جھگڑا و تکرار، لوگوں کی نقلیں اتارنے اور نیک لوگوں سے دشمنی کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

جھگڑا، تکرار کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المراء فى القرآن كفر
”قرآن کے بارے میں تکرار اور جھگڑا کرنا کفر ہے۔“
ابوداؤد، کتاب السنة 4603، مسند احمد، باقی مسند المكثرين 401/2، حدیث 8009۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تمار أخاك ولا تمازحه، ولا تعده موعدا فتخلفه
”اپنے (مسلمان) بھائی سے جھگڑا کر نہ اس سے مزاح کر اور نہ ہی اس سے وعدہ کر کے خلاف ورزی کر۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1995، ابو نعيم، الحليه 344/3۔
③ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا زعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا، وببيت فى وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا، وببيت فى أعلى الجنة لمن حسن خلقه
”میں اس شخص کے لیے بہشت کے گرد ایک گھر کا ضامن ہوتا ہوں، جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے؛ اور اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں ایک گھر کا ضامن ہوتا ہوں، جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ بولنا ترک کر دے؛ اور اس شخص کے لیے جنت کے اعلیٰ مقام میں ایک گھر کا ضامن ہوتا ہوں جو اپنے اخلاق سنوار لے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4800۔

لوگوں کی نقلیں اتارنے کی ممانعت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے لیے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پست قد ہونا ہی کافی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد قلت كلمة لو مزج بها البحر لمزجته
”آپ نے ایک ایسی بات کہی ہے اگر وہ سمندر میں ملا دی جائے تو یہ اس کی حالت بدل دے۔“
وہ بیان کرتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک انسان کی نقل اتاری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أحب أني حكيت إنسانا وأن لي كذا وكذا
”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں خواہ مجھے اتنا اتنا مال دیا جائے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4875، ترمذى، صفة القيامة والرقائق والورع الخ 2502۔
وضاحت: بعض نے ”محاكاة“ کا معنی غیبت بیان کیا ہے۔ تب ترجمہ یوں ہوگا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی غیبت کروں خواہ مجھے اتنا اتنا مال دیا جائے۔“

نیک لوگوں سے دشمنی رکھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے کسی ولی سے عداوت رکھی تو میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔“
بخاری، کتاب الرقاق 6502۔