امام کی اقتدا اور ہلکی نماز کے احکام احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مقتدی کا امام کی اقتدا کرنا اور اس کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد، وإذا صلى قائما فصلوا قياما، وإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا
”امام تو اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء و اتباع کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ ”سمع الله لمن حمده“ کہے تو تم ”اللهم ربنا لك الحمد“ کہو، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر نماز پڑھو“۔
بخاری، الأذان، حديث 689۔ مسلم، كتاب الصلوة، حديث 417/79۔
الشیخ بیضاوی رحمہ اللہ وغیرہ نے فرمایا: اتباع کرنے والے کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کی اتباع کر رہا ہے اس سے سبقت کرے نہ اس کے برابر اور نہ ہی اس کے موقف سے آگے بڑھے۔ بلکہ وہ اس کے احوال کی نگرانی کرے اور اس کے فعل کے مطابق اس کے پیچھے پیچھے رہے۔ اور اس کا یہ تقاضا ہے کہ وہ احوال میں کسی صورت بھی اس کی مخالفت نہ کرے۔
الشیخ النووی رحمہ اللہ وغیرہ نے فرمایا: امام کی نیت کے علاوہ ظاہری افعال کی متابعت واجب ہے۔ (دیکھئے فتح الباری 2/ 209)
الشیخ ابن دقیق رحمہ اللہ نے فرمایا: فكبروا میں فاء تعقیب کے لئے ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ مقتدی کے افعال امام کے افعال کے بعد ہوں۔ ابن بطال نے بھی اسی طرح اس کا فیصلہ کیا ہے اور تعاقب کیا کہ فاء جو تعقیب کے لئے ہے وہ عاطفہ ہے۔ اور جو یہاں ہے وہ ربط کے لئے ہے کیونکہ یہ جواب شرط واقع ہوئی ہے۔ پس اس لئے یہ امام کے افعال سے مقتدی کے افعال کے موخر ہونے کا تقاضا نہیں کرتی بجز جزا پر شرط کے مقدم ہونے کے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ جزا شرط کے ساتھ ہوتی ہے۔ پس اس طرح یہ مقارنت کی نفی نہیں کرتی۔ (دیکھئے العدة شرح العمدۃ 2/ 241۔ اور فتح الباری 2/ 210)
ابن المنیر نے کہا: اس کا تقاضا ہے کہ مقتدی کا رکوع امام کے رکوع کے بعد ہو یا تو امام کے مکمل طور پر جھک جانے کے بعد یا پھر امام شروع میں اس سے سبقت لے جائے۔ پس وہ اس کے شروع کرنے کے بعد شروع کرے۔ (دیکھئے فتح الباری 2/ 210)

امام لوگوں کو ہلکی نماز پڑھائے

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم للناس فليخفف فإن فيهم الضعيف والسقيم والكبير، وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ما شاء
”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں ضعیف، بیمار اور بوڑھے ہوتے ہیں، اور جب کوئی خود اکیلا نماز پڑھے تو پھر جتنی چاہے لمبی پڑھے“۔
بخاری، کتاب الصلوة 702۔ مسلم، كتاب الصلوة 467۔ موطا امام مالک، النداء للصلوة 134/1۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 494، 495۔
② سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا، میں صرف فلاں آدمی کی وجہ سے نمازِ فجر دیر سے پڑھتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے وقت اس دن سے زیادہ کبھی غصے کی حالت میں نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيها الناس! إن منكم منفرين فأيكم أم الناس فليوجز فإن من ورائه الكبير والصغير وذا الحاجة
”لوگو! تم میں کچھ متنفر کرنے والے بھی ہیں۔ پس تم میں سے جو امامت کرائے تو وہ اختصار سے کام لے، اس لیے کہ اس کے پیچھے بڑے، چھوٹے اور ضرورت مند ہوتے ہیں“۔
بخاری، کتاب الصلوة 702۔ مسلم، كتاب الصلوة 466۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 984۔ احمد، باقی مسند المکثرین 118/4۔
③ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو آخری وصیت کی وہ یہ تھی:
إذا أممت قوما فأخف بهم الصلاة
”جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں مختصر نماز پڑھاؤ“۔
مسلم، كتاب الصلوة 187/468۔