توحید فی التصرف اور شرک فی التصرف قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

توحید فی التصرف اور شرک فی التصرف

مسلمان جن کے خمیر میں توحید تھی، جنہیں اللہ کے سوا اوروں سے ہٹاتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہہ دیا گیا تھا:

[تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا] سب سے یکسو ہو کر صرف اسی کا ہوجا۔ [المزمل:8]

سب سے کاٹ کر صرف اسی سے جوڑ لے(یعنی) اللہ سے۔ جنھیں حکم ہوا تھا: [فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ]،[وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ] [ادھر اُدھر سے وقت بچا بچا کر اس رب العالمین کے کاموں میں لگ جایا کر]،[ دنیا ساری سے امید و آرزو کاٹ کر فقط اپنے رب کی طرف ہی رغبت پیدا کر] [الإنشراح:8،7]

جنھیں تعلیم توحید دیتے ہوئے فرمایا گیا تھا: [فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا] صرف الله عز وجل ہی پر بھروسا کرو۔ [يونس:84]، اس کا سہارا اور آسرا لیے رہو۔

جنھیں یقین واطمینان توحید دلانے کے لیے جلال و جبروت والی آواز آئی تھی: [اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ] کیا ساری مخلوق کو (جو ہماری غلام ہے) ہماری آقائی کافی نہیں [الزمر: 36] کیا اللہ تعالیٰ اپنے غلاموں کو کافی نہیں؟

جنھیں متنبہ کرنے کے لیے ان کے نبی (ﷺ) سے خطاب کرتے ہوئے فرما دیا گیا تھا: [لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ] اگر تجھ سے بھی شرک سرزد ہو گیا تو دفتر نبوت سے نام کاٹ دوں گا۔ [الزمر:65]

آہ! آج وہ امت دھڑلے سے شرک کر رہی ہے۔ قبر کو یہ نہ چھوڑیں، تعزیوں کو یہ نہ چھوڑیں، خانقاہوں کو یہ نہ چھوڑیں، شدوں اور پنچوں کو یہ نہ چھوڑیں، مقبرے اور چبوترے یہ نہ چھوڑیں، درخت اور پانی یہ نہ چھوڑیں، کاغذ اور ابرک یہ نہ چھوڑیں، مٹی اور خاک یہ نہ چھوڑیں، غرض رب کے ساتھ سبھی کو پوج ڈالا، جتنے کنکر اتنے شنکر بنا ڈالے۔ نذریں نیازیں مخلوق کی۔ عرض مدعا مخلوق سے، دعا وندا مخلوق سے، قسمیں مخلوق کی، سجدےمخلوق کے لیے، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا مخلوق کے لیے، عالم الغیب اور داتا سمجھنا مخلوق کو، حاضر و ناظر ، مشکل کشا اور دستگیر وحاجت روا جانا مخلوق کو ۔ غرض بالکل ہندوؤں کی طرح ہند میں آکر ان برائے نام مسلمانوں نے بھی اپنے اسلام پر ہندوانہ رنگ چڑھا لیا اور گویا صاف کہہ دیا:

