صحیحین میں مدلسین کی روایات
صحیحین میں مدلس یا مختلط روایات کے بارے میں جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کے بارے میں اہلِ اشراق کی سخن سازی دیکھیے، لکھتے ہیں:
مولانا (راقم) فرماتے ہیں: صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات جمہور کے ہاں سماع پر محمول ہیں، مگر جہاں دلائلِ قطعیہ سے انقطاع ثابت ہو، اس کا انکار محض مجادلہ و مکابرہ پر مبنی ہے۔ البتہ اس سلسلے میں متاخرین کی بجائے عموماً متقدمین، محدثین جن کی نگاہوں میں ذخیرہٴ حدیث تھا، کا قول قابلِ قبول ہو گا، ہر کس و ناکس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (توضیح:ص302 ج2)
کیا مولانا محترم اس بات کی وضاحت فرمائیں گے کہ اگر مدلسین کی معنعن روایات کے حوالے سے شیخین کا تتبع ایسا ہی قطعی ہے تو بعض روایات میں دلائلِ قطعیہ سے انقطاع ثابت ہونے کی گنجائش کیسے پیدا ہو گئی؟ اور جب بعض مقامات پر انقطاع کا انکار محض مجادلہ و مکابرہ پر مبنی ہےز تو پھر کیا دلیل ہے کہ باقی مقامات جو شیخین پر اعتماد یا توجہ اور تنبیہ نہ ہونے کے باعث محدثین کے ہاں زیرِ بحث نہیں آ سکے، اتصال ہی کو حتمی سمجھنا خوش اعتقادی اور تقلید پر مبنی نہیں؟ (اشراق:ص30-31)
اولاً: گزارش ہے کہ راقم نے شیخین کے تتبع اور صحیح احادیث کو منتخب کرنے میں ان کے اہتمام اور احتیاط کا ذکر تو کیا لیکن اسے ”قطعی“ قرار نہیں دیا جیسا کہ اہلِ اشراق نے لکھا ہے، جس پر ان کے اعتراض کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ توضیح کی عبارت پر غور فرمائیے ہم نے تو جمہور کے حوالے سے لکھا ہے کہ: صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات جمہور کے ہاں سماع پر محمول ہیں۔ بلکہ توضیح میں ہم نے اس موقف پر محدثین کے ”اتفاق“ کا دعویٰ کرنے والوں کی تردید کی ہے، جس کی پوری تفصیل توضیح الکلام (ص297تا302 ج2) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اور الاعتصام میں بھی ہم نے یہی عرض کیا کہ محدثین کے ہاں یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات محمول علی السماع ہیں۔ (ہفت روزہ الاعتصام58: 29/14)
یہاں بھی ”تقریباً“ کا لفظ اسی بات کا غماز ہے کہ یہ اصول مجمع علیہ نہیں، بلکہ اکثری اور جمہور کے نزدیک ہے۔
ثانیاً: زیرِ بحث روایت میں ہشام کی بنا پر اعتراض ہی درست نہیں، اس لیے کہ اولاً تو ہشام مدلس نہیں ہے۔ ہم عرض کر چکے ہیں کہ المعرفة للحاکم (ص103) کے حوالے سے امام یحییٰ القطان رحمہ اللہ کا جو قول نقل کیا گیا ہے اس کی سند ہی صحیح نہیں۔ حافظ صلاح الدین کیکلدی العلائی رحمہ اللہ نے یہی واقعہ نقل کر کے صاف طور پر لکھا ہے: [في جعل هشام بمجرد هذا مدلسا نظر ولم أر من وصفه به] صرف اس واقعہ کی بنا پر ہشام کو مدلس قرار دینا محلِ نظر ہے میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے اس کو مدلس کہا ہے۔ (جامع التحصیل:ص128)
حافظ العلائی رحمہ اللہ نے بھی التبیین لأسماء المدلسين (رقم:90) میں حافظ العلائی رحمہ اللہ سے یہی کچھ نقل کر کے گویا ان کی تائید کی ہے کہ ہشام کو کسی نے مدلس نہیں کہا، البتہ علامہ ابن العراقی نے امام یعقوب بن شیبہ کے جس قول کی بنا پر ہشام کو مدلس قرار دیا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی طبقات المدلسین کے پہلے طبقہ میں ہشام کو ذکر کیا وہ قول جسے اشراق اپریل2006ء میں تہذیب (ص50 ج11) کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے، کہ ہشام عراق جانے کے بعد اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے جس کی وجہ سے ان کے شہر کے لوگوں نے ان پر اعتراض کیا۔ ہماری رائے میں ہشام اہلِ عراق کو تاثر یہ دیتے تھے کہ وہ اپنے والد سے صرف وہی روایات نقل کرتے ہیں جو انھوں نے ان سے سنی تھیں، اس میں ان کی بے احتیاطی یہ تھی کہ انھوں نے وہ روایات بھی اپنے والد کی نسبت سے نقل کر دیں جو انھوں نے براہِ راست نہیں، بلکہ بواسطہ سنی تھیں۔
