رسول اکرم ﷺسے محبت:
“عقیدہ الولاء” کی رو سے اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اکرم ﷺ سے ایسی محبت کرنا تمام اہل ایمان پر فرض ہے۔ جو ماں،باپ،بیوی،بچوں اور دیگر اعزہ واقارب حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ] ترجمہ:اہل ایمان کے لئے نبی، اپنی ذات پر بھی مقدم ہے۔ (سورۃ الاحزاب:6) یہی بات رسول اکرم ﷺ نے زیادہ وضاحت کے ساتھ حدیث شریف میں یوں بیان فرمائی ہے۔ ’’کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بیٹے، والد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر میرے ساتھ محبت نہ کرے۔‘‘ (بخاری:15،مسلم:44)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نہ صرف نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے کا حکم دیاہے بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ میں اور فرشتے بھی محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں لہٰذا تمام اہل ایمان کو نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنی چاہئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ [اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا] ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:56)
اللہ تعالیٰ کا نبی اکرم ﷺ پر ’’صلاۃ‘‘ بھیجنے سے مراد رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنا اور رسول اکرم ﷺ پر اپنی رحمتیں نازل فرمانا ہے۔ فرشتوں کا نبی اکرم ﷺ پر ’’صلاۃ‘‘ بھیجنے سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت کرنا اور آپ ﷺ پر رحمت نازل کرنے کی دعائیں کرنا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اور فرشتے رسول اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو اہل ایمان پر رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنا بدرجہ اولیٰ فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے علاوہ امت کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی محبت، شفقت اور رحمت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ ہر مسلمان اپنی جان مال اور آل اولاد سے بڑھ کر رسول اکرم ﷺ سے محبت کرے۔
غور فرمائیے! وہ محترم اور مکرم رسول ﷺ جنہوں نے ہمیں عقیدہ توحید سے آشنا کیا، جنہوں نے ہمیں جہنم کے راستے سے ہٹا کر جنت کے راستے پر ڈالا، جنہوں نے ہمیں اللہ کی بندگی کا سلیقہ سکھایا، جنہوں نے ہمیں با مقصد زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی، جنہوں نے ہمیں اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے، سونے، جاگنے، کھانے، پینے اور گفتگو کرنے حتی کہ طہارت اور پاکیزگی کے آداب سکھلائے، جنہوں نے ہم تک دین پہنچانے کے لئے بے پناہ مصائب اور مظالم برداشت کئے، جنہوں نے پتھر مارنے والوں اور لہولہان کرنے والوں کے لئے ہدایت کی دعائیں مانگیں، جنہوں نے دشمن پر دسترس حاصل ہونے کے بعد کمال شفقت اور مہربانی سے انہیں معاف فرما دیا، جنہوں نے رات کی تنہائیوں میں ہمارے لئے مغفرت اور بخشش کی دعائیں مانگیں، جنہوں نے سات آسمانوں کے اوپر جاکر بھی ہمیں فراموش نہیں فرمایا، جنہوں نے ساری ساری رات ہمارے غم میں آنسو بہائے، جنہوں نے اپنی مخصوص دعا ہماری مغفرت کے لئے محفوظ فرمالی، جو جہنم اور جنت کا فیصلہ ہوجانے کے بعد بھی ہماری شفاعت کے لئے بے چین ہوں گے جو واقعتا ہمارے ماں باپ، ہمارے بیوی بچوں سے بھی زیادہ ہمارے خیرخواہ اور ہمدرد ہیں بلکہ ہماری اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ہمارے محسن اور مہربان ہیں، ان سے ایسی محبت کرنا جو اللہ تعالیٰ کے بعد دنیا کے تمام رشتوں سے بڑھ کر ہو، ہر مسلمان پر واجب ہونی ہی چاہئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان کے اُس درجہ پر فائز تھے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا اس لئے بعد میں آنے والے مسلمانوں کو حکم دیا گیاکہ ’’تم بھی ویسا ہی ایمان لاؤ جیسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان لائے تھے۔ ‘‘ارشاد باری تعالیٰ ہے: [اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ] ترجمہ: ’’ویسا ہی ایمان لاؤ جیسا ایمان لوگ (مراد ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) لائے ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 13) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کا حق ادا کیا بلکہ رسول اکرم ﷺ سے بھی محبت کا منفرد زریں باب رقم کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اکرم ﷺ سے محبت کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
① مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو رسول اکرم ﷺ نے اسے گمراہی سے روکنے کے لئے سیدنا حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ خط ارسال کیا خط پڑھ کر مسیلمہ نے سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ ‘‘سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’ ہاں!میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ مسیلمہ نے پوچھا ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’نہیں!‘‘ مسیلمہ نے جلاد کو حکم دیا اس کا ایک بازو کاٹ دو۔ جلاد نے سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ کا ایک بازو کاٹ دیا۔مسیلمہ نے دوبارہ پوچھا: کیاتم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کیا تو مسیلمہ نے سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ کا دوسرا بازو کاٹنے کا حکم دیا۔ جلاد نے دوسرا بازو بھی کاٹ دیا۔ مسیلمہ بار بار سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کرتا رہا سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ انکار کرتے رہے اور مسیلمہ سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑے کرتارہا حتی کی صبرو استقامت کے پیکر نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ (رضی اللٰہ عنہم ورضوا عنہ)
سیدنا حبیب رضی اللہ عنہ کی والدہ کو جب اپنے بیٹے کی اس مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تو کہنے لگیں ’’میں نے اسی لئے تو اپنے بیٹے کو پالا پوسا تھا، میں اللہ کے ہاں ثواب کی طالبہ ہوں۔ [حلية الأولياء لأبي نعيم: 1/356]
② غزوہ احد میں سیدہ ہند بنت عمرو انصاریہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ)، بھائی (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ)، بیٹا (سیدنا خلاد بن عمرو رضی اللہ عنہ)، تینوں شریک ہوئے اور شہید ہو گئے۔ جنگ کے اختتام پر لوگ مدینہ واپس آنے شروع ہوئے توسیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے ان سے سوال کیا، رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: تمہارا شوہر شہید ہوگیا ہے۔ سیدنا ہند رضی اللہ عنہا نے بڑے حوصلے سے یہ خبر سنی اور پھر اپنا سوال دہرایا، رسول اکرم ﷺ کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: تیرا بھائی بھی شہید ہوگیا ہے۔ سیدنا ہند رضی اللہ عنہا نے یہ خبر بھی پورے صبر و ثبات کے ساتھ سنی اور پھر اپنا سوال دہرایا، رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟لوگوں نے بتایا، تیرا بیٹا بھی شہید ہوگیاہے۔ عزم واستقامت کی پیکر خاتون کے جذبہ ایمانی میں تینوں قریبی اعزہ کی شہادت نے معمولی سی لرزش بھی پیدا نہ کی اور پھر لوگوں سے وہی سوال پوچھا، رسول اکرم ﷺ کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا، اللہ کے رسول ﷺ تو خیریت سے ہیں۔ تب اس شیر دل خاتون کے دل کو قرار آیا۔ بڑے سکون اور وقار کے ساتھ میدان احد کی طرف چل دیں۔ رسول اکرم ﷺ کے رخ انور پر نظر پڑی تو فوراً پکار اٹھیں [کل مصیبۃ بعدک جلل] آپ کا نورانی چہرہ دیکھنے کے بعد اب ساری مصیبتیں ہیچ ہیں۔ [المحبَّر لابن حبيب: ص 404]
③ غزوہ احد میں ایک موقع پر اسلامی لشکر مشرکین کے شدید نرغہ میں آگیا۔ صرف نو آدمی رسول اللہ ﷺ کے اردگرد رہ گئے جب حملہ آور بالکل قریب آگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ان کو ہم سے دور کرے؟ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا، میں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: تم ابھی رہنے دو۔ ایک دوسرے صحابی نے عرض کیا، میں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تم آگے بڑھو۔ باری باری سات آدمی آپ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے، تب آپ ﷺ نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کی اجازت دی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوچکے تھے پیشانی خون آلود تھی ہونٹوں پر گہرے زخم آچکے تھے تھکاوٹ اور زخموں سے آپ ﷺ نڈھال ہوچکے تھے۔ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ایک طرف مشرکین پرزور دار حملہ کرکے انہیں پیچھے ہٹاتے اوردوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی طرف لپک کر آتے اور انہیں محفوظ مقام پر پہنچانے کے لئے پہاڑ پر چڑھنے میں مدد دیتے حتی کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مشرکین کو بھگانے اور آپ ﷺ کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوگئے اسی جدو جہد میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ جسم پر دس سے زیادہ نیزے اور تلوار کے زخم آئے، منتشر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ واپس آئے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے رخسار مبارک میں دھنسی ہوئی لوہے کی زرہ کی دو کڑیاں نکالنے لگے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں یہ کڑیاں مجھے نکالنے دو۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دونوں کڑیاں دانتوں سے کھینچ کر آپ ﷺ کے رخسار مبارک سے نکالیں اور اسی کوشش میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے اپنے دو دانت بھی گر گئے۔ اسی دوران میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوکر گرچکے تھے، آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: اپنے بھائی طلحہ رضی اللہ عنہ کو سنبھالو اس نے جنت واجب کرلی ہے۔
