اونچی آواز سے دعا اور ذکر کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو لوگوں نے اونچی آواز سے اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيها الناس إربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا بصيرا وهو معكم ، والذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته
”لوگو! اپنے آپ پر مہربانی کرو، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے، اور جس ذات کو تم پکار رہے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تم سے زیادہ قریب ہے۔“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں ”لا حول ولا قوة إلا بالله“ (گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے) پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عبد الله بن قيس ألا أدلك على كنر من كنوز الجنة؟
”اے عبد اللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟“
میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا حول ولا قوة إلا بالله
صحیح البخاری، کتاب المغازی، رقم حدیث 3883، صحیح مسلم، الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، رقم الحديث 2873۔
صرف اپنے لیے دعا کرنے کی ممانعت
① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث لا يحل لأحد أن يفعلهن : لا يؤم رجل قوما فيخص نفسه بالدعاء دونهم فإن فعل فقد خانهم ، ولا ينظر فى قعر بيت قبل أن يستأذن فإن فعل فقد دخل ، ولا يصلي وهو حاقن
”تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں: وہ آدمی لوگوں کی امامت نہ کرائے جو انہیں چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرتا ہے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان کی خیانت کی، اور اجازت لینے سے پہلے کسی کے گھر میں نہ دیکھے اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اندر داخل ہو گیا، اور وہ پیشاب وغیرہ روک کر نماز نہ پڑھے۔“
ابوداؤد، کتاب الطهارة 90، ترمذی، کتاب الصلوة 357۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 5/ 331، حدیث 22477.
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لرجل يؤمن بالله واليوم الآخر أن يؤم قوما إلا بإذنهم ولا يخص نفسه بدعوة دونهم فإن فعل فقد خانهم
”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کی امامت کرائے اور وہ انہیں نظر انداز کر کے صرف اپنی ذات کے لیے دعا نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان کی خیانت کی۔“
ابوداؤد، کتاب الطهارة 91۔
اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے بد دعا کرنے کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تدعوا على أنفسكم ولا على أولادكم ولا على أموالكم لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجيب لكم
”اپنے، اپنی اولاد اور اپنے اموال کے لیے بد دعا نہ کرو، ممکن ہے کہ تم اللہ سے قبولیت کی گھڑی میں دعا کرو اور تمہاری دعا قبول ہو جائے۔“
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 74/3009۔
② اور ایک روایت میں ہے:
لا تدعوا على أنفسكم ولا تدعوا على أولادكم ولا تدعوا على خدمكم لا توافقوا من الله ساعة نيل فيها عطاء فيستجاب لكم
”تم اپنے، اپنی اولاد اور اپنے خادموں کے لیے بددعا نہ کرو، ممکن ہے تم اللہ سے قبولیت کی ایسی گھڑی میں دعا کرو اور تمہاری دعا قبول ہو جائے۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1532۔
گناہ اور قطع رحمی کی ممانعت
① سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما على الأرض مسلم يدعو الله تعالى بدعوة إلا أتاه إياها أو صرف عنه من السوء مثلها ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم
”روئے زمین پر کوئی مسلمان گناہ یا قطع رحمی کے سوا اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعا کرتا ہے تو وہ اسے وہی عطا کر دیتا ہے یا اس کی مثل اس سے تکلیف دور کر دیتا ہے۔“
تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: ہم تو پھر زیادہ دعائیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الله تعالىٰ أكثر
”اللہ تعالیٰ بھی زیادہ عطا کرنے پر قادر ہے۔“
ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث 3573۔