لیکن امام مسلم رحمہ اللہ نے مقدمہٴ صحیح مسلم (ص22) میں اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ محدثین بسا اوقات ارسالاً روایت بیان کرتے ہیں اور جس سے حدیث سنی ہوتی ہے اس کا نام نہیں لیتے اور کبھی نشاط میں پوری سند سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ اسے سنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے جو مثالیں ذکر کی ہیں ان میں ہشام بن عروہ کی روایت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ مثلاً ایوب سختیانی، ابن مبارک، وکیع، ابن نمیر، اور ایک جماعت ہشام عن ابیہ عن عائشہ کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں: کہ میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی، احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت۔ یہی روایت لیث بن سعد، داؤد العطار، حمید بن الاسود، وہیب بن خالد اور ابو اسامہ، ہشام سے بواسطہ عثمان بن عروہ عن عروہ عن عائشہ روایت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہشام عن ابیہ عن عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے، میں آپ ﷺ کے سرِ مبارک میں کنگھی کرتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ اس روایت کو امام مالک رحمہ اللہ نے زہری سے روایت کیا ہے اور وہ اسے عروہ عن عمرۃ عن عائشہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس نوعیت کی مثالوں سے امام مسلم رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ یہ صورت ارسال و اتصال کی ہے، خوشی اور اطمینان کی حالت میں محدث پوری متصل سند ذکر کرتا ہے اور کبھی اسے واسطہ کے حذف سے مرسلاً بیان کرتا ہے۔ یوں انھوں نے اشارہ کیا ہے کہ ہشام کی ایسی روایات تدلیس کی بنا پر نہیں ارسال و اتصال کی صورت میں ہیں، ان روایات میں گویا یہ بھی احتمال ہے کہ ہشام نے پہلے بواسطہ عثمان سنا ہو پھر خود براہِ راست بھی عروہ سے سماع کیا ہو، یا عروہ نے یہ روایت بواسطہ عمرۃ سنی ہو، پھر براہِ راست عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا سماع کیا ہو۔ لیکن امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں صورتِ اتصال و ارسال کی ہے۔ دونوں اسانید نقل کرنے والے ائمہٴ کبار ہیں ان کی تغلیط ممکن نہیں، اور ایسا ”ثقات محدثین“ اور ”ائمہٴ اہلِ علم“ کرتے ہیں، اس سے متن کے اعتبار سے کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔
