نماز کی حفاظت کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

نماز کی حفاظت کی فضیلت

نماز کی حفاظت مومنین کا شیوہ ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور جنت ملے گی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ﴾ ‎
”آپ میرے ان بندوں سے کہئے جو اہل ایمان ہیں کہ وہ نماز قائم کریں، اور ہم نے انہیں جو روزی دی ہے اس میں پوشیدہ طور پر اور دکھا کر اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کریں جس دن نہ کوئی خرید وفروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔“
(14-إبراهيم:31)
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
”اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس پاؤ گے، اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے۔“
(2-البقرة:110)
مزید ارشاد فرمایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾
”اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، اور بالخصوص بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے حضور پرسکون اور خشوع کے ساتھ کھڑے ہو۔“
(2-البقرة:238)
ان تمام آیات میں نماز کی فرضیت اور اس کی محافظت کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ نماز اسلام کا دوسرا بڑا رکن ہے۔ اور روز قیامت سب سے پہلے اس کا سوال ہوگا۔ جس کی نماز درست ہوئی، اس کے باقی معاملات بھی درست ہو جائیں گے، ورنہ معاملہ درست نہیں ہوگا۔ نماز کی محافظت کا مطلب ہے کہ نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں ادا کیا جائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے:
عن حريث بن قبيصة، قال: قدمت المدينة، فقلت: اللهم لي جليسا صالحا، فجلست إلى أبى هريرة رضى الله عنه قال: فقلت: إني دعوت الله عز وجل أن يسر لي جليسا صالحا، فحدثني بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، لعل الله أن ينفعني به قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن أول ما يحاسب به العبد بصلاته، فإن صلحت فقد أفلح وأنجح، وإن فسدت خاب وخسر.
حریث بن قبیصہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ میں آیا تو میں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں میسر فرما۔ پھر میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا، اور میں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے نیک ہم نشیں میسر فرمائے۔ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، شاید اللہ تعالیٰ مجھے اس کے ذریعے فائدہ دے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”بلا شبہ سب سے پہلے بندے سے اس کی نماز کے متعلق حساب لیا جائے گا اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب و کامران ہو جائے گا، اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہوگا۔“
سنن نسائی، کتاب الصلاة، باب المحاسبة على الصلاة، رقم: 465۔ سنن ترمذی، مواقيت الصلاة، باب ما جاء أن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلاة، رقم: 413۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
من حافظ عليها كانت له نورا وبرهانا ونجاة يوم القيامة، ومن لم يحافظ عليها، لم يكن له نور ولا برهان ولا نجاة، وكان يوم القيامة مع قارون وفرعون وهامان وأبي بن خلف.
جو کوئی نماز کی حفاظت کرے گا اس کے لیے یہ روز محشر نور، حجت اور نجات کا ذریعہ ہوگی۔ اور جس نے اس کی (نماز کی) حفاظت نہ کی اس کے لیے نہ نور ہو گی، نہ حجت اور نہ نجات کا ذریعہ بنے گی اور روز محشر اس کا انجام قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف (جیسے کفار )کے ساتھ ہو گا۔
مسند احمد: 169/2۔ صحیح ابن حبان، رقم: 1467۔ ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔
قرآن کی ان آیات اور احادیث پر اسلاف نے کس طرح عمل کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مثال لیجیے۔ نماز فجر میں حملہ ہوا، زخمی ہو کر گر پڑے، ہوش آنے پر اپنی نماز کا سوال کیا اور غمزدہ انداز میں ارشاد فرمایا:
لا حظ فى الإسلام لمن ترك الصلاة.
یعنی جس نے نماز کو ترک کر دیا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
پھر آپ نے خون بہتے زخم سے ہی نماز ادا فرمائی۔
طبقات ابن سعد: 187/2۔ سیر اعلام النبلاء: 2/473۔
اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے شاگرد حمید الطویل رحمہ اللہ نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوئے۔
سیر اعلام النبلاء: 167/6
یونس محمد المؤدب فرماتے ہیں:
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے فوت ہوئے۔
سیر اعلام النبلاء: 448/7
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی اور صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح رضی اللہ عنہ رملہ نامی مقام پر تھے۔ صبح کے قریب ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا صبح ہوگئی تو انہوں نے کہا: ابھی نہیں ہوئی۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کہا: اے اللہ! میرے عمل کا خاتمہ صبح کے وقت (یعنی نماز فجر کے وقت) کرنا۔ یہ کہہ کر وضو کیا اور نماز پڑھنے لگے۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ العادیات اور دوسری میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت کی تلاوت کی، اور اختتام نماز کے وقت دائیں جانب سلام پھیر کر بائیں جانب سلام پھیرنے لگے تو ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
سیر اعلام النبلاء: 3/ 35
یہ تھی ان اسلاف، اکابرین کی نماز سے محبت اور اس کی محافظت۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو کر انھیں جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین!