گردن پر مسح
سوال: گردن پر مسح کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب: گردن پر مسح ثابت نہیں، یہ بدعت ہے۔
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
[ولا وردت به سنة ثابتة]
اس بارے میں کوئی ثابت حدیث وارد نہیں ہوئی۔ [المجموع: 463/1]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[لم يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه مسح على عنقه في الوضوء بل ولا روي عنه ذلك في حديث صحيح بل الأحاديث الصحيحة التي فيها صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يمسح على عنقه؛ ولهذا لم يستحب ذلك جمهور العلماء كمالك والشافعي وأحمد في ظاهر مذهبهم۔۔۔۔۔۔ ومن ترك مسح العنق فوضوءہ صحيح باتفاق العلماء]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گردن پر مسح کرنا ثابت نہیں، نہ ہی اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں ملتا ہے، بلکہ جن صحیح احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ہوا ہے، ان میں گردن پر مسح کرنے کا ذکر نہیں، اسی لیے جمہور اہل علم نے اسے مستحب قرار نہیں دیا، جیسا کہ امام مالک، امام شافعی اور ظاہرِ مذہب کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ ہیں۔۔۔۔۔۔ جس نے گردن پر مسح نہ کیا، اس کا وضو بالاتفاق صحیح ہے۔
[مجموع الفتاویٰ: 127/21]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
[لم يصح عنه في مسح العنق حديث البتة]
گردن پر مسح کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ [زاد المعاد: 187/1]