امام مسلم رحمہ اللہ کا مرسل روایت کے ضمن میں اس بحث کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی ایسی روایات کی بنا پر ہشام کو مدلس قرار نہیں دیتے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی ہشام کی ایسی روایات کو نشاط و انبساط پر ہی محمول کیا ہے، تدلیس پر نہیں۔ ملاحظہ ہو، العلل (ص317 ج15) ان سے قبل یہی بات امام احمدؒ نے فرمائی ہے۔ (شرح علل الترمذی لابن رجب:ص679 ج2) علامہ عبدالرحمن المعلمی نے بھی التنکیل (ص517-518 ج1) میں کہا ہے کہ ہشام مدلس نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ہشام کی تدلیس کے بارے میں ابن خراش کے قول سے بھی استدلال کیا ہے۔ حالانکہ ابن خراش، جن کا نام عبدالرحمن بن یوسف بن خراش ہے، علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے میزان (ص302 ج4) میں ابنِ قطان کے قول کی تردید کرتے ہوئے [وكذا قول عبد الرحمن بن خراش] کہہ کر اس قول کی بھی تردید کر دی ہے۔ ائمہٴ فن نے اس کی جرح پر اعتماد نہیں کیا جیسا کہ ہدی الساری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سلیمان بن داود العتکی، موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی کے تراجم میں، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے المیزان میں احمد بن عبدہ، ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل کے تراجم میں اشارہ کیا ہے۔ شیخ ابو غدہ نے الرفع والتکمیل (ص 268-269) کے حواشی میں بھی اس حقیقت کی وضاحت کی ہے۔ اس لیے اس قول کی بنا پر ہشام کو مدلس قرار دینا بھی صحیح نہیں۔ اگر اسے معتبر قرار دیا جائے تو بھی اس سے صحیح بخاری اور مسلم کی زیرِ بحث غنائے جاریتین کی روایت پر کلام خود ابن خراش کے موقف کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ کوفہ میں ان آخری ایام میں ہشام سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سماع کیا ہے۔ مگر یہ روایت ان تینوں میں سے کسی ایک سے مروی نہیں اس لیے ابن خراش کے قول سے اس پر نقد محض طفل تسلی اور اصول سے بے خبری پر مبنی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ کو بلا شبہ طبقات المدلسین میں ذکر کیا ہے، اور تقریب التہذیب (ص533) میں بھی کہا ہے کہ [ربما دلس] مگر ان کی یہ بات محلِ نظر ہے، بلکہ طبقات المدلسین میں جو انھوں نے فرمایا ہے: [ذكر بذلك أبو الحسن بن القطان وأنكره الذهبي، وابن القطان معذور فإن الحكاية المشهورة عنه أنه قدم العراق ثلاث مرات .الخ] کہ اسے تدلیس کے ساتھ ابنِ قطان رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، مگر علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کا انکار کیا ہے، اور ابنِ قطان معذور ہیں کیونکہ ہشام کے بارے میں حکایت مشہور ہے کہ وہ تین بار عراق گئے۔
صحیح نہیں ہے، علامہ ابنِ قطان رحمہ اللہ نے قطعاً ہشام کو مدلس نہیں کہا اور نہ اس حوالے سے علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی تردید ہی کی ہے، بلکہ علامہ ابنِ قطان رحمہ اللہ نے ہشام کو مختلط قرار دیا ہے جیسا کہ بیان الوہم والإیہام (ص 504 ج 5 رقم 2726) میں ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اسی کی تردید بلکہ سخت تردید کی ہے۔ ملاحظہ ہو: نقد الإمام الذهبي لبيان الوهم والإيهام (ص126 رقم85 میزان الاعتدال: ص301، 302 ج 4، سیر اعلام النبلاء: ص 35، 36 ج6) امام احمد رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ مجھے ہشام کے تغیر کے بارے میں کوئی بات نہیں پہنچی۔ (شرح العلل، لابن رجب: ص 679 ج 1) بلکہ خود حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بھی علامہ ابنِ قطان رحمہ اللہ سے اختلاط کا قول ہی نقل کیا ہے اور اس کی تردید کی ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ ہیں: [قال أبو الحسن بن قطان تغير قبل موته ولم نره له في ذلك سلفا] کہ ابو الحسن بن قطان رحمہ اللہ نے کہا ہے ہشام وفات سے پہلے متغیر ہو گئے تھے لیکن اس میں ہم ان کا کوئی سلف نہیں دیکھتے کہ متقدمین میں سے کسی نے بھی ہشام کو مختلط و متغیر کہا ہو۔ (التہذیب:ص51 ج11)
