دلیل نمبر:5
ریاح بن حارث بیان کرتے ہیں کہ:
كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ: أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ، أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ۔
”میں فلاں شخص کے پاس کوفہ کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ان کے پاس (کچھ) اہل کوفہ بھی تھے، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے تو اس (فلاں شخص) نے ان کو مرحبا اور خوش آمدید کہا اور انہیں چار پائی پر اپنے پیروں کی جانب بٹھا لیا، پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جسے قیس بن علقمہ کہا جاتا تھا، پس وہ اس کی طرف متوجہ ہوا اور مسلسل سَب کرنے لگا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کس پر سَب کر رہا ہے؟ جواب دیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر۔ تو سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے پاس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سَب کیا جا رہا ہے اور نہ تو منع کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس پر غصہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ اور بے شک میں اس بات سے بے پرواہ ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی بات کہوں کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہی نہ ہو اور کل (قیامت کے روز) جب میں ان سے ملوں تو مجھے اس کا جواب دہ ہونا پڑے (یعنی جب میں ان پر جھوٹ بولوں گا ہی نہیں تو اس بارے میں جواب دہ ہونے سے بھی بے پرواہ ہوں)۔ (اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:) ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، (عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں…… مکمل حدیث آگے آ رہی ہے)۔ اس کے بعد سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی بھی صحابی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چہرے کا غبار آلود ہونا تمہارے اعمال سے بہتر ہے اگرچہ تمہیں حضرت نوح علیہ السلام کی عمر کے بقدر عمر ہی دے دی جائے۔“ (سنن ابوداؤد:4650)
اس کے ساتھ آپ مسند احمد کا طریق بیان کرتے ہیں:
أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ، وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ، فَسَبَّ، وَسَبَّ، فَقَالَ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ، يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا، أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ؟ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ، فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ، أَنَّهُ قَالَ: "أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ”. وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ. قَالَ: فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ: نَاشَدْتُمُونِي بِاللهِ، وَاللهُ عَظِيمٌ، أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا، قَالَ: وَاللهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ۔
”ریاح بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بڑی مسجد میں تھے اور ان کے دائیں اور بائیں جانب کوفہ کے کچھ لوگ تھے، (وہاں) ایک شخص آئے جنہیں سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور انہیں اپنی چار پائی پر اپنے پیروں کی جانب بٹھا لیا۔ پس ایک کوفی شخص آیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر مسلسل سَب کرنا شروع کر دیا، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مغیرہ یہ کس پر سَب کر رہا ہے؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سَب کر رہا ہے۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مغیرہ بن شعب، اے مغیرہ بن شعب،– تین دفعہ کہا– (پھر فرمایا) کیا میں نہیں سن رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر آپ کے پاس سَب کیا جا رہا ہے اور نہ تو انہیں منع کیا جا رہا ہے اور نہ ہی غصہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں جو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹی بات بیان نہیں کروں گا کہ جس کی وجہ سے مجھے کل کو آپ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں اور سعد بن مالک جنتی ہیں رضی اللہ عنہم، اور ایک نواں مومن بھی جنت میں ہے اگر میں چاہوں تو اس کا نام بھی بتا دوں۔ تو اس پر مسجد میں موجود لوگ آپ کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ اے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ نواں کون ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ مجھے اللہ کا واسطہ دیتے ہیں، اللہ بہت عظیم ہے، وہ نواں مؤمن میں ہوں (جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت سنائی تھی) اور دسویں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے دائیں جانب متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا: کسی بھی صحابی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چہرے کا غبار آلود ہونا تمہارے اعمال سے افضل ہے اگرچہ تمہیں حضرت نوح علیہ السلام جتنی عمر دے دی جائے۔“ (مسند احمد:1629)
اب ذرا مرزا صاحب کا مدعا یاد کریں اور دیکھیں کہ اس مدعے کے مطابق اس میں کوئی ایک بھی بات موجود ہے؟ کہیں کوئی منبر؟ کسی گالی یا لعنت کا ذکر، ساٹھ سال؟ یا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی تذکرہ؟
پہلی بات یہ ہے کہ آپ کا مدعا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق تھا کہ آپ گالیاں یا لعنت کرتے بھی اور کرواتے بھی، لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں، ان اینکر صاحب کے جواب پر تو آپ گھوم گئے تھے کہ ہاں نہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق علیحدہ سے احادیث ہیں، مگر ہم آپ کی پیش کردہ ان علیحدہ احادیث کو بھی دیکھ رہے ہیں، ابھی تک تو اس کا کوئی سراغ نہیں ملا، اللہ جانے وہ علیحدہ احادیث کہاں ہیں جن کا آپ نے شور مچا رکھا ہے۔
دوسری بات: یہاں بھی لفظ سَب استعمال ہوا ہے، مگر مرزا صاحب ترجمہ ”گالی“ کا کر رہے ہیں، کیوں؟ کہیں گالیاں کافی پسند تو نہیں؟
تیسری بات: سَب کرنے والا نہ ہی کوئی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور نہ ہی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، اور نہ ہی بنو امیہ سے تعلق رکھنے والا ہی کوئی شخص تھا کہ جس سے آپ اسے کسی طریقے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر سکیں۔ بلکہ وہ کوئی کوفی شخص تھا، اور نہ ہی حضرت مغیرہ یا جناب معاویہ رضی اللہ عنہما نے اسے اس کا حکم دیا۔
چوتھی بات: کہ مرزا صاحب یا تو اپنی کم علمی کی بنا پر اور یا تو بات کو غلط رنگ دینے کے لیے ابو داؤد کی روایت میں موجود لفظ ”فَاسْتَقْبَلَهُ“ کا ترجمہ ”حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا“ کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں! مرزا صاحب نے خود ہی اپنے ریسرچ پیپر میں مسند احمد کی روایت کے تحت یہاں ترجمہ ”اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر…………“ کیا ہے۔ اور ”استقبال کیا“ والا ترجمہ کر کے آپ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ دیکھیں ایسے لوگوں کو کیسے پروٹوکول دیا جا رہا ہے، اور یہ کہ وہ شخص حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا کوئی خاص آدمی ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ ثابت نہیں!
پانچویں گزارش: یہ بات درست ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اسے منع کرنا چاہیے تھا، لیکن اس وجہ سے ان پر الزام لگانا اور بدگمانی کرنا ہرگز جائز نہیں کہ وہ بھی اس میں ملوث تھے (نعوذ باللہ)۔ مرزا انجینئر صاحب کا کہنا کہ: ”انہوں نے منع کیا کرنا تھا وہ خود نکلواتے تھے“ سو فیصد غلط اور بے دلیل ہے، آخر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کبھی خود ایسا کیا ہو یا اس کا حکم ہی دیا ہو؟ مرزا صاحب نے جو سنن ابو داؤد اور سنن نسائی الکبری کے حوالے سے روایت پیش کی ہے اس کا حال آپ دیکھ چکے ہیں، اس میں مجہول راوی ہے اور مرزا صاحب ایسی روایات کو جعلی اور جھوٹی روایات قرار دیتے ہیں۔ یا یہ ثابت کیجیے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی ذاتی نفرت و عداوت تھی۔ جس کی کوئی حقیقت نہیں، لہٰذا جب ایسا کچھ ثابت ہی نہیں تو اس بنا پر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی یا ان کے متعلق بدگمانی، اور پھر ان باتوں کی وجہ سے ان پر طعن کرنا نا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ۔
”تم بدگمانی سے بچو، بے شک بدگمانی سب سے جھوٹی چیز ہے۔“ (صحیح بخاری:6066)
جب بدگمانی کسی عام شخص کے بارے میں جائز نہیں تو پھر کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟
