وضو میں گردن پر مسح کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
مضمون کے اہم نکات

گردن پر مسح

وضو میں گردن کا مسح ثابت نہیں، بعض اہل علم نے اسے بدعت کہا ہے۔ اس بارے میں مروی ساری کی ساری روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں۔
سر کے مسح کے ساتھ گدی کا مسح کرنا درست ہے۔ البتہ سر کا مسح کرنے کے بعد الگ سے الٹے ہاتھوں گردن کے پہلو کا مسح کرنا بدعت ہے، اس بارے میں کوئی جھوٹی روایت بھی نہیں، چہ جائیکہ کوئی صحیح یا حسن روایت ہو۔ اسی طرح حلق کا مسح کرنا بھی ایجاد دین ہے۔

سوال: گردن پر مسح کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب: گردن پر مسح ثابت نہیں، یہ بدعت ہے۔

حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:

[ولا وردت به سنة ثابتة]

اس بارے میں کوئی ثابت حدیث وارد نہیں ہوئی۔ [المجموع: 463/1]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[لم يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه مسح على عنقه في الوضوء بل ولا روي عنه ذلك في حديث صحيح بل الأحاديث الصحيحة التي فيها صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يمسح على عنقه؛ ولهذا لم يستحب ذلك جمهور العلماء كمالك والشافعي وأحمد في ظاهر مذهبهم۔۔۔۔۔۔ ومن ترك مسح العنق فوضوءہ صحيح باتفاق العلماء]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گردن پر مسح کرنا ثابت نہیں، نہ ہی اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں ملتا ہے، بلکہ جن صحیح احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ہوا ہے، ان میں گردن پر مسح کرنے کا ذکر نہیں، اسی لیے جمہور اہل علم نے اسے مستحب قرار نہیں دیا، جیسا کہ امام مالک، امام شافعی اور ظاہرِ مذہب کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ ہیں۔۔۔۔۔۔ جس نے گردن پر مسح نہ کیا، اس کا وضو بالاتفاق صحیح ہے۔
[مجموع الفتاویٰ: 127/21]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[لم يصح عنه في مسح العنق حديث البتة]
گردن پر مسح کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ [زاد المعاد: 187/1]

روایات:

دلیل نمبر ①

سیدنا کعب بن عمرو یمامی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح رأسه مرة واحدة حتى بلغ القذال]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور گدی کے اول حصہ تک مسح کیا۔
[سنن ابی داود: 132]

روایت ضعیف و منکر ہے۔

لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک "ضعیف و مختلط” ہے۔

❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
[اتفق العلماء على ضعفه، واضطراب حديثه، واختلال ضبطه]
اہل علم کا اتفاق ہے کہ لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے، اس کی حدیث میں اضطراب ہے اور اس کے حافظے میں خلل ہے۔
[تہذیب الاسماء واللغات: 75/2]

❀ نیز فرماتے ہیں:
[ضعفه الجماهير]
اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[شرح صحیح مسلم: 52/1]

❀ علامہ قدوری حنفی رحمہ اللہ (328ھ) لکھتے ہیں:
[مجمع على تضعيفه، وترك الإحتجاج به]
اس کے ضعیف اور ناقابلِ حجت ہونے پر اجماع ہے۔
[التجريد: 6109/12]

❀ علامہ جمال ملطی حنفی رحمہ اللہ (803ھ) لکھتے ہیں:
[ليست روايته عند أهل العلم بالأسانيد قوية]
محدثین کرام کے نزدیک اس کی روایت قوی نہیں ہوتی۔
[المعتصر من المختصر من مشكل الآثار: 215/2]

❀ الطیوریات (472) میں لیث بن ابی سلیم کی متابعت ایک بن مغول نے کی ہے مگر وہ سند جھوٹی ہے، اس میں سعید بن محمد "کذاب” ہے۔

مصرف بن کعب/عمرو "مجہول” ہے۔

❀ اسے حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ نے "مجہول” قرار دیا ہے۔
[بيان الوهم والإيهام: 318/3]

❀ امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[حدثت به بيحيى فأنكره]
میں نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ کو بیان کی، تو انہوں نے اس حدیث کو منکر قرار دیا۔
[سنن ابی داود تحت الحدیث: 132]

❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إن ابن عيينة زعموا أنه كان ينكره، ويقول: أيش هذا طلحة، عن أبيه، عن جده]
علماء کے مطابق سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اس حدیث کو منکر قرار دیتے تھے اور کہتے تھے طلحہ عن ابیہ عن جدہ بن کیا ہے؟
[سنن ابی داود تحت الحدیث: 132]

❀ معجم کبیر طبرانی (412) والا طریق بھی ضعیف ہے۔

① عمرو بن سری بن مصرف کے حالات نہیں ملے

② سری بن مصرف "مجہول” ہے۔

③ سری بن مصرف کا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔

❀ حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[سماعه منه لا يعرف]
سری بن مصرف کا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
[بيان الوهم والإيهام: 318/3]

❀ عبدالحق اشبیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هذا الإسناد لا أعرفه]
اس سند کے راویوں کو میں نہیں پہچان سکا۔
[الأحكام الوسطى: 166/1]

❀ اس حدیث کے بارے میں حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو حديث ضعيف بالاتفاق]
یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔
[المجموع: 464/1]

❀ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[حديث مسح الرقبة في الوضوء باطل]
وضو میں گردن پر مسح کی حدیث باطل ہے۔
[المنار المنيف: ص 120]

❀ اس حدیث کو حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے "ضعیف” کہا ہے۔
[البدر المنير: 225/2]

❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو "ضعیف” کہا ہے۔
[التلخيص الحبير: 288/1، الدراية: 20/1]

دلیل نمبر ②

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے:

[إنه كان إذا توضأ مسح عنقه ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من توضأ ومسح عنقه لم يغل بالأغلال يوم القيامة]
آپ رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے، تو گردن پر مسح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو میں گردن کا مسح کیا، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی گردن میں طوق نہیں پہنائے گا۔
[تاریخ اصبہان لابی نعیم: 78/2]

روایت سخت ضعیف ہے۔

عمرو بن محمد بن الحسن "ضعیف و منکر الحدیث” ہے، نیز یہ "کثیر الوہم” بھی ہے، شاید اس وجہ سے "ثقات” سے منسوب منکر روایات بھی بیان کرتا تھا۔

محمد بن عمرو بن عبید الانصاری "ضعیف” ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

[من توضأ ومسح يديه على عنقه وقي الغل يوم القيامة]
جس نے وضو میں گردن کا مسح کیا، اسے روزِ قیامت طوق پہنائے جانے سے بچا لیا جائے گا۔
[الإمام في معرفة أحاديث الأحكام لابن دقيق العيد: 585/1، التلخيص الحبير لابن حجر: 163/1]

جھوٹی روایت ہے۔ مسلم بن زیاد حنفی کے حالاتِ زندگی نہیں ملے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أتى بخبر كذب في مسح الرقبة]
مسلم خفّی نے گردن پر مسح کے بارے میں جھوٹی حدیث بیان کی ہے۔
[میزان الاعتدال: 103/4]

❀ لہٰذا ابو المحاسن رویانی (بحر المذهب:101/1) کا اسے "صحیح” کہنا درست نہ ہوا۔

دلیل نمبر ③

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

[۔۔۔۔۔۔ثم مسح رقبته]
[۔۔۔۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن پر مسح کیا۔
[المعجم الکبیر للطبرانی: 118]

سند سخت "ضعیف” ہے:

① محمد بن حجر بن عبدالجبار "ضعیف و منکر الحدیث” ہے۔

② اس کی راویہ ام یحییٰ "مجہولہ” ہے۔

❀ علامہ ابن ترکمانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أم يحيى لم أعرف حالها ولا اسمها]
میں ام یحییٰ کے حالات نہیں جان پایا، نہ مجھے اس کا نام معلوم ہوا ہے۔
[الجوهر النقي: 30/2]

③ سعید بن عبدالجبار "ضعیف” ہے۔

❀ اس حدیث کو حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ نے "ضعیف” قرار دیا ہے۔
[بيان الوهم والإيهام: 155/3]

دلیل نمبر ④

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

[أمرت بالوضوء، فوضأني جبريل فرض الوضوء، وسننت أنا فيه الإستنجاء والمضمضة والاستنشاق وغسل الأذنين وتخليل اللحية ومسح القفا، وهو أسبغ الوضوء]
مجھے وضو کا حکم دیا گیا، تو جبریل نے وضو کے فرائض کر کے دکھائے، میں نے وضو میں سنن شامل کیے: ① استنجاء، ② کلی، ③ ناک میں پانی چڑھانا، ④ کانوں کو دھونا، ⑤ ڈاڑھی کا خلال، ⑥ گدی پر مسح۔ یہ وضو کا کمال ہے۔
[الكامل لابن عدي: 365/1]

