وضو کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا توضأ العبد المسلم أو المؤمن فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيئة نظر إليها بعينيه مع الماء أو مع آخر قطر الماء، فإذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيئة بطشتها يداه مع الماء أو مع آخر قطر الماء، فإذا غسل رجليه خرجت كل خطيئة مشتها رجلاه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب
”جب بندہ مسلم یا مومن وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ کر کی ہوتی ہے، اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کی ہوتی ہے، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے پاؤں نے جو چل کر خطا کی ہوتی ہے وہ نکل جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ (بندہ مومن) گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔“
مسلم، کتاب الطهارة، 244/32۔ مسند احمد، باقی مسند المكشرين، 405/2، حدیث 8040۔
② سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت أظفاره
”جو شخص وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح وضو کرتا ہے تو اس کے جسم سے، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔“
بخاري، کتاب الوضوء، 6433۔ مسلم، کتاب الطهارة، 232/13۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا توفي أحدكم غرا محجلين من آثار الوضوء، فمن استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل
”میری امت کے لوگ قیامت کے دن بلائے جائیں گے تو وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، پس تم میں سے جو استطاعت رکھتا ہو کہ اپنی چمک کو بڑھائے تو وہ بڑھالے۔“
بخاري، کتاب الوضوء, 136۔ مسلم، کتاب الطهارة، 246/35۔
④ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ على طهر كتب الله له به عشر حسنات
”جو شخص باوضو ہونے کے باوجود دوبارہ وضو کرتا ہے تو اس وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 62۔ ترمذى، کتاب الطهارة، 59۔ مجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کا دارومدار عبد الرحمن بن زیاد افریقی پر ہے اور وہ ضعیف بھی ہے اور مدلس بھی ۔
⑤ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، فتـحت له أبواب الجنة الثمانية يدخل من أيها شاء
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر کہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں شامل فرمائے۔
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں وہ جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين کا ذکر نہیں کیا۔
مسلم، کتاب الطهارة، حدیث 234/17۔ ترمذى، کتاب الطهارة، حدیث 55۔
دوران وضو ایڑیوں کو خشک چھوڑنے کی ممانعت
① سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آ رہے تھے حتی کہ راستے میں پانی کے پاس آئے تو لوگوں نے نمازِ عصر کے لیے جلدی جلدی وضو کیا۔ جبکہ ہم ابھی انتظار کر رہے تھے، ان کی ایڑیاں خشک رہ جانے کی وجہ سے چمک رہی تھیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ويل للأعقاب من النار، أسبغوا الوضوء
”آگ میں جانے والی ایڑیوں پر افسوس! وضو اچھی طرح کرو۔“
بخاری، کتاب العلم، 60۔ مسلم، کتاب الطهارة، 241/26۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی ایڑی نہ دھوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:
ويل للأعقاب من النار
”آگ میں جانے والی ایڑیوں پر افسوس!“
بخاري، کتاب الوضوء، حدیث 165۔ مسلم، کتاب الطهارة، 242/28۔
بغیر وضوء نماز پڑھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لا وضوء له، ولا وضوء لمن لا يذكر اسم الله عليه
”اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھتا اس کا وضو نہیں ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 101۔ ابن ماجه، کتاب الطهارة وسننها، 399۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أحدث أحدكم فلا يقبل الله صلاة أحدكم إذا أحدث حتى يتوضأ
”جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ وضو نہ کر لے تو اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں کرتا۔“
بخاري، کتاب الحيل، حدیث 6954۔ مسلم، کتاب الطهارة، حدیث 225/2۔ابو داؤد، کتاب الطهارة، حدیث 60۔
③ ابو ملیح اپنے والد سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقبل الله صدقة من غلول، ولا صلاة بغير طهور
”اللہ چوری کے مال میں سے کی گئی خیرات اور طہارت کے بغیر پڑھی گئی نماز قبول نہیں فرماتا۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، حدیث 59۔ النسائي، الطهارة، 75/1۔
④ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يقبل الله صلاة بغير طهور، ولا صدقة من غلول
”اللہ طہارت کے بغیر پڑھی گئی نماز اور چوری کے مال میں سے کی گئی خیرات قبول نہیں کرتا۔“
مسلم، کتاب الطهارة، حدیث 224/1۔ ترمذى، کتاب الطهارة، 1۔