ابنِ قطان رحمہ اللہ سے تدلیس کا قول تو حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بھی کہیں نقل نہیں کیا، اس لیے ابنِ قطان رحمہ اللہ کے حوالے سے ہشام کو مدلس قرار دینا اور اس کی تردید علامہ ذہبی سے نقل کرنا درست نہیں۔
البتہ امام یعقوب بن شیبہ اور ابنِ خراش کے قول کی بنا پر انھوں نے فرمایا ہے کہ [هذا هو التدليس] یہی تدلیس ہے، مگر ہم ان دونوں کے قول کی وضاحت پہلے کر چکے ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اسی صورت کو ارسال و اتصال پر محمول کیا ہے تدلیس پر نہیں، کیونکہ ہشام مدلس نہیں ہیں، معنعن روایت پر بحث کے ضمن میں ہشام کی ایسی مرویات کی طرف اشارہ کر کے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ ثقہ راویوں سے یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے شیوخ سے وہ روایتیں بھی بیان کرتے ہیں جنھیں انھوں نے براہِ راست سنا نہیں ہوتا، مگر اس کے باوجود محدثین ان کے عنعنہ کو قبول کرتے ہیں ظاہر ہے کہ اگر وہ مدلس ہوں تو ان کا عنعنہ کیوں کر قبول کیا جا سکتا ہے، اس لیے امام یعقوب اور ابنِ خراش کے قول کی بنا پر ہشام کو مدلس قرار دینا صحیح نہیں۔
علاوہ ازیں اگر حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے طبقات المدلسین میں ہشام کو ذکر کیا ہے تو انھی کے بیان کردہ طبقات کے مطابق ہشام کو پہلے طبقہ میں ذکر کیا ہے، جس کے بارے میں وہ فرماتے ہیں: [الأولى من لم يوصف بذلك إلا نادراً] کہ پہلا طبقہ وہ ہے جن کی طرف نادر طور پر تدلیس کی نسبت کی گئی ہے۔
بلکہ انھوں نے النکت علی کتاب ابن الصلاح میں بھی ہشام کو پہلے طبقہ ہی میں شمار کیا ہے، جن کے بارے میں خود انھوں نے یہ وضاحت کی ہے:
[الأولى: من لم يوصف بذلك إلا نادرا، وغالب رواياتهم مصرحة بالسماع، والغالب أن إطلاق من أطلق ذلك عليهم فيه تجوز من الإرسال إلى التدليس، ومنهم من يطلق ذلك بناء على الظن، ويكون التحقيق بخلافه. الخ]
پہلا درجہ: وہ ہے جسے شاذ و نادر طور پر مدلس کہا گیا ہے اور اکثر ان کی روایات میں صراحتِ سماع پائی جاتی ہے، اور اکثر جنھوں نے انھیں مدلس کہا
ہے انھوں نے ارسال سے تجوز کرتے ہوئے مدلس کہہ دیا ہے، اور ان میں وہ بھی ہیں جنھیں محض ظن کی بنا پر مدلس کہا گیا ہے اور تحقیق و حقیقت اس کے خلاف ہے۔ (النکت:ص636-637 ج2)
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کے اس بیان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ہشام اصطلاحی مدلس نہیں، نہ ہی اس کے عنعنہ پر محدثینِ سابقین نے اعتراض کیا ہے، اس لیے ہشام کی معنعن روایت کی بنا پر اشراق کا اعتراض درست نہیں، بلکہ ان کی یہ لن ترانی تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا مصداق ہے کہ باقی مقامات جو شیخین پر اعتماد یا توجہ اور تنبیہ نہ ہونے کے باعث محدثین کے ہاں زیرِ بحث نہیں آ سکے، اتصال ہی کو حتمی سمجھنا محض خوش اعتقادی اور تقلید پر مبنی ہے۔ (اشراق:ص31 ستمبر2006ء)
