شعبان کے روزوں کا ثواب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا بقي نصف من شعبان فلا تصوموا .
”جب آدھا شعبان باقی رہ جائے تو تم روزہ نہ رکھو۔“
سنن ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في كراهية الصوم في النصف الثاني، رقم: 738 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے روزوں کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، لیکن اس سلسلے میں یہ بھی بیان فرما دیا کہ نصف شعبان کے بعد روزہ نہیں رکھنا، ہاں اگر کوئی پہلے سے مثلاً: سوموار، جمعرات کا، یا مہینے میں تین روزے رکھتا ہو تو وہ رکھ سکتا ہے، بصورت دیگر نہیں۔ واللہ اعلم۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته فى شهر أكثر منه صياما فى شعبان .
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا، نہ ہی شعبان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے دیکھا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب صوم شعبان، رقم: 1969 – صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب صيام النبي صلى الله عليه وسلم في غير رمضان، رقم: 1156/175.