بنے ہیں پوجنے کے پتھر،

ادھر ہمارے ادھر تمھارے۔

ہم تو ہر چند دماغ دوڑاتے ہیں لیکن ان حضرات کی حکمت تک رسائی ہی نہیں ہوتی، کہ جب حق تبارک و تعالیٰ ہر دور اور نزدیک کی پکار کو سنتا ہے۔ تو پھر نبیوں، ولیوں میں یہ وصف کیوں مانا جائے اور انھیں دور نزدیک سے کیوں پکارا جائے، جب تمام حاجتیں اکیلا اللہ تعالی پوری کرتا ہے تو پھر یہ وصف مخلوق میں مان کر ان سے حاجتیں کیوں طلب کی جائیں، جب مرادوں کا بر لانے والا، مشکل کشائی کرنے والا وہی ہے تو پھر کیوں نہ مان لیا جائے کہ اور کوئی نہیں، جب ہم ،،لا الہ الا اللہ،، پڑھتے ہیں تو پھر رب کے اوصاف اوروں میں کیوں مانیں۔ اور رب کے کرنے کے کاموں کا کرنے والے انھیں کیوں جانیں، مثلا اولاد دینا، رزق میں کشادگی کرنا، بارش برسانا، برکتیں عطا فرمانا، بیماری سے صحت بخشنا وغیرہ۔ جب ہم ارحم الراحمین اللہ تبارک و تعالیٰ کو مانتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ہم پر اس سے زیادہ رحم کھانے والا کوئی پیر، پیغمبر، ولی، شہید، فرشتہ نہیں۔ جب ہم احکم الحاکمین اللہ تعالیٰ عزوجل کو مانتے ہیں تو ظاہر ہے کہ سب کے احکام ٹل سکتے ہیں، جس کا کوئی حکم نہیں ٹلتا وہ فقط اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے۔ اسی کی شان ہے:

[یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ] یعنی وہ کرتا ہے جو چاہتا ہے [آل عمران:40]

[یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ] وہ حکم دیتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔ [المائدة:1]

[فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ] اس کے فضل و کرم کے آنے کوئی ہاتھ نہیں رکھ سکتا، کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ [یونس:107]

[وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ] اس کا چاہا پورا ہوتا ہے اور کسی کی تمام چاہتیں پوری نہیں ہوتیں۔ [التكوير:29]

[وَہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ] وہی اپنے تمام بندوں پر غالب، قہار اور سب پر حکمران ہے۔ [الأنعام:61]

[مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ] اس کے سامنے سفارش اور شفاعت کے لیے بھی بغیر اس کی اجازت کے کوئی لب نہیں کھول سکتا۔ [البقرة :255]

[ قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا] بلکہ ساری شفاعتوں کا مالک بھی وہی ہے۔ [الزمر:44]

ہاں مسلمانو! کیا تم نہیں جانتے کہ دنیا کے تمام انسانوں کے سرور و سردار، سب سے افضل وبہتر محمدﷺ ہیں، لیکن آپ بھی کسی چیز کے مالک نہ تھے۔ اللہ کی حکومت میں آپ کی کوئی شر کت نہ تھی۔ کلمہ میں ہے: [أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه] یعنی محمد (ﷺ) رب کے بندے (یعنی) ماتحت، غلام، حکم بردار اور اس کے رسول ہیں۔ پس ساری مخلوق انبیاء، اولیاء، صلحاء اور شہداء رب کے غلام ہیں، اس کے بندے ہیں، اس کے عبادت گزار ہیں، اس کے سامنے عاجز و لاچار ہیں۔ اس کے حکم کے بغیر پتا نہیں ہلتا، ہوا کا جھونکا نہیں چلتا، پانی کا قطرہ نہیں برستا، اناج کا دانا نہیں نکلتا، خود رسول اللہﷺ پر بلائیں، آفتیں، امتحانات، مصائب آئے، دنّوں بیمار رہے، فاقوں سے پیٹ پر پتھر باندھے، آپ پر جادو کیا گیا، آپ کو دشمنوں نے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، آپ کے جسم مبارک کو خون میں نہلایا گیا، آپ کی راہ میں روڑے اٹکائے، آپ کے ساتھیوں پر ظلم وستم کیے، بلکہ ان نامرادوں نے خود آپ پر تہمتیں باندھیں، آپ ملول خاطر ہوئے۔ آپ کو میدان احد میں، جنگ حنین میں کچھ دیر کے لیے شکست ہوئی، چہرہ زخمی ہوا، دندانِ مبارک شہید ہوئے، پنڈلیاں لہو لہان ہوئیں، بالآخر آخری وقت آیا، امت کو روتا بلکتا چھوڑ کر راہئ ملک بقا ہوئے۔ پس جب ایسے سردار رسولاں، شفیع مذنباں ﷺ اپنی جان پر سے اپنی زندگی ہی میں مصیبتوں اور آفتوں کو نہیں ٹال سکے تو آج اور کون ہوگا جو اے لوگو! تمھارے آڑے وقت کام آئے تمھاری مصیبتیں ٹالے تمھارے دکھ دور کرے۔

