قیامت کی نشانی : شجر وحجر پکار اٹھیں گے
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون اليهود فيقتلهم المسلمون حتى يختبئ اليهودي من وراء الحجر أو الشجر فيقول الحجر أو الشجر يا مسلم يا عبد الله ! هذا يهودي خلفي فتعال فاقتله إلا الغرقد فإنه من شجر اليهود
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں گے اور انہیں قتل کریں گے حتی کہ اگر کوئی یہودی درخت یا پتھر کی اوٹ لے گا تو وہ درخت اور پتھر پکار اٹھے گا ، اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! یہاں آ، یہودی میری اوٹ میں ہے اسے قتل کر ڈال ، البتہ غرقد ( کانٹے دار درخت کیکر جیسا) نامی درخت (نہیں بولے گا) کیونکہ یہ یہودیوں کا درخت ہے۔
احمد (2/91 – 163 – 175) بخاری کتاب الجهاد : باب قتال اليهود (2925) مسلم (2921) المعجم الكبير (2/307) مجمع الزوائد 7/664
فوائد :
➊ حیوانات کی طرح شجر وحجر کا بولنا بھی قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ یہ نشانی اس وقت ظاہر ہوگی جب مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کی معیت میں دجال اور اس کے (یہودی) لشکر سے قتال کریں گے اور یہ آخری جنگ ہوگی۔
➌ شجر و حجر میں قوت گویائی کا ظہور قدرت الہی سے کچھ بعید نہیں۔ ان الله على كل شئ قدير
➍ جس درخت کے پیچھے یہودی چھپے گا وہی درخت بول کر اس کی نشاندہی کرے گا البتہ غرقد نامی درخت نہیں بولے گا۔
➎ یہ پیش گوئی سپیدہ سحر کی طرح رونما ہو کر رہے گی اور بلا تاویل دستگیر اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
➏ یہودی اس پیش گوئی سے اس قدر خائف ہیں کہ اسرائیلی ریاست میں وسیع پیمانے پر غرقد نامی درخت کی کاشت کر رہے ہیں۔