امام ابوزکریا النووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
وَمَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْحَقِّ إِحْسَانُ الظَّنِّ بِهِمْ وَالْإِمْسَاكُ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔
”حق بات اور اہل سنت کا منہج یہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے، اور ان کے باہمی اختلافات کے معاملے میں اپنی زبانیں بند رکھی جائیں۔“ (شرح النووی علی مسلم:11/18)
اگر کوئی ضد کرے اور کہے کہ اس کوفی کے عمل پر ان کی خاموشی اس کی تائید ہی تھی، تو ہم کہیں گے کہ اگر ایسا ہے تو پھر اس کے بعد حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے اصلاحی بیان پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بالکل خاموش رہنا اور ان کی مخالفت نا کرنا بھی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے جناب سعید رضی اللہ عنہ کے بیان کی تائید ہے، اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اصلاح فرما لی، اور پھر اس کے بعد کبھی بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، اگر ہے تو پیش کریں۔ لہٰذا اب سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنا اور ان کے متعلق دل میں میل رکھنا اور ان کے ذکر خیر کی بجائے ان کی برائی کرنا بالکل حرام ہے۔ لیکن اس حوالے سے بھی انجینئر صاحب اپنی ڈیوٹی بڑی ذمہ داری کے ساتھ پوری کر رہے ہیں اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی زبان درازی سے پیچھے نہیں رہتے۔ حالانکہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں اور ان پر سَب کرنا حرام ہے، تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ آخر جناب علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا حرام ہے تو بعض صحابہ کو برا بھلا کہنے کی اجازت آپ کو کون سی آیت یا حدیث سے ملی ہے؟ لہٰذا یہاں بھی مرزا صاحب دوغلے ہیں۔
مرزا صاحب اسی روایت میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ ہماری دعوت کا نچوڑ ہے، کہ اس کوفی نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو سیدنا سعید بن زید فوراً ان کے دفاع میں بول اٹھے، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”صحابہ“ کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ غور کیجیے انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ ”کسی صحابی“ کو برا کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک صحابی کی گستاخی کو تمام صحابہ کی گستاخی جانا، تو ہمارا مدعا کیا ہے؟ ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ بھئی کسی بھی صحابی پر تنقید کرنا، ان کے لیے دل میں بغض اور عداوت رکھنا جائز نہیں ہے، اور تمام صحابہ کا احترام ہم پر واجب ہے، یہ نہیں کہ کچھ صحابہ کرام کی بڑھ چڑھ کر عزت کی جائے، ان سے محبت اور اخلاص بھرے جذبات رکھے جائیں اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کی جائے، ان کو رات دن برا بھلا کہا جائے، ان پر الزامات پر الزامات لگائے جائیں اور لوگوں کو ان کے متعلق منفی تاثر دیا جائے، یہ کوئی محبت نہیں ہے۔ یاد رکھیں اگر کوئی تمام صحابہ کا گستاخ ہے، تو صرف وہی گستاخ نہیں بلکہ اگر کوئی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی گستاخ ہے تو وہ گستاخ ہی ہے، صحابہ سے محبت کرنے والا نہیں! کیوں کہ صحابہ کی عزت و احترام اور ان سے محبت کا تو تقاضا ہے کہ تمام صحابہ سے دل و جان سے بڑھ کر محبت کی جائے اور بڑھ چڑھ کر تمام صحابہ کا احترام کیا جائے۔
سید ولد آدم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنیے:
أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ……
”میرے صحابہ کا احترام کرو کیوں کہ وہ تم سب سے بہتر ہیں۔“ (سنن نسائی الکبری: 9179،9178، شرح السنۃ للبغوی:28/9)
دوسری روایت میں ہے:
أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي……
”میرے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔“ (مسند احمد:177)
اور ایک روایت میں ہے:
اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا……
”میں تمہیں اپنے صحابہ کے بارے میں خیر و بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔“ (مسند احمد:114، سنن ترمذی:2165)