ہاں! قرآن کے پڑھنے والو! پڑھو! [وَ اِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ] [الشعراء :80]،پڑھو! [اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ] [النمل:62]، پڑھو! [ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ]، [الشورى:49]، پڑھو! [یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ]، [فاطر:15]، پڑھو! [اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا]، [مریم:93]، اور پڑھو! [یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ]، [الرحمن:29]، اور پڑھو! [اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ]، [العنكبوت:6] ،اور تلاوت کرو! [وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ]، [الرعد:15]، اور سنو! [مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا]، [ھود:56]، اور کہو! [وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ]، [الرعد:11]، اور یہ بھی پڑھو! [وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ]، [آل عمران:126]

یعنی بیماریوں کی شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بیقراروں کی دعاؤں کا سننے والا، بیقراریوں کو دور کرنے والا وہی ہے۔ اولادیں دینے والا بھی صرف وہی ہے۔ ساری مخلوق کا خالق بھی وہی اللہ عزوجل ہے۔ سب کا روزی رساں بھی وہی رزاق اکبر ہے۔ دنیا کے تمام لوگ خواہ انبیاء ہوں خواہ اولیاء، خواہ شہداء ہوں خواہ صلحاء، خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ، یہ سب اللہ کے در کے فقیر اور اس کے محتاج ہیں، یہ سب اس کے غلام اور اس کے بندے ہیں، یہ سب کے سب خواہ زمین میں ہوں، خواہ آسمان میں دربار رب کے سائل، بھکاری اور فقیر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی سب سے بے نیاز ہے، سب سے بے پروا ہے۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق، ہر قسم کی مخلوق اس کے سامنے سرنگوں بے چون و چراں ہے۔ سب کی پیشانیاں اور چوٹیاں اس رحمان غالب رب کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ کسی کو نقصان پہنچانا چاہے تو کوئی دفع کرنے والا نہیں، وہ کسی کی مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ۔ سارا نفع و نقصان اس کے ہاتھ میں ہے۔

باوجود قرآن کریم کی ان صاف اور واضح آیتوں کے، باوجود توحید کی اس وضاحت و صراحت کے آج قرآن کا دم بھرنے والے، توحید کا نام لینے والے بھی رب کے بندوں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے اور لطف تو یہ ہے کہ اپنے اس ظلم عظیم پر اپنے خیال سے دلیلیں بھی دینے لگے لیکن میں کہتا ہوں گمراہ سے گمراہ شخص بھی اپنی گمراہی پر اپنے نزدیک کوئی نہ کوئی گیلی سوکھی دلیل ضرور رکھتا ہے، یہاں تک کہ ابلیس نے بھی جناب آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے میں اپنے حق بجانب ہونے کی ایک دلیل پیش کر ہی دی تھی: [خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ] یہ مٹی سے پیدا ہوا اور میں آگ سے بنا ہوا ہوں۔ [الأعراف:12]

اس لیے [اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ] میں اس سے بہتر ہوں پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس کمتر کے سامنے جھکوں۔

توحيد في التصرف یہ ہے

کہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا۔

شرک فی التصرف یہ ہے

کہ کسی قسم کے نفع و نقصان میں اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی با اختیار سمجھنا۔ یاد رہے کہ یہ آیات ہر کلمہ گو کو ساری مخلوق سے بے نیاز کرتی ہیں:

[وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ]

اور اگر اللہ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے (جیسے بیماری، محتاجی یا کوئی اور تکلیف) تو اس کا ٹالنے والا اس کے سوا کوئی نہیں اور اگر وہ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ [الأنعام:17]

[وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ]

اور اگر اللہ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھ کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی پھیر دینے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہے فائدہ پہنچائے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ [يونس:107]

[وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ]

اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ [ھود:6]

[مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]

اللہ اپنی رحمت جو لوگوں پر کھول دے تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک رکھے تو اس کا کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی زبردست ہے، حکمت والا۔ [فاطر:2]