دلیل نمبر:3
عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا، فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ۔
”عبدالرحمٰن بن سابط حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ، انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس (ملاقات کے لیے) گئے۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کوئی تنقیدی جملہ کہا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: آپ ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے (جناب علی رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: آپ کا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (خیبر کے موقع پر) یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ (اور پھر جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا)۔“ (سنن ابن ماجہ:121)
یہ مرزا صاحب کی دوسری بڑی دلیل ہے کہ جو آپ اپنے مدعے کو ثابت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں، اور اس روایت کا آپ کے مدعے کے ساتھ کیا تعلق ہے اس کا ذکر تو بعد میں کرتے ہیں پہلے اس بنیادی دلیل کا حال دیکھ لیں:
تو عرض ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے، اسے عبدالرحمٰن بن سابط حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، مگر عبدالرحمٰن نے ان سے کچھ نہیں سنا!
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سابط نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے شاگرد عباس الدوری کہتے ہیں: امام ابن معین رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ عبدالرحمٰن نے ان صحابہ سے کچھ نہیں سنا، بلکہ آپ ان سے ارسال کرتے ہیں۔ (تاریخ ابن معین:87/3)
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے بھی ”المراسیل“ میں عبدالرحمٰن بن سابط کے بیان میں، امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا قول ذکر فرمایا۔ (المراسیل لابن ابی حاتم: 459)
مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق فرمایا:
”سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اس منقطع روایت کو ”واسنادہ صحیح“ کہنا بہت عجیب و غریب ہے۔“ (ماہنامہ الحدیث:100، ص 20)
یہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا رد کیا گیا ہے جو انہیں اس کو صحیح کہنے میں غلطی لگی ہے۔
علامہ البانی کے بہت مشہور اور قابل شاگرد ”علامہ ابواسحاق الحوینی“ بھی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔ (الترياق بأحاديث قواها الألباني وضعفها الحويني أبو إسحاق:152)
شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے بھی اس روایت کے متعلق لکھا: ”اسناده ضعيف لانقطاعه“ (تخریج خصائص علی رضی اللہ عنہ: ص44)
علامہ مقبل بن ہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الحديث إذا نظرت إلى سنده وجدتهم ثقات، ولكن يحيى ابن معين يقول: إن عبد الرحمن بن سابط لم يسمع من سعد بن أبي وقاص كما في جامع التحصيل۔
”جب آپ اس حدیث کی سند کی طرف دیکھیں گے تو اس کے رواۃ کو ثقہ پائیں گے، لیکن (اس میں علت یہ ہے کہ) امام ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن سابط نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، جیسا کہ ”جامع التحصیل“ میں ہے (لہٰذا یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)۔“ (أحاديث معلة ظاهرها الصحة:146)
علامہ محمد ضیاء الرحمٰن الاعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وإسناده منقطع، لأن عبد الرحمٰن بن سابط لم يسمع من سعد بن أبي وقاص، قاله ابن معين۔
”اس کی سند منقطع ہے، کیوں کہ عبدالرحمٰن بن سابط نے جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، (اور) یہ بات امام ابن معین رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“ (الجامع الکامل:69/9)
لہٰذا یہ روایت اصولاً ضعیف ہے، اور محققین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے، مگر مرزا صاحب کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں، جہاں انہیں اپنے مطلب کی بات مل رہی ہو وہ اگرچہ ضعیف ہی ہو پھر بھی قابل احتجاج ہوتی ہے۔ صحابی رسول پر اعتراض کرنے کا ایسا بھوت سوار ہے کہ ان کے خلاف ضعیف روایات بھی بڑے زور و شور سے بیان کرتے ہیں۔ مرزا صاحب جناب مودودی کی بڑی حمایت کرتے ہیں، کیوں کہ ان دونوں کا آپس میں بہت قریب کا رشتہ ہے، اور وہ یہ کہ مودودی صاحب نے بھی صحابہ کے معاملے میں زبان درازی کرنے اور ان پر جھوٹے الزامات لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بہر حال مودودی صاحب نے تاریخ کی جھوٹی روایات پیش کر کے جو کہا کہ ساٹھ سال حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعن طعن ہوتا اور گالیاں بکی جاتیں، تو مرزا صاحب نے ان کی تائید میں دعویٰ کیا کہ مودودی صاحب کی کمی ہم نے پوری کر دی ہے، اور احادیث کی کتابوں سے یہ مدعا ثابت کیا ہے! تو مرزا صاحب آپ نے کون سا تیر چلا دیا ہے؟ احادیث کی کتابوں سے حوالے دینا کوئی کام نہیں، بلکہ وہ روایات صحیح سند سے ثابت بھی ہونی چاہئیں، ورنہ تاریخی روایات اور احادیث کی کتابوں میں موجود ضعیف روایات میں کیا فرق ہے؟
دوسری بات یہ کہ آپ کا مدعا یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے اور لعنت کرتے اور اس کا حکم بھی دیتے، اور ساٹھ سال تک منبروں پر یہ سب ہوتا تھا۔ لیکن آپ نے جو مودودی صاحب کے فضول دلائل کے مقابلے میں دلائل دیے ہیں ان میں سے کون سی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے؟ اس روایت میں بھی نہ تو کسی گالی کا ذکر ہے نہ ہی لعنت کا، نہ ہی منبر کا اور نہ ہی ساٹھ سال کا، افسوس ہے آپ کی پیش کردہ ضعیف روایت میں بھی آپ کے مدعے کے مطابق دلیل نہیں۔