دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا بال أحدكم فلا يأخذ ذكره بيمينه، ولا يستنجي بيمينه، ولا يتنفس فى الإناء
”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو چھوئے نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ہی (کوئی چیز پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔“
بخاری، کتاب الوضوء, 154۔ مسلم، کتاب الطهارة، 267/63۔
طہارت میں زیادتی کی ممانعت
① سیدنا ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں جنت میں داخل ہونے پر تجھ سے جنت کے دائیں جانب سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: بیٹا! اللہ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
سيكون فى هذه الأمة قوم يعتدون فى الطهور وفي الدعاء
”اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت و دعا میں زیادتی کریں گے۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 96۔ ابن ماجه، کتاب الدعاء، 3864۔
بول و براز کے وقت قبلہ رخ ہونے کی ممانعت
① سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها ببول ولا غائط ولكن شرقوا أو غربوا
”جب تم بول و براز کے لیے آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔“
ابو ایوب بیان کرتے ہیں: ہم ملک شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلاء قبلہ کی سمت بنائے گئے ہیں، پس ہم ان سے منہ پھیر لیتے اور اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کرتے۔
بخاری، کتاب الصلوة، 394۔ مسلم، کتاب الطهارة، 264/59۔
وضاحت: قضائے حاجت کے وقت مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنے کا خطاب اہل مدینہ سے ہے کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف تھا۔ برصغیر میں رہنے والوں کے لیے قبلہ مغرب کی طرف ہے، لہذا ہمارے لیے جنوب اور شمال کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے۔ مختصراً قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہیں کرنی چاہیے۔
قابل لعنت و ملامت جگہوں میں پیشاب کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا اللعانين
”دو قابل لعنت چیزوں سے بچو۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ دو قابل لعنت چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذي يتخلى فى طريق الناس أو ظلهم
”جو لوگوں کے راستے یا ان کی سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“
مسلم، کتاب الطهارة، 269/68۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين، 493/2، حدیث 8875۔
② سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا الملاعن الثلاث: البراز فى الموارد، وقارعة الطريق، والظل
”تین قابل لعنت چیزوں سے بچو: سرچشموں، عام گزرگاہ اور سائے میں پیشاب وغیرہ کرنے سے بچو۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 26۔ ابن ماجه، 328۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔
③ سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بِل میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: بِل میں پیشاب کرنا کیوں ناپسند ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کا مسکن ہے۔
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 29۔
④ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبولن أحدكم فى مستحمه، فإن عامة الوسواس منه
”تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے کیونکہ عام وسوسے اس سے پیدا ہوتے ہیں۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 27۔ ترمذى، کتاب الطهارة، 21۔
⑤ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساکن اور ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم، کتاب الطهارة، 281/94۔