کبوتر کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کبوتری کا پیچھا کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:
شيطان يتبع شيطانة
”شیطان شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4940، ابن ماجه، کتاب الادب 3765۔
نرد (چوسر) کھیلنے کی ممانعت
① سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لعب بالنرد أو النردشير فكأنما صبغ يده فى لحم خنزير ودمه
”جس شخص نے نرد (چوسر) کھیلا تو اس نے گویا اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون سے رنگین کیا۔“
مسلم، کتاب السفر 2260/10، ابوداؤد، کتاب الادب 4939۔
② سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لعب بالترد أو النردشير فقد عصى الله ورسوله
”جس شخص نے چوسر کھیلا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4938، ابن ماجه، كتاب الادب 3762، موطا، كتاب الجامع 958/2۔
انسان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے
① سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يؤتى بالرجل يوم القيامة فيلقى فى النار فتندلق أقتاب بطنه فيدور بها كما يدور الحمار فى الرحا فيجتمع إليه أهل النار فيقولون: يا فلان ما لك؟ ألم تكن تأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر؟ فيقول: بلى كنت آمر بالمعروف ولا آتيه، وأنهى عن المنكر وآتيه
”روز قیامت ایک آدمی کو لایا جائے گا تو اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح چکی کا گدھا گھومتا ہے تو جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے: اے فلاں! تجھے کیا ہوا؟ کیا تم نیکی کا حکم نہیں کرتے تھے اور برائی سے منع نہیں کرتے تھے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میں نیکی کا حکم دیا کرتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا، اور میں برائی سے منع تو کیا کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔“
بخاری، کتاب بدء الخلق 7098، مسلم، کتاب الزهد والرقائق 51 / 2989۔