کیا صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہو سکتی ہے؟ اصولی جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: کیا حدیث قرآن مجید کی کسی آیت کے عام حکم کو مقید کر سکتی ہے؟

جواب: جی ہاں اور اس کی مثال قرآن حکیم کی یہ آیت ہے: [وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا] اور چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ (المائدة:38)

اس آیت میں چوری کا مطلقاً ذکر ہے جبکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زیادہ کی چوری پر کاٹا جائے۔ [بخاری، کتاب الحدود، باب قول الله تعالى: والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما: 6789]،[مسلم، کتاب الحدود، باب حد السرقة ونصَابها: 1684]

سوال: کیا سنت قرآن حکیم کے حکم سے کسی چیز کو مستثنیٰ کر سکتی ہے؟

جواب: جی ہاں اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے: [حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ] تم پر مرا ہوا جانور، خون، سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام پکارا جائے حرام ہے۔ (المائدة:3)

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہمارے واسطے دو مردار، ٹڈی اور مچھلی اور دو خون کلیجی اور تلی حلال ہیں۔

[السنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الضحایا، باب ما جاء فی الکبد والطحال: ح: 19697]

معلوم ہوا کہ حدیث نے مچھلی اور ٹڈی کو مردار، اور کلیجی اور تلی کو خون سے مستثنیٰ قرار دیا۔

ایک اور مثال پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ] پوچھو کہ جو زینت (و آرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیں ان کو کس نے حرام کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے بھی ہیں اور قیامت کے دن خاص انھی کے لیے ہوں گی۔ (الأعراف:32)

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ریشم اور سونا میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ [سنن ترمذی:1720]

اگر حدیث سے رہنمائی نہ لی جائے تو اس آیت سے ریشم اور سونے جیسی حرام چیزوں کو حلال سمجھ لیا جاتا۔

سوال:کیا کوئی سنتِ صحیحہ قرآن مجید کے خلاف ہو سکتی ہے؟

جواب:محدثین کا اصول ہے کہ جو روایت قرآن حکیم اور سنتِ مطہرہ کے الٹ ہو وہ قولِ رسول ﷺ نہیں ہو سکتی۔ امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ حدیث نے اصولِ حدیث کی رو سے جن احادیثِ مبارکہ کو صحیح کہا ہے یقیناً وہ قرآن وسنت کے مطابق ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں صرف صحیح احادیث درج کی گئی ہیں، اس لیے ان میں کوئی ایسی روایت نہیں جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔ جن لوگوں کو

[1] عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا،

[2] رسول اللہ ﷺ پر ذاتی حیثیت سے جادو کے چند اثرات ہو جانا،

[3] دجال سے متعلق

[4] عذابِ قبر سے متعلق

احادیث اور ان جیسی باتیں قرآن حکیم کےخلاف نظر آتی ہیں تو یہ دراصل ان کی کم علمی اور جہالت ہے۔ یہ وہ روایات ہیں جنھیں تحقیق کے بعد محدثین نے صحیح کہا، یہ قرآن کے خلاف نہیں بلکہ ان کے خود ساختہ مفہوم کے الٹ ہیں۔ درج ذیل آیت پر غور کیجیے: [قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ] کہو جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا سوائے مردار، بہتا خون، سور کا گوشت، جو ناپاک ہے یا گناہ کی چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے نہ حد سے باہر نکلے تو تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ (الأنعام:145)
سوچیے کیا کتے اور دیگر درندوں کو اور دیگر نوچنے والے پرندوں کو حرام قرار دینے والی احادیثِ مبارکہ اس آیت کے خلاف ہیں، اگرچہ ظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر حقیقتاً سنت اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں۔ دونوں کا جمع کرنا لازم ہے۔ یاد رکھیے! جو دین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعے امت کو تواتر کے ساتھ ملا، وہی صراطِ مستقیم ہے، جو لوگ اپنی خواہشات کے ساتھ قرآن حکیم کی تفسیر بیان کرتے ہیں ان کے ہاں سنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیز ان کی خواہشِ نفس کے موافق ہو اس کی پیروی کی جائے اور جو ان کی خواہشات کے خلاف ہو اسے ترک کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یقیناً ایک وقت آئے گا کہ تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے ایک آدمی بیٹھا ہو گا اور میرے احکامات میں سے کوئی حکم اس کے پاس آئے گا یا میرے منع کردہ امور میں سے کسی چیز کا اس کے سامنے ذکر ہو گا تو وہ کہے گا ہم اسے نہیں جانتے۔ ہم جو اللہ کی کتاب میں حرام پاتے ہیں اسے حرام سمجھتے ہیں۔ خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کی مثل ایک اور چیز بھی۔

[مسند أحمد:17174]،[ سنن أبي داؤد، كتاب السنة، باب في لزوم السنة: 4604]،[ ترمذی، كتاب العلم، باب ما نهى عن أن يقال عند حديث رسول الله ﷺ: 2664]

معلوم ہوا کہ شریعتِ اسلامیہ سے مراد قرآن وسنت ہے، جس نے ان میں سے صرف ایک کو اختیار کیا اور دوسری کو ترک کیا اس نے کسی ایک کو بھی اختیار نہیں کیا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے تمسک کا حکم دیتی ہیں، فرمایا: [مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ] جس نے رسول کی اطاعت کی یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ (النساء:80)