوگی
صحیح بخاری میں روایت ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:
”من أسعد الناس بشفاعتك يا رسول الله؟ فقال: يا أبا هريرة قد طننت أن لا يسألني عن هذا الحديث أحد أولى منك لما رأيت من حرصك على الحديث أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله خالصا من قبل نفسه“
”اے اللہ کے رسول! آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ کون مستحق ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! مجھے یقین تھا کہ تمہارے سوا اس قسم کا سوال کوئی نہیں کرے گا کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ تو ہماری بات سننے کے لیے حریص ہے۔ قیامت کے دن ہماری سفارش کا سب سے زیادہ حق دار شخص وہ ہوگا جس نے اپنی نیت خالص سے کلمہ لا اله الا اللہ کی شہادت دی ہوگی۔“
صحیح بخاری کتاب العلم: باب الحرص على (الحديث : 99)
اس حدیث میں شفاعت کا سب سے زیادہ سعادت مند اور مستحق وہ شخص قرار دیا گیا ہے جس کا اخلاص کامل ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فإنه من صلى على مرة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها درجة فى الجنة لا تنبغي إلا لعبد واحد فمن سأل الله لي الوسيلة حلت عليه شفاعتي يوم القيامة“
”جب تم اذان کہنے والے کو سنو تو اسی طرح جواب دو جس طرح وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو۔ پس جو مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھے گا اللہ اس پر دس دفعہ رحمت فرمائے گا۔ پھر میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو۔ وسیلہ جنت کے ایک درجے کا نام ہے جو صرف ایک انسان کے لیے خاص ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔ پس جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعا کرتا ہے قیامت کے دن اس کی سفارش مجھ پر حلال ہو جائے گی۔“
صحیح مسلم کتاب الصلاة: باب استحباب القول مثل قول المؤذن (حديث: 384)
جزا عمل کے مطابق ہوگی جیسے:
”من صلى عليه مرة صلى الله عليه بها عشرا“
دوسری صورت یہ ہے کہ:
”ومن سأل الله لي الوسيلة حلت عليه شفاعتي يوم القيامة“
وسیلہ کے سوال کے جواب میں ”أسعد الناس بشفاعتي“ کہا بلکہ فرمایا کہ ”أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله خالصا من قبل نفسه“
باعث شفاعت توحید اور اخلاص عمل
ثابت ہوا کہ توحید اور اخلاص سے جس قدر شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاصل ہوگی وہ دوسرے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتی، اگرچہ عمل صالح ہی کیوں نہ ہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسیلہ کا سوال۔
لہذا ایسے اعمال سے کیسے شفاعت حاصل ہوگی جن کا حکم ہی نہیں، بلکہ ان سے روک دیا گیا ہے۔ ایسے شخص کو نہ دنیا میں بھلائی نصیب ہوگی نہ قیامت کے دن نجات۔ جیسے نصاریٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا۔ یہ غلو بجائے فائدہ کے نقصان کا باعث ہوگا۔
صحیحین میں مروی حدیث میں موجود ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”إن لكل نبي دعوة مستجابة وإني احتبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فهي نائلة إن شاء الله من مات لا يشرك بالله“
”تمام انبیاء علیہم السلام کی ایک ایک دعا ضرور مستجاب تھی جو دنیا ہی میں قبول کر لی گئی۔ لیکن میں نے اپنی دعا کو محفوظ رکھا ہوا ہے تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کروں۔ پس یہ دعا ان شاء اللہ ہر اس شخص کو پہنچے گی جو شرک کے بغیر فوت ہوا۔“
صحیح بخاری کتاب الدعوات: باب لكل نبي دعوة مستجابة (حديث: 6304، 2305) صحیح مسلم کتاب الایمان: باب اختباء النبي دعوة الشفاعة لامته (حديث: 198، 199) واللفظ له
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اہل توحید کی شفاعت فرمائیں گے
شفاعت کے متعلق جتنی بھی احادیث مروی ہیں ان سب میں یہ بات واضح اور نمایاں طور پر موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اہل توحید کی شفاعت کریں گے۔
جو شخص توحید میں جس قدر پختہ اور اپنے اعمال میں جس قدر مخلص ہوگا اس معیار کے مطابق شفاعت کا مستحق ٹھہرے گا۔ رب کریم نے وعده و وعید، ثواب و عقاب، حمد و ذم کو ایمان، توحید اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر معلق کیا ہے۔ جس شخص کا ایمان ہوگا وہی دنیا آخرت میں اللہ کی دوستی کا زیادہ مستحق ہوگا۔
اللہ کی تمام مخلوق خواہ مسلمان ہوں یا کافر سب کو اللہ ہی رزق دیتا ہے وہی مصائب و مشکلات دور کرتا ہے۔ اللہ ہی ایک ذات واحد ہے جس کی طرف لوگ مصائب و مشکلات میں رجوع کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ ﴿٥٣﴾
”تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔“
(16-النحل:53)
قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ
”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے کہو کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہاری رحمان کی بجائے نگرانی کرتا ہے؟“ ہم چاہیں تو تمہاری بجائے فرشتے متعین کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔
(21-الانبیاء:42)
جو شخص یہ خیال کرے کہ فلاں مقام پر مصائب و مشکلات کا نزول اس لیے نہیں ہوتا کہ وہاں انبیاء اور صالحین کی قبور ہیں تو یہ شخص غلط کہتا ہے۔ خطہ ارضی پر افضل ترین جگہ مکہ مکرمہ ہے اس کی عظمت و تقدیس مسلم ہے۔ باوجود اس کے اہل مکہ پر اللہ تعالیٰ کا سخت ترین عذاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کی یوں وضاحت کرتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿٣٨﴾ إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٣٩﴾
”اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا۔ تب اللہ نے ان کے باشندوں کو ان کی کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں۔ ان کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا۔ مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا۔ آخر کار عذاب نے ان کو آ لیا جب کہ وہ ظالم ہو چکے تھے۔“
(9-التوبة:38-39)