[سنن النسائي: 3149؛ سنن الترمذي: 1692]
④ ہجرت مدینہ کے بعد کفار اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ مسلمانوں کو ہر آن قریشِ مکہ کے حملہ کا خوف لگا رہتا۔ ان حالات میں بعض اوقات رسول اکرم ﷺ ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتے، بعض اوقات کوئی جانثار خادم پہرہ دیتا تو آرام فرما لیتے۔ ایک رات آپ ﷺ آرام فرمانا چاہ رہے تھے لیکن کوئی پہرے دار نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے تمنا فرمائی، کاش آج کوئی اللہ کانیک بندہ پہرہ دیتا تو میں آرام کر لیتا۔ اسی دوران میں کسی ہتھیار بند آدمی کی آمد کا احساس ہوا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے؟ آنے والے نے جواب دیا: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہوں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا کیسے آئے ہو؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے دل میں آپ ﷺ کے متعلق خطرے کا اندیشہ پیدا ہوا اس لئے آپ ﷺ کی حفاظت کے لئے پہرہ دینے حاضر ہوا ہوں۔ رسول اکرم ﷺ نے مسرت کا اظہار فرمایا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دعا دی اور آرام کی نیند سو گئے۔
[صحيح مسلم: 2410؛ صحيح البخاري: 2885]
حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت‘ عقیدت اور دوستی کا جذبہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک ایسی قدر مشترک تھی جسے ایک دوسرے سے ممیز کرنا بہت مشکل ہے البتہ ہر صحابی کی محبت اور عقیدت کے اظہار کا انداز الگ الگ ہے۔
❀ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کارسول اکرم ﷺ کو اپنے مکان کی نچلی منزل سے اوپر کی منزل میں منتقل ہونے کی درخواست کرنا، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا آخرت میں رسول اکرم ﷺکے دیدار سے محروم ہونے کے خدشہ سے رونا، دارالندوہ کی پرانی یادوں کو بھلانے کے لئے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا اسے فروخت کر کے صدقہ کرنا، سیدنا ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم ﷺ سے جنت میں رفاقت کا سوال کرنا، سیدنا حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم ﷺ کو اونگھ کی حالت میں ساری رات سہارادینا، غزوہ احد کے اختتام پر سیدنا زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ کا نیم جاں حالت میں اپنا سر، نبی اکرم ﷺ کے قدموں میں ڈال دینا، غزوہ احد میں سیدنا ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا انتہائی نازک موقع پر آپ ﷺ کے دفاع کے لئے تلوار چلانا، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم ﷺ کی موجودگی میں گھوڑے پر سوار نہ ہونا، غزوہ احدمیں رسول اکرم ﷺ کی حفاظت کے لئے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور ابودجانہ رضی اللہ عنہ کا اپنے آپ کو سپر بنا لینا، سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا کا اپنے بیٹے انس رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کی خدمت کے لئے وقف کردینا، آپ ﷺ کے بچے ہوئے مشروب کو پینے کی رغبت میں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا نفلی روزہ توڑ دینا، دوران خطبہ بیٹھنے کا حکم دینے پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ جانا، گنبد نما مکان کی تعمیر پر آپ ﷺ کے اظہار ناراضی فرمانے پر صحابی کا سارے کا سارا مکان گرا دینا، آپ ﷺکی وفات کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کااذان نہ دینا، سیدنا عبداللہ بن عمر رَضی اللہ عنہما کا ذکر رسول ﷺ پر بے قابو ہوکر رونا۔
❀ جمعرات کے ذکر پر سیدنا عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کی مسلسل ہچکی بندھ جانا،[یادرہے جمعرات کے روز رسول اکرم ﷺکے مرض میں شدید اضافہ ہوگیا تھاجب کبھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے جمعرات کا ذکر ہوتاتو بے خود ہوکر رونے لگتے،لوگ پوچھتے عبداللہ رضی اللہ عنہ جمعرات کوکیا ہواتھا؟‘‘ فرماتے’’اس روز رسول اکرم ﷺکا مرض شدت اختیار کرگیاتھا.] [صحيح مسلم: 1637]
❀ یہ ساری باتیں رسول اکرم ﷺکے ساتھ محبت اور عقیدت کے مختلف انداز ہی تو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی ساری کی ساری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت سے ہی عبارت ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہی ہے جو مومن آدمی کو زندگی کے شرور و فتن سے محفوظ رکھتی ہے، زندگی میں آنے والے مصائب وآلام سہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے، زندگی کے دکھوں، غموں اور تکلیفوں میں مومن کو سکون اور طمانیت عطا کرتی ہے، دنیا کی زندگی گزارنے کے بعد جب مومن آدمی موت کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو مومن آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور شوق زیارت میں ہنستا مسکراتا موت کو گلے لگا لیتا ہے اور پھر عالم برزخ میں بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہی مومن کو ثبات عطا کرتی ہے، عالم برزخ کے بعد آخرت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہی اس کے لئے شفاعت کا باعث بنے گی اور وہ جنت میں داخل ہوسکے گا۔ پس مومن آدمی کی زندگی کا حاصل فقط اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہی ہے جو ہمیشہ قائم ودائم رہنے والی ہے جسے فنانہیں باقی ساری محبتیں فناہونے والی ہیں ماں، باپ کی محبت، بیوی بچوں کی محبت، اعزہ واقارب کی محبت، گھربار اور وطن کی محبت، مناصب اور مال ومنال کی محبت، ساری محبتیں فنا ہونے والی ہیں الا یہ کہ ان میں سے جو محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے تابع ہوگی، وہ باقی رہے گی۔ زندگی کی ساری دلفریبیاں، ساری رنگینیاں، ساری خوبصورت تمنائیں، ساری خوشیاں، آرزوئیں مٹنے والی ہیں سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت کے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے سوا رکھا ہی کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو خود ساری دنیا کو ’’متاع الغرور‘‘ دھوکے کا سامان کہا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: کہ ’’دنیا اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر کے، اور جسے اللہ محبوب رکھے اور سوائے عالم اور متعلم کے۔ [سنن الترمذي: 2322؛ سنن ابن ماجه: 4112]
❀ پس جس آدمی کے پاس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی محبت ہے اگر وہ ساری دنیا کی نعمتوں سے بھی محروم ہے تب بھی بڑا خوش نصیب، بڑا خوشحال اور بڑا خوش قسمت ہے اور جس کا دامن اللہ اور اسکے رسول کی محبت سے خالی ہے وہ اس ویران برباد اور اجڑے گھر کی مانند ہے جس سے کبھی باد نسیم کا گزر نہ ہوا ہو۔ اگر اس کے پاس ساری دنیا کی نعمتیں بھی موجود ہوں تب بھی وہ دنیا کاسب سے بڑا بد نصیب، تہی دامن اور محروم شخص ہے۔ یاد رکھئے! آنے والا وقت اپنے ساتھ شدید شرور و فتن لئے چلا آرہا ہے۔ آج ہرشخص اپنی آنکھوں سے رسول اکرم ﷺ کی یہ پیش گوئی پوری ہوتے دیکھ رہاہے کہ’’ میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح (پے درپے) گرتادیکھ رہاہوں۔ [صحيح البخاري: 1878؛ صحيح مسلم: 2885]
❀ ان فتنوں سے صرف وہی شخص بچے گاجس کا دل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی محبت سے سرشار ہے پس جو لوگ اپنے گھروں کوآنے والے شرور و فتن سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے اہل و عیال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ نماز، روزہ اور تلاوت قرآن کو حرزجان بنائیں، اپنے بچوں کے نام ’’اللہ‘‘اور ’’محمد ﷺ‘‘ کے ناموں کے ساتھ رکھیں، روزمرہ کی گفتگو میں بچوں کو [سبحان اللٰہ، الحمدللٰہ، ماشاء اللٰہ اور جزاک اللٰہ] جیسے پاکیزہ کلمات کہنے کی عادت ڈالیں، انہیں اسمائے حسنیٰ یاد کروائیں، ہرکام سے پہلے بسم اللہ کہنا سکھائیں، گھر میں آتے جاتے چھوٹوں بڑوں سے ملتے وقت بکثرت السلام علیکم کہنے کی عادت ڈالیں، سونے جاگنے، کھانے پینے، بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے، گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں یاد کرائیں۔ صدقہ خیرات بچوں کے ہاتھوں سے کروائیں۔ رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کے ایمان افروز واقعات، مجاہدین اور شہداء کے جذبہ شہادت پر مبنی ایمان پرور واقعات سنائیں۔ مساجد میں پابندی سے جانے کی عادت ڈالیں۔ علماء اور صلحاء کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے کی ترغیب دلائیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اس طرح بھر دیں گے کہ زندگی اور موت کا کوئی فتنہ اس محبت پر اثر انداز نہ ہوسکے گا۔ ان شاء اللہ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یہ محبت نہ صرف اس دنیا میں ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے گی بلکہ آخرت میں بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رفاقت کا باعث بنے گی۔ ان شاء اللہ! ارشاد نبوی ﷺ ہے [انت مع من احببت] قیامت کے روزتو اسی کے ساتھ ہوگاجس کے ساتھ تجھے محبت ہے۔ [صحيح البخاري: 6169؛ صحيح مسلم: 2640]