یہ ایک ہی حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ علامہ البانی، شیخ شعیب الارنووط اور مولانا زبیر علی زئی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث میں واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ساتھ خیر و بھلائی، حسن سلوک اور ان کی عزت و احترام کرنے کا حکم فرمایا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ بعض کا احترام بڑھ چڑھ کر کرنا اور بعض کا نہیں۔
امام ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ومن السنة تولي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومحبتهم وذكر محاسنهم، والترحم عليهم، والاستغفار لهم والكف عن ذكر مساوئهم وما شجر بينهم، واعتقاد فضلهم ومعرفة سابقتهم۔
”اور یہ بھی سنت میں سے ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دوست رکھا جائے، اور ان سے محبت کی جائے، اور ان کی اچھائیاں بیان کی جائیں، اور ان کے لیے رحم اور استغفار کی دعائیں کی جائیں، اور ان کی غلطیوں اور ان کے باہمی اختلافات کے بیان کرنے سے رکے رہنا چاہیے، اور ان کی فضیلت کا عقیدہ رکھا جائے، اور ان کی اسلام میں سبقت کو پہچانا جائے۔“ (لمعۃ الاعتقاد:39)
امام ابوبکر محمد بن حسین الآجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَنْ جَاءَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى يَطْعَنَ فِي بَعْضِهِمْ وَيَهْوَى بَعْضَهُمْ وَيَذُمَّ بَعْضًا وَيَمْدَحَ بَعْضًا فَهَذَا رَجُلٌ طَالِبُ فِتْنَةٍ وَفِي الْفِتْنَةِ وَقَعَ، لِأَنَّهُ وَاجِبٌ عَلَيْهِ مَحَبَّةُ الْجَمِيعِ وَالِاسْتِغْفَارِ لِلْجَمِيعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَنَفَعَنَا بِحُبِّهِمْ۔
”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ پر طعن کرے اور بعض سے محبت رکھے، بعض صحابہ کی مذمت کرے اور بعض کی تعریف کرے تو وہ شخص فتنہ پرور ہے اور فتنے میں مبتلا ہے، کیونکہ اس پر فرض تھا کہ تمام صحابہ کرام سے محبت کرتا اور ان سب کے لیے استغفار کرتا، اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے راضی ہو اور ہمیں ان کی محبت کے سبب فائدہ عطا فرمائے۔“ (الشریعۃ للآجری:2485/5)
مرزا صاحب جن صحابہ کو مطعون کیا کرتے ہیں، ان کی کردار کشی کرتے ہیں ان میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، اس جھوٹ کی بنا پر کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرتے اور اس کا حکم بھی دیتے، حالانکہ یہ بات کسی صحیح سند سے ثابت نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بیعت رضوان والے صحابہ میں سے ہیں۔ جنہیں قرآن نے خصوصی فضیلت سے نوازا ہے (سورۃ الفتح: 18، صحیح مسلم:6404)۔ حضرت علی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل کا کوئی منکر نہیں، ہمارا مقصد صرف ان مکاروں کی حقیقت واضح کرنا ہے جو اہل بیت کی آڑ میں صحابہ کو برا کہتے ہیں۔
اور زیر بحث روایت کے آخری حصے پر غور کریں، سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کسی ایک صحابی کو برا بھلا کہنے کو غلط قرار نہیں دیا، بلکہ آپ کا انداز بتا رہا ہے کہ آپ ہر غیر صحابی سے مخاطب ہیں اور فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ تم لوگوں سے افضل ہیں، اور اگر تم عمر نوح پا کر بھی نیک اعمال کرتے رہو پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام تم سے بہتر اور افضل ہی رہیں گے، لہٰذا تمہیں کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان درازی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ مرزا صاحب اور ان کے حواری اچھی طرح جان لیں یہ خطاب تمہارے جیسے لوگوں ہی کے لیے ہے، جو حق بیانی کا بہانہ بنا کر صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں، اور حق گوئی تو محض فراڈ ہے بلکہ آپ ان پر جھوٹے الزامات ہی لگاتے ہیں، اب یہی مسئلہ دیکھ لیں کہ سیدنا معاویہ و مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما پر کتنا بڑا الزام ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرتے، انہیں گالیاں دیتے اور اس کا حکم بھی دیتے۔ لیکن انجینئر صاحب کے بیان کردہ دلائل آپ دیکھ ہی رہے ہیں، تو یہ الزام نہیں تو اور کیا ہے؟
اگر ہم مرزا صاحب کی مخالفت میں کھڑے ہیں تو در اصل ہم سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی سیرت پر ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے والوں کا علمی رد کر رہے ہیں، جبکہ مرزا صاحب اس روایت میں موجود کوفی اور روافض کے نقش قدم پر ہیں۔