مسلمانوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست رکھنے کا ثواب
کسی بھی معاشرے کی ترقی و بہتری کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ اس کے لوگ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے، ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے والے، مصائب و مشکلات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے والے، الغرض ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے والے ہوں۔ جب یہ سب خوبیاں کسی مکان کے مکینوں میں پیدا ہو جائیں تو ایک بے نظیر، مثالی معاشرہ جنم لیتا ہے۔ جس کی مثال جو کہ تاریخ کا بحر بے کراں اپنی بے پناہ وسعتوں کے پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مدینہ منورہ کا اسلامی معاشرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی معاشرے کو قائم کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے اس معاشرے کے لوگوں کو گاہے بگاہے راہنمائی کرتے تھے، اور آپس میں تعلق مضبوط استوار کرنے کے فضائل و برکات بیان کرتے تھے، جن میں چند ایک حسب ذیل ہیں:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ.﴾
”یاد رکھو! سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے ایمان والو! کوئی جماعت دوسری جماعت سے مسخراپن نہ کرے ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو، اور نہ عورتیں عورتوں سے ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد گناہ گاری برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔ اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔“
(49-الحجرات:10۔12)
آیت بالا میں ایک دوسرے کے ساتھ مثالی تعلق کے قیام کا زبردست فارمولہ بیان ہوا ہے اور وہ بیماریاں جو کہ معاشرے کی جڑوں کو مثل دیمک چاٹ جاتی ہیں، بیان کر کے ان سے احتراز کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے معاملات جن میں ذی شعور انسان تک اپنے حواس سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً ماں، بہن، بیٹی کا معاملہ ہے کہ ماں، بہن، بیٹی ایسے رشتے ہیں کہ جن کے ساتھ کوئی بھی کسی بھی قسم کی ظلم و نا انصافی روا رکھنے کو پسند نہیں کرتا۔ اس ظلم و زیادتی کی ایک مثال طلاق ہے۔ ایسے گھمبیر و پیچیدہ معاملے میں بھی شریعت نے ایک دوسرے کے حفظ مراتب ، فضیلت کا پاس رکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ طلاق سے صرف شوہر بیوی کے مابین ہی علیحدگی نہیں ہوتی، بلکہ دو خاندان کے درمیان بھی اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ لہذا اس میں بھی عفو و درگزر کے معاملے کو تھامنے کا حکم دیا ہے:
﴿وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کر دیا ہو تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وہ خود معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ تمہارا معاف کر دینا تقویٰ کے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“
(2-البقرة:237)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان فى حاجة أخيه كان الله فى حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة.“
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، اور نہ کسی مصیبت میں اس کا ساتھ چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجتیں پوری کرتا رہتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کی سختیوں میں سے اس کی سختی دور کرے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
صحیح بخاری کتاب المظالم ، باب لا يظلم المسلم المسلم، رقم: 2442 ـ صحیح مسلم کتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم، رقم: 6578 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه .
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک ایمان دار نہیں بنتا، جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب من الايمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه: 13 ـ صحيح ،مسلم، کتاب الايمان : 45 .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا .
”وہ شخص ہماری جماعت سے خارج ہے جو ہمارے کم عمر پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑی عمر والے کی عزت نہ کرے۔“
سنن ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان رقم: 1919 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 2196 .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ترى المؤمنين فى تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى .
”تم مسلمانوں کو باہمی ہمدردی اور باہمی محبت اور باہمی شفقت میں ایسا دیکھو گے جیسے بدن ہوتا ہے کہ جب اس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو تمام بدن بے خوابی اور بیماری میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الناس والبهائم : 6011 ـ صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم، رقم: 6585 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ پس اگر اس (اپنے بھائی میں) کوئی گندی بات دیکھے تو اس سے (اس طرح) صاف کر دیتا ہے کہ صرف عیب والے پر تو ظاہر کر دیتا ہے لیکن کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کرتا۔ اس طرح اس شخص کو چاہیے کہ اس کے عیب کی خفیہ طور پر اصلاح کر دے، فضیحت نہ کرے۔
سنن ابو داؤد، کتاب الادب، باب فى النصيحة والحيا، رقم : 4918 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 926
عیاض مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إن الله أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغي أحد على أحد .
”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی فرمائی ہے کہ سب آدمی تواضع اختیار کریں یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے، اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔“
صحيح مسلم، کتاب الجنة، باب الصفات التي يعرف بها ، رقم: 7210.
سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا يرحم الله من لا يرحم الناس .
”اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“
صحیح بخاری ، کتاب التوحيد، باب ما جاء فى دعاء النبي صلى الله عليه وسلم، رقم: 7376 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
انصر أخاك ظالما أو مظلوما. قالوا: يا رسول الله! هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما؟ فقال: تأخذ فوق يديه .
”اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو خواہ مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مظلوم ہونے کی صورت میں تو مدد کریں مگر ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو ظلم سے روک دو۔ تمہارا یہ عمل ہی اس ظالم کی مدد کرنا ہے۔“
صحیح بخاری ، کتاب المظالم، باب اعن اخاك ظالما او مظلوماً ، رقم: 2444 ـ صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب نصر الاخ ظالماً أو مظلوماً ، رقم: 6582 .