روایت جھوٹی ہے۔

① ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ "متروک و کذاب” ہے۔

② ابو زید جرجرائی کی توثیق معلوم نہیں۔

③ زہری کا عنعنہ ہے۔

❀ الکامل لابن عدی (364/1) کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے۔

① مسلم بن خالد زنجی "ضعیف” ہے۔

❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الجمهور ضعفه]
اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[مجمع الزوائد: 45/5]

② زہری کا عنعنہ ہے۔

دلیل نمبر ⑤

موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے منسوب ہے:

[من مسح قفاه مع رأسه وقي الغل يوم القيامة]
جس نے سر کے ساتھ گدی کا مسح بھی کیا، اسے روزِ قیامت طوق پہننے سے بچا لیا جائے گا۔

سند ضعیف ہے۔ عبدالرحمن بن عبداللہ بن عتبہ مسعودی مختلط ہے، علی بن ثابت اور عبدالرحمن بن مہدی کا ان سے قبل از اختلاط روایت لینا ثابت نہیں۔
[الظهور لأبي عبيد: 368]

❀ یہ سند بھی ضعیف ہے۔ مسعودی مختلط ہے، حجاج بن محمد اعور کا ان سے قبل از اختلاط روایت لینا ثابت نہیں۔
[الطهور لأبي عبيد: 369]

❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
[هو يقتضي أن مسح السالفة والقذال من تمام مسح الرأس ومنتهاه، فإن كان المراد بهذا الحديث ذلك المعنى لم يدل على استحباب مسح العنق بمفرده]
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ سر کے پچھلے حصہ اور گدی کا مسح کرنا دراصل پورے سر کا ہی مسح کہلائے گا، اگر حدیث کا یہی معنی لیا جائے، تو اس سے الگ سے گردن پر مسح کا استحباب ثابت نہیں ہوتا۔
[الإمام في معرفة أحاديث الأحكام: 585/1]

❀ علامہ عظیم آبادی رحمہ اللہ (1329ھ) فرماتے ہیں:
[الحديث مع ضعفه لا يدل على استحباب مسح الرقبة لأن فيه مسح الرأس من مقدمه إلى مؤخر الرأس أو إلى مؤخر العنق على اختلاف الروايات وهذا ليس فيه كلام إنما الكلام في مسح الرقبة المعتاد بين الناس أنهم يمسحون الرقبة بظهور الأصابع بعد فراغهم عن مسح الرأس وهذه الكيفية لم تثبت في مسح الرقبة لا من الحديث الصحيح ولا من الحسن بل ما روي في مسح الرقبة كلها ضعاف كما صرح به غير واحد من العلماء فلا يجوز الاحتجاج بها]
یہ حدیث ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ گردن پر مسح کے مستحب ہونے پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اس میں سر کے ابتدائی حصہ سے انتہائی حصہ تک یا بعض روایات کے مطابق گردن کے انتہائی حصہ تک مسح کرنے کا ذکر ہے اور اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اختلاف تو اس میں ہے کہ جو لوگ سر کے مسح سے فارغ ہو کر انگلیوں کی اوپری والی اطراف سے گردن پر مسح کرتے ہیں۔ اس کیفیت کے ساتھ گردن کا مسح کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں، نہ کسی صحیح حدیث سے اور نہ حسن سے، بلکہ گردن کے مسح کے بارے میں جتنی روایات ہیں، سب کی سب ضعیف ہیں، جیسا کہ کئی ایک علماء نے صراحت کی ہے، لہذا ان روایات سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔
[عون المعبود: 152/1]

تنبیہ:

❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) لکھتے ہیں:
[أما مسح الرقبة، فلم يرد فيه رواية عن أصحابنا المتقدمين]
گردن پر مسح کے بارے میں ہمارے متقدمین حنفی فقہاء سے کوئی روایت نہیں ہے۔
[البناية: 219/1]

بعض حنفی علماء نے گردن کے مسح کا ذکر تک بھی نہیں کیا، جیسا کہ صاحب ہدایہ وغیرہ۔