گویا تقریباً گیارہ سو سال تک شیخین پر اعتماد کے نتیجہ میں تو یہ روایت محدثین کے زیرِ بحث نہیں آئی۔ یہ شرف و فضل اشراق سے وابستہ ”محققین“ کے حصہ میں آیا ہے اور اب یہ راز ان پر کھلا ہے کہ یہ روایت تو ہشام کی تدلیس کی بنا پر نا قابلِ اعتبار ہے۔ سبحان اللہ سلفِ امت کی یوں تغلیط اشراق کے حلقہٴ ارادت کا ”طرہٴ امتیاز“ ہے حتیٰ کہ اس حلقہ کے مآخذِ شریعت بھی سلفِ امت کے برعکس ہیں۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآنِ مجید سے جو مسئلہ سمجھا اور اس پر عمل کیا وہ بھی ان حضرات کے نزدیک درست نہیں، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآنِ پاک سے موسیقی اور آلاتِ موسیقی کو حرام سمجھا، مگر ان حضرات کے نزدیک قرآنِ مجید اس کے بارے میں خاموش ہے۔ (اشراق)
صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم [فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ] کا فرمان سن کر پکار اٹھے [انتھینا انتھینا]، مگر ہمارے ”دانشوروں“ اور اہلِ اشراق کو قرآن میں یہ حرمت نظر نہیں آتی۔ چنانچہ اسی حلقہ کے ایک دانشور جناب عبدالباسط صاحب شراب سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
اپنے پچھلے جواب میں ہم نے (شراب کے لیے) ناپسندیدہ کا لفظ حرمت کے مقابلے میں اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا، اس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ شراب پینا شرعی حرمتوں میں سے نہیں، بلکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بنیادی یعنی فطری حرمتوں میں سے ہے۔آپ (سائل) نے فرمایا کہ ہماری رائے نصوصِ شرعیہ کے خلاف ہے، اگر قرآن کی کوئی ایسی آیت پیش کر دیں جس میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو واضح لفظوں میں حرام قرار دیا ہے تو ہمیں اپنی رائے سے رجوع کرنے میں ہرگز کوئی تأمل نہیں ہو گا۔ (بحوالہ الشریعہ:ص37 فروری2007ء)
اس نوعیت کے کتنے مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے سلفِ امت سے جدا راستہ اختیار کیا، لہٰذا اگر صحیح بخاری و مسلم کی حدیث، جسے گیارہ سو سال سے امت نے صحیح تسلیم کیا اور اس سے استدلال کیا، پر یہ حضرات حرف گیری کرتے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے؟
حالانکہ امام یعقوب بن شیبہ وغیرہ نے جو کچھ فرمایا ہے، آپ پڑھ آئے ہیں کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے وہی بات اپنے اسلوب میں کہہ کر ہشام کی معنعن روایتوں پر اعتراض کو رد کر دیا ہے کیونکہ وہ اصطلاحی مدلس نہیں ہیں۔ پھر یہ بات بھی نہیں کہ اس کا اب انکشاف اہلِ اشراق پر ہوا ہے، بلکہ تاریخ و تراجم کی کتابوں میں حافظ بغدادی رحمہ اللہ سے لے کر حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ تک لکھتے چلے آئے ہیں، لیکن اس کے باوجود کسی نے بھی ہشام کی صحیحین میں روایات کو موردِ طعن نہیں بنایا۔
اس لیے اہلِ اشراق کا یہ کہنا کہ یہ روایت توجہ اور تنبیہ نہ ہونے کے باعث محدثین کے ہاں زیرِ بحث نہیں آ سکی، اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مترادف ہے۔ جب ہشام کا یہ اسلوب محدثین کے ہاں زیرِ بحث رہا ہے تو اس کے بعد اس پر عدمِ ”توجہ و تنبیہ“ چہ معنی دارد؟
بلکہ ہم نے عرض کیا کہ اگر ہشام کے بارے میں اس کہانی کو تسلیم کیا جائے تو خود اسی میں وضاحت ہے کہ اس دور میں ہشام سے سماع کرنے والے [وکیع، ابنِ نمیر اور محاضر] ہیں لیکن بخاری اور مسلم کی اس روایت کو ہشام کے ان تلامذہ نے بیان ہی نہیں کیا اس لیے اس پر نقد و اعتراض بے اصولی پر مبنی ہے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے ناکام کوشش ہے۔