افطار کرنے میں جلدی، روزہ افطار کرانے کا ثواب، رمضان سے پہلے روزہ رکھنے اور فحش کلامی کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الصوم

افطار کرنے میں جلدی کرنا

① سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
”جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، خیر (بھلائی) پر رہیں گے۔“
بخاری، کتاب الصوم 1957۔ مسلم، كتاب الصيام 1098۔ ترمذى، كتاب الصوم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 699۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر ، لأن اليهود والنصارى يؤخرونه
”جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے تو دین غالب رہے گا کیونکہ یہود و نصاریٰ اس بارے میں تاخیر کرتے ہیں۔“
یہ روایت حسن ہے۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2353۔ ابن ماجه، كتاب الصيام 1698۔ ابن خزیمه 2060۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله عز وجل: أحب عبادي إلى أعجلهم فطرا
”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندوں میں سے جو افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں، وہ میرے زیادہ محبوب ہیں۔“
روایت حسن ہے۔ ترمذی، کتاب الصوم عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 700۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 329/2۔ ابن خزیمه 2058۔

روزہ افطار کرانے کا ثواب

① سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من فطر صائما كان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجر الصائم شيء
”جو کسی روزہ دار کو افطار کراتا ہے تو روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی کیے بغیر اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملتا ہے۔“
صحيح ترمذى، كتاب الصوم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 807۔ النسائي في السنن الكبرى 3330۔

رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجلا كان يصوم صوما فليصمه
”تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اس (دن )کا روزہ رکھ لے۔“
بخاری، کتاب الصوم 1914۔ مسلم، كتاب الصيام 1082/21۔

روزے کی حالت میں فحش کلامی کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصيام جنة فإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل وإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل إني صائم
”روزہ ڈھال ہے، اگر تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نہ فحش کلامی کرے نہ جاہلوں جیسا کام کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی دے تو وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔“
بخاری کتاب الصوم 1894۔ مسلم، كتاب الصيام 160 / 1151۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن شاتمه أحد أو قاتله فليقل: إني صائم
”جس دن تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے نہ شور و غل کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہے میں روزہ دار ہوں۔“
بخاری، کتاب الصوم 1894۔ مسلم، کتاب الصيام 1151/160۔