حدیثِ جاریتین میں ہشام بن عروہ کی روایت پر اعتراضات کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔

اہل اشراق کے مزید خدشات کا جواب:

کتب احادیث میں صحیحین اور بالخصوص صحیح بخاری کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جو شہرتِ دوام عطا فرمائی ہے وہ کسی اور کتاب کو حاصل نہیں، محدثینِ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ صحیح بخاری کی تمام روایات صحیح اور تمام مسائلِ زندگی میں دلیل وحجت ہیں، اس کی احادیث کو قبولِ عام کا شرف حاصل ہے، البتہ معدود چند روایات اس تلقی بالقبول سے خارج ہیں جن پر بعض محدثین نے اعتراض کیا ہے، لیکن اس کے یہ معنی قطعاً نہیں کہ وہ احادیث ضعیف یا مردود ہیں۔ علامہ الوزیر الیمانیؒ نے انھی روایات کے بارے میں صاف صاف فرمایا ہے:

[اعلم أن المختلف فيه من حديثهما هو اليسير وليس ذلك اليسير ما هو مردود بطريق قطعية ولا إجماعية بل غاية ما فيه أنه لم ينعقد عليه الإجماع]

خوب جان لو کہ بخاری ومسلم کی یہ تھوڑی سی مختلف فیہ احادیث نہ قطعی طور پر ضعیف ہیں اور نہ اجتماعی طور پر، بلکہ زیادہ سے زیادہ ان کے بارے میں یہ بات ہے کہ ان کی صحت پر اجماع نہیں ہوا۔ (الروض الباسم:ص79 ج1)

(یعنی) وہ متکلم فیہ روایات بھی صحیح ہیں البتہ ان کی صحت پر اتفاق نہیں اور وہ تلقی بالقبول (قبولِ عام) کے درجہ سے کم ہو گئی ہیں۔

بالخصوص وہ روایات جن سے شیخین نے استدلال کیا ہے اور ترجمۃ الباب میں ابتداً انھیں ذکر کیا ہے، صحت کے اعتبار سے ان کا درجہ ان روایات سے فائق ہے جو متابعتاً اور شواہد میں مذکور ہیں، خود امام مسلمؒ نے بھی مقدمہٴ صحیح مسلم میں اس فرق کی طرف اشارہ کیا ہے، اور دیگر ائمہٴ فن نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔

صحیحین کی متفق علیہ روایات میں ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جس میں عید کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں جاریتین (دو جاریہ) کے دف بجانے اور گانے کا ذکر ہے، اور صحیحین ہی میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ [وليستا بمغنيتين] وہ دونوں پیشہ ور مغنیہ نہ تھیں۔ قارئینِ الاعتصام کے علم میں یہ بات ہو گی کہ موسیقی کے جواز کا فتویٰ اور اس کی تائید و حمایت میں اربابِ اشراق نے اولاً تو ان الفاظ کو ذکر ہی نہیں کیا، ہم نے بفضلِ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کی نشان دہی کی تو پھر ان کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ہم نے اس حوالے سے ان کے خدشات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی مگر اس سے ان کی تشفی نہیں ہوئی۔ چنانچہ ماہنامہ [اشراق ستمبر 2006ء] کے شمارہ میں اپنے خطرات کو ایک نئے اسلوب میں پیش کیا گیا، جن کے بارے میں ہم اپنی معروضات قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے، اور اربابِ اشراق سے پہلے کسی محدث یا کسی صاحبِ علم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، موسیقی کے جواز کا فتویٰ اربابِ اشراق کے علاوہ بعض اور حضرات نے بھی دیا، مگر انھیں بھی اس کی جسارت نہیں ہوئی کہ وہ اس متفق علیہ روایت کو ضعیف قرار دیں۔

ہشام بن عروہ کی روایات

پہلے فرمایا گیا تھا: کہ ہشام کی اپنے باپ عروہ سے ایک کے علاوہ باقی تمام روایات امام زہری کے واسطے سے ہیں، مگر ہماری معروضات اور جناب افتخار تبسم صاحب کے توجہ دلانے کے نتیجہ میں اب اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہشام کا اپنے والد سے سماع نکتہٴ اختلاف نہیں رہا۔ (اشراق:ص28 ستمبر2006ء) والحمد لله على ذلك

ہشام کے بارے میں دوسرا اعتراض یہ تھا کہ عراق جانے کے بعد ہشام اپنے والد عروہ سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں ہم نے جو کچھ عرض کیا تھا اس کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

عراق سے مراد اقلیمِ عراق نہیں، کوفہ ہے اور ہشام سے حماد اور معمر دونوں بصری شاگرد بھی روایت کرتے ہیں۔

ہشام کے بارے میں یہ اعتراض کوفہ میں دوسری اور تیسری بار آمد سے متعلق ہے۔

جس دور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس میں غیر محتاط ہو گئے تھے اس کے بارےمیں یہ وضاحت بھی ہے کہ اس دور میں ان سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سنا ہے۔

صحیحین میں شیخین کا تتبع معروف ہے، اس لیے ان میں مدلسین یا مختلطین کی روایات کا حکم وہ نہیں جو دوسری کتابوں میں ہے۔ ہماری ان معروضات کے جواب میں فرمایا گیا ہے۔

ہشام یقیناً کوفہ ہی گئے تھے، اہلِ عراق کا حوالہ دینے سے مقصد ہشام کی جائے اقامت کا ذکر کرنا نہیں اور نہ یہ بتانا ہے کہ ان کے ہاں عدمِ احتیاط کا پہلو صرف اہلِ کوفہ کی نقل کردہ مرویات میں پایا جاتا ہے، مقصود یہ ہے کہ اس دور میں ہشام نے ارسال کا طریقہ اختیار کیا تھا، لہٰذا اس دور میں جن راویوں نے بھی ان سے روایت کی ان کی روایات کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (اشراق:ص29)

بجا فرمایا، مگر یہ کوفہ میں دوسری اور تیسری مرتبہ جانے کے بعد ہے، اس دور میں جن حضرات نے ان سے روایات لی ہیں ان کی روایات میں بظاہر اس تصور کی گنجائش موجود ہے کہ ان میں ارسال ہو مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ رہی ”عراق“ کے حوالے سے بات، تو یہ دراصل اس غلط فہمی کا ازالہ ہے کہ ہشام کی تمام اقلیمِ عراق میں یہ پوزیشن نہیں، بلکہ شہر کوفہ کے متعلق ہے، اور ہشام سے روایت کرنے والے صرف ان کے کوفی شاگرد ہی نہیں، جیسا کہ پہلے اس کا تاثر دیا گیا تھا، بلکہ بصری شاگرد بھی ہیں۔ رہی یہ بات کہ ہشام کے بصری تلامذہ نے بھی ان کے کوفہ آنے کے بعد سماع کیا ہے، مدینہٴ طیبہ میں نہیں، تو اس کی وضاحت آئندہ آ رہی ہے۔

ہم نے عرض کیا تھا کہ ہشام کی مرویات کے بارے میں یہ اعتراض ان کے کوفہ میں دوسری اور تیسری بار آمد سے متعلق ہے کہ

[قدم الكوفة ثلاث مرات قدمة، كان يقول: حدثني أبي قال: سمعت عائشة، وقدم الثانية فكان يقول: أخبرني أبي عن عائشة وقدم الثالثة فكان يقول: أبي عن عائشة]

ہشام کوفہ میں تین بار آئے، پہلی مرتبہ آئے تو کہتے تھے: [حدثنی أبی قال: سمعت عائشة] یعنی ارسال نہیں کرتے تھے سماع کی صراحت کرتے تھے۔ دوسری بار آئے تو [أخبرنی أبی عن عائشة] کہتے تھے۔ یعنی تب بھی باپ سے روایت میں سماع کی صراحت کرتے تھے، مگر باپ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین سماع کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اور تیسری بار آئے تو باپ سے اور باپ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ (التهذيب: ص50 ج11)،(السير: ص34 ج6 وغيرهما)

اب یہ کیا انصاف ہے کہ مطلق طور پر تمام اہل کوفہ کی ہشام سے روایات کو غیر متصل اور غیر صحیح قرار دے دیا جائے؟ بالخصوص جب کہ ہشام سے یہ روایت کرنے والے ابو اسامہ، حماد بن اسامہ ہیں اور وہ محدثین کے ہاں ہشام سے روایت کرنے میں ثقہ اور ثبت ہیں اور اس کی روایت کو درست قرار دیتے ہیں، جیسا کہ آئندہ اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ یہ بات ہم نے پہلے بھی عرض کی کہ ہشام پر یہ اعتراض ان کی تمام مرویات کے بارے میں نہیں، مگر اہل اشراق نے ہماری اس گزارش کو درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھا۔

اسی طرح یہ بھی عرض کیا تھا کہ (التہذیب اور تاریخِ بغداد (ص 40 ج 14) میں وضاحت ہے کہ آخری دور میں ہشام سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سنا ہے، اور صحیحین میں یہ روایت ان تینوں کی بجائے ابو اسامہ سے ہے لہٰذا تمام اہل کوفہ کی ہشام سے روایات کو ارسال پر محمول کرنا قطعاً درست نہیں۔ مگر افسوس! اہل اشراق نے اس طرف بھی نظر التفات نہیں فرمائی اور اپنی ضد میں کہے جا رہے ہیں کہ کوفہ میں بیان کی ہوئی روایات کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی سے یہ عقدہ بھی کھل جاتا ہے کہ بصری تلامذہ نے مدینہ میں نہیں کوفہ ہی میں ہشام سے سماع کیا تھا۔ کیا ان تمام نے آخری بار سماع کیا تھا یا اس سے پہلے بھی؟ تمام کا سماع یکساں ہے تو آخری میں سماع کرنے والوں کی نشان دہی چہ معنی دارد؟