ناموں، اثار اور اموات کی عبادت شرک ہے
جو شخص غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ صرف ناموں کی عبادت میں مصروف ہے جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ اور جو لوگ ملائکہ اور انبیاء کی عبادت کرتے ہیں جنہیں وہ دیکھ نہیں سکتے حقیقت میں وہ صرف ان صورتوں اور شبیہوں کی عبادت کرتے ہیں جو پھر مٹی اور لکڑی وغیرہ سے بنائی گئی ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ اموات کی عبادت میں غرق ہیں۔
زیارتوں کو ڈھانے کا حکم نبوی
صحیح مسلم میں ابی الہیاج السدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ألا ابعتك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني أن لا أدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته
”کیا میں تمہیں ایسے کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا۔ مجھے آپ نے یہ حکم دے کر بھیجا تھا کہ جس تصویر کو دیکھوں اسے مٹا دوں اور جس قبر کو بلند دیکھوں اسے زمین کے برابر کر دوں۔“
( صحیح مسلم کتاب الجنائز: باب الامر بتسویۃ القبر، حدیث: 969)
زندہ خالق اور مردہ مخلوق کس کو پکاریں!
اموات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿١٧﴾ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٨﴾ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ﴿١٩﴾ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿٢٠﴾ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴿٢١﴾
”پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں؟ کیا تم ہوش میں نہیں آتے؟ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی۔ اور دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں۔ بلکہ خود مخلوق ہیں مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا؟“
(16-النحل:17-21)
پس جمیع اموات کو اس بات کا علم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور قیام قیامت کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