اختلاف کے وقت سنت رسول ﷺ اور خلفائے راشدین کا طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

اختلاف کے موقع پر کیا کرنا چاہیے؟

ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:
”انه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة“
”میرے بعد تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا اسے بہت سے اختلافات کا سامنا ہوگا۔ پس ایسی صورت میں تم میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ اور نئے نئے امور سے اجتناب کرنا کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
(سنن ابی داؤد کتاب السنۃ : باب في لزوم السنۃ حدیث 4607، سنن ترمذی کتاب العلم : باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ واجتناب البدع حدیث 2672، سنن ابن ماجہ المقدمۃ باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المهدیین حدیث 42)
ائمہ اسلام کا دستور تھا کہ وہ دین کے معاملہ میں کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر نہ کسی عمل کو واجب و مستحب کہتے اور نہ حرام و مباح کا فتوی دیتے۔ جس مسئلہ میں تمام مسلمان متفق ہوں وہ حق و ثواب ہے۔ کیونکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم گمراہی پر متفق نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یوں پیشین گوئی فرمائی:
”ان الله اجاركم على لسان نبيكم ان لا تجتمعوا على ضلالة“
اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان مبارک پر تمہیں پناہ دی ہے کہ تم سب گمراہی پر جمع نہیں ہو گے۔
( سنن ابی داؤد کتاب الفتن : باب ذکر الفتن ودلائلها حدیث 4253 اسناده ضعیف سند میں انقطاع ہے۔ شریح بن عبید کی ابو مارک رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہوتی۔ )
ائمہ اسلام کا معمول یہ تھا کہ انہیں جس مسئلہ میں اختلاف ہوتا اسے کتاب و سنت سے حل کر لیتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ‎﴿٥٩﴾‏
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر دو۔ اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔“
(4-النساء:59)
اگر ایک عالم کو کسی حدیث یا اس کا مفہوم معلوم ہو تو ممکن ہے کہ کسی دوسرے عالم کی نگاہ سے وہ حدیث مخفی ہو اور وہ اجتہاد کر رہا ہو لیکن اس اختفاء کے باوجود اسے صحیح نیت سے اجتہاد کا اجر ملے گا۔ کیونکہ صحیحین کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
”إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر“
”جب حاکم نے اجتہاد کیا اور اس کی رائے صحیح ہوئی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر خطا کی تو پھر بھی ایک اجر ضرور ملے گا۔“
صحیح بخاری کتاب الاعتصام : باب أجر الحاكم اذا اجتهد فاصاب او اخطأ (حديث : 7352صحیح مسلم كتاب الأقضية : باب بيان اجر الحاكم اذا اجتهد (حديث : 1712)
بطور مثال اگر مطلع ابر آلود ہو اور چار آدمی مختلف جہتوں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں تو ہر شخص ماجور ہوگا۔ البتہ ان میں سے جس شخص نے قبلہ کی طرف منہ کیا اسے دوہرا اجر ملے گا۔
اللہ تعالیٰ اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ‎﴿٧٨﴾‏ فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
”یاد کرو وہ موقع جب کہ داؤد اور سلیمان دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں، اور ہم ان کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔“
(21-الأنبياء:79,78)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دونوں پیغمبروں کی تعریف کی لیکن اس کے باوجود ایک نبی کو معاملہ کی صحیح تفہیم سے نوازا۔
بہر کیف دین اسلام سارے کا سارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس میں ذرہ بھر تبدیلی کرے۔ یہی مسلمانوں کا مکمل اسلام ہے۔ بخلاف نصاریٰ کے کہ انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ دین میں کھلی تحریف کریں۔ ہماری اس بات کی تائید قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت سے ہوتی ہے:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ‎﴿٣١﴾‏
”انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود (اللہ) کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔“
(9-التوبة:31)
اس آیت کی تائید و تشریح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”إنهم أحلوا لهم الحرام فأطاعوهم وحرموا عليهم الحلال فأطاعوهم فكانت تلك عبادتهم إياهم“
”ان کے علماء اور پیروں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہا تو انہوں نے ان کی پیروی کی۔ یہی ان کی عبادت ٹھہری۔“
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن : باب ومن سورۃ التوبۃ حدیث 3095)