قرآن کی تفسیر میں عقل پرستی کا فتنہ قرآنی آیات کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تصحیح میں عقل پرستی باعث گمراہی ہے

عقل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات سے خاص امتیاز رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو بھی کچھ سمجھ بوجھ دے رکھی ہے جسے شعور کہتے ہیں، یعنی ظاہری حواس سے چیزوں کو معلوم کرنا۔ ان چیزوں میں تو انسان دیگر حیوانات کے ساتھ شریک ہے لیکن حواس سے ماورا چیزوں کو معلوم کرنا عقل کا کام ہے جو حیوانات میں موجود نہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت کے استعمال کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔ اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ چیز فائدہ مند ہو جاتی ہے اور انسان اس نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن جاتا ہے اور اگر استعمال میں بتائے ہوئے طریقے سے انحراف کیا جائے تو وہ حقیقت میں اس نعمت کا ضیاع بن جاتا ہے۔ اس وقت اس نعمت کا صرف نام ہی باقی رہ جاتا ہے بلکہ کبھی تو اللہ تعالیٰ اس نعمت کو سلب بھی کر لیتا ہے۔ عقل کے استعمال کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ طریقہ ہے جس سے عقل کے منافع و فوائد حاصل کیے جاتے ہیں جبکہ دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں مفاسد عقل کا ظہور ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ استعمال یہ ہے کہ عقل کو آسمانی وحی کے تابع بنایا جائے بلکہ یہ عادت الٰہیہ یہ ہے کہ نفسی قوتوں کو آفاقی قوتوں کے ساتھ مربوط کیا ہے جیسا کہ آواز سننے کا تعلق ہوا کے ساتھ ہے، یعنی ہوا کے ذریعے سے آواز کان تک پہنچتی ہے اور اگر ہوا بند ہو جائے تو قوت سامعہ کام نہیں کر سکتی۔ اسی طرح آنکھ کے ذریعے سے چیزوں کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بیرونی روشنی حاصل ہو۔ دن میں سورج کی روشنی کے ساتھ اور رات میں چاند ستاروں یا مصنوعی روشنی کے ساتھ ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر بیرونی روشنی نہ ہو تو آنکھ کی قوت بصر بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
اسی طرح عقل بھی ایک نفسی قوت ہے جو بصیرت اور باطنی روشنی کا کام دیتی ہے بشرطیکہ اسے وحی الہی کا تعاون حاصل ہو، یعنی عقل روشنی کا کام دے سکتی ہے بشرطیکہ وحی کی روشنی موجود ہو، لہذا اگر عقل کو وحی کی روشنی میں استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہے اور اگر اسے وحی کے بغیر استعمال کیا جائے تو اس پر بہت سے مفاسد مرتب ہوتے ہیں۔ اب یہاں دو عنوان قائم کر کے اس مسئلے کو مزید واضح کیا جاتا ہے۔

عقل کے منافع

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تعقل، تفکر اور تدبر کی طرف بہت سی ترغیبات دی ہیں۔ تعقل کا مطلب یہ ہے کہ عقل سے کام لیا جائے، تفکر کا مطلب یہ ہے کہ عقل استعمال کرنے کے کچھ نتائج برآمد ہوں اور تدبر یہ ہے کہ ان برآمدہ نتائج کے تمام اطراف و جوانب، پس و پیش، عواقب اور حکمتوں کو ظاہر کیا جائے۔ درج ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے تعقل کی ترغیب دلائی ہے۔
➊ فرمایا:
وَيُرِيكُمْ آيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
”وہ تمھیں اپنی آیات (نشانیاں) دکھاتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو۔“
(2-البقرة:73)
یعنی وہ تمھیں بعث بعد الموت کے لیے دنیوی زندگی میں سے بعض نمونے دکھاتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو۔
➋ فرمایا:
ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
”یہ وہ باتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے تا کہ تم سمجھو۔“
(6-الأنعام:151)
➌ نیز فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ‎﴿٢﴾‏
”بے شک ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں اتارا ہے تا کہ تم سمجھو۔“
(12-یوسف:2)
➍ نیز فرمایا:
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
”اسی طرح اللہ تمھارے لیے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم سمجھو۔“
(24-النور:61)
ان آیات اور ان کے سیاق و سباق سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ آیات الہیہ دکھانے، دینی احکام بتانے، انسانی آداب بیان کرنے اور قرآن کریم نازل کیے جانے کے بعد انسان اپنی عقل استعمال کرے، یعنی وحی کی حدود میں رہتے ہوئے عقل سے کام لیا جائے۔
درج ذیل آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فکر کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ فرمایا:
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
”اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم غور و فکر کرو۔“
(2-البقرة:219)
یعنی اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے منافع اور مفاسد خود بیان کیے، پھر مفاسد کی کثرت بیان کی اور اس کے بعد منافع و مفاسد کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے تفکر کی طرف ترغیب دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۗ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
”کہہ دیجیے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟ تو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟“
(6-الأنعام:50)
یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں اور مومنوں کے احوال کا تقابل فرمایا ہے۔ اب تمھاری ذمہ داری ہے کہ فکر کرو اور کافروں کے طرز عمل سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ ایک جگہ فرمایا:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ‎﴿٤٤﴾‏
”اور ہم نے آپ پر ذکر (قرآن) اتارا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا اور تا کہ وہ غور و فکر کریں۔“
(16-النحل:44)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ترتیب کے ساتھ تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے: قرآن کریم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی تشریح، یعنی قولی اور فعلی احادیث اور غور و فکر، یعنی اجتہاد۔ ان ساری آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے بعد فکر کرنے کی دعوت دی ہے اور یہ عقل استعمال کرنے کا دوسرا مقام ہے۔
درج ذیل آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تدبر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ‎﴿٢٩﴾‏
”ہم نے یہ بابرکت کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ وہ (لوگ) اس کی آیات میں تدبر کریں اور عقل مند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔“
(38-ص:29)
یعنی قرآن کریم کی آیات پر یقین کر کے تدبر کریں اور صرف تدبر پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ اس سے نصیحت قبول کریں۔ مزید فرمایا:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا
”تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اور اگر اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ یقیناً اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“
(4-النساء:82)
یعنی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت، حق گوئی و کمال ہدایت، اس کے معانی اور غیر متناقض مقاصد میں تدبر کرنے سے بات واضح ہوتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔
مزید فرمایا:
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ
”کیا پھر انھوں نے اس کلام میں تدبر نہیں کیا؟“
(23-المؤمنون:68)
نیز فرمایا:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ
”کیا پھر یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟“
(47-محمد:24)
مندرجہ بالا آیات سے واضح ہوا کہ تفکر اور تدبر کے لیے عقل سے کام لینا آیات الہیہ کی حقانیت، قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لیے یقیناً مفید کام ہے لیکن سورۂ نحل کی آیت نمبر 44 کی ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، یعنی قرآن کریم کی شرح (حدیث و سنت) تسلیم کرنے کے بعد سمجھ بوجھ اور غور و فکر مفید ہوگا اور یہ عقل کا جائز اور مناسب مقام ہے۔

عقل کے مفاسد

وحی کے بغیر اگر عقل کا استعمال ہو تو ایسی عقل کو مفسد (نقصان دہ) عقل کہا جا سکتا ہے کیونکہ جب بھی کسی نے عقل کو وحی کی روشنی کے بغیر استعمال کیا تو اس کے نتیجے میں بہت سے مفاسد ظاہر ہوئے۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
➊ جب نص صریح کے ذریعے ابلیس کو حکم دیا گیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو اس نے وحی پر عمل کرنے کے بجائے اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے کہا:
أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
”میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔“
(7-الأعراف:12)
اور اس عقلی استدلال کا دوسرا جملہ پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ آگ مٹی سے بہتر ہے۔“ جبکہ یہ دلیل حقیقت کے خلاف اور منافی ہے کیونکہ اگر آگ اور مٹی کے منافع کا تقابل کیا جائے تو یقیناً معلوم ہوگا کہ مٹی کے منافع و فوائد آگ سے زیادہ ہیں، نیز اس کی یہ دلیل اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ یہ نص الہی کے مقابل اور مخالف ہے۔ پس وحی کے مقابلے میں عقل استعمال کرنے کی وجہ سے ابلیس ذلت اور لعنت کا مستحق ٹھہرا۔ اس وجہ سے علماء نے لکھا ہے: ”سب سے پہلے ابلیس نے نص کے مقابلے میں قیاس سے کام لیا۔“
➋ بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ جہاد کرنے کے لیے ان کا امیر مقرر فرما دیں تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی وساطت سے طالوت کو ان کا امیر مقرر فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اس نص شرعی کے مقابلے میں اپنی عقل کو استعمال کیا اور کہا کہ ہم نسب اور مال کے لحاظ سے طالوت کی نسبت امارت کے زیادہ اہل ہیں، یعنی ان کے نزدیک امارت اور سیاست کا تعلق سرمایہ داری کے ساتھ تھا، جیسا کہ ان کے ہاں اب بھی یہی نظام رائج ہے۔ نص شرعی کے مقابلے میں اپنی عقل استعمال کرنے کی وجہ سے یہی لوگ نہر عبور کرتے وقت پانی نہ پینے کی آزمائش میں ناکام ہو کر ذلیل اور گناہ گار بن گئے۔
(البقرة 247:2-252)
➌ یہ بات مسلمہ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یونان کے حکماء بڑے سائنس دان اور فلسفی تھے۔ طبیعیات اور ریاضی کے امام سمجھے جاتے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں سے اکثر کفرو شرک میں مبتلا تھے جن میں سے ارسطو کا نام مشہور و معروف ہے۔ اس طرح اب بھی بڑے بڑے ایسے سائنس دان موجود ہیں جنھوں نے عقل کے ذریعے سے دنیوی زندگی میں ترقی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے لیکن ان میں سے جو لوگ وحی الہی کی روشنی سے محروم ہیں وہ کفر و شرک اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ
”وہ دنیاوی زندگی کے ظاہر ہی کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کی طرف سے یکسر غافل ہیں۔“
(30-الروم:7)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کے بارے میں فرمایا:
فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ
”شیطان نے انھیں سیدھی راہ سے روک دیا، حالانکہ وہ (دنیوی ترقی میں) بہت ہوشیار تھے۔“
(38-العنكبوت:38)
لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو عقل مند قرار نہیں دیا کیونکہ حقیقت میں عقل وہ ہے جو وحی کے تابع ہو جبکہ ان لوگوں نے وحی کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے دو طریقوں سے ایسے لوگوں کی عقل کی نفی فرمائی۔

مطلق نفی عقل

اللہ تعالیٰ نے عام کافروں کے متعلق فرمایا:
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
”وہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، لہذا وہ عقل نہیں رکھتے۔“
(2-البقرة:171)
نیز فرمایا:
قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
”کہہ دیجیے: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔“
(29-العنكبوت:63)
اہل کتاب کے متعلق فرمایا:
تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ
”تم ان کو متحد خیال کرتے ہو، حالانکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔“
(59-الحشر:14)
منافقوں کے متعلق فرمایا:
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ‎﴿٢٢﴾
”بے شک اللہ کے نزدیک بدترین حیوان وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔“
(8-الأنفال:22)

کسی خاص وجہ سے نفی تعقل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
”کیا تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھلا دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب الہی پڑھتے ہو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟“
(2-البقرة:44)
اس آیت سے واضح ہوا کہ علم پر عمل نہ کرنا بے عقلی ہے۔ ایک موقع پر فرمایا:
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ‎﴿٦٥﴾
”اے اہل کتاب! تم ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل کی گئی تھیں کیا تم عقل نہیں رکھتے؟“
(3-آل عمران:65)
یعنی ملت ابراہیمی کے متعلق جھگڑنا بے عقلی ہے۔ اور فرمایا:
وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ‎﴿٣٢﴾
”البتہ آخرت کا گھر ان کے لیے بہت بہتر ہے جو متقی ہیں تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟“
(6-الأنعام:32)
یعنی دنیا کو آخرت اور جنت کے مقابلے میں پسند کرنا بے عقلی ہے۔
اسی طرح اختصار کے ساتھ چند آیات کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں جن میں کچھ افعال اور صفات مذمومہ کو بے عقلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
●رسول کا انکار کرنا (10-یونس:16)
●قرآن کریم کا انکار کرنا (21-الأنبیاء:10)
●بتوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا (21-الأنبیاء:67)
●شرعی اذان کے ساتھ استہزا کرنا (5-المائدة:58)
●اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا (5-المائدة:103)
●اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر غور و فکر نہ کرنا (36-یس:68)
●اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کرنا (49-الحجرات:4)
پس معلوم ہوا کہ مذکورہ اعتقادات و اعمال کا، جو بذریعہ وحی ثابت ہیں، تمسخر اڑانا اور ان پر عمل ترک کر کے صرف اپنی عقل و دانش کو کافی سمجھنا بے عقلی اور احمق پن کے مظاہر ہیں۔
❀ حاصل بحث: اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کو وحی الہی کے تابع بنایا اور جس نے عقل کو وحی کے تابع رکھا اس کی عقل نے عقل نافع کا کردار اپنایا اور جس نے عقل کو وحی کے مقابلے میں استعمال کیا وہ گمراہ ہو گیا اور یہ عقل فاسد کا نتیجہ ہے۔

پرویزیت اور عقل

پرویزی لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے ہاں عقل کو وحی پر تفوق حاصل ہے۔ اگر چہ وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم وحی کو عقل سے برتر سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ عقل کو وحی پر تفوق دینے کا ثبوت ان کے نام نہاد طلوع اسلام کے تحریکی لٹریچر کے مطالعے سے مل سکتا ہے۔ درج ذیل سطور میں اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
➊ مسئلہ تقدیر اور جزا و سزا کے متعلق پرویز کا نظریہ معتزلہ کے عین مطابق ہے۔ لکھتے ہیں: خدا نے کائنات پیدا کر کے ہر چیز کے پیمانے یا قوانین مقرر فرمائے ہیں۔ اب وہ خود (اللہ تعالیٰ) ان قوانین کا پابند بن گیا ہے۔ ہر عمل کا ایک لازمی نتیجہ ہے جو ان قوانین کے تحت ظہور میں آتا ہے۔ ان نتائج کو روکنا یا ختم کرنا اللہ تعالیٰ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
(کتاب التقدیر)
انھوں نے تقدیر کا معنی پیمانے کیا ہے اور ان کے عقیدے کی رو سے جہاں انسان کو اپنے اعمال کا مختار کل قرار دیا گیا ہے وہاں خدا کی مغفرت اور انبیاء و صالحین کی شفاعت کا عقیدہ بھی باطل قرار پاتا ہے۔ یہی معتزلہ کا عقیدہ ہے وہ انسان کو اپنے اعمال کا خالق (مختار کل) سمجھتے ہیں، نیز پرویز کے عقیدے سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا اور وہ انبیاء و صالحین کی شفاعت کا بھی منکر ہے۔ یہ معتزلہ سے بڑھ کر باطل عقیدہ ہے۔
➋ معجزات سے انکار کے سلسلے میں پرویز صاحب سرسید احمد خان کے مقلد ہیں کہ وہ خلاف فطرت کوئی بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سابقہ انبیاء علیہ السلام کے معجزات کے بارے میں جتنی آیات وارد ہیں ان سب کی اپنی عقلی روش کے مطابق تاویل کی ہے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا۔ ان کا دعوی ہے کہ قرآن کریم سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حسی معجزہ ثابت نہیں ہوتا۔اور جن آیات سے معجزات ثابت ہوتے ہیں ان میں بے جا تاویلات کی گئی ہیں۔
➌ نظریہ ارتقا کے مسئلے میں سرسید سے آگے بڑھ کر اس نظریے کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
(ابلیس اور آدم)
فرشتوں، ابلیس اور آدم علیہ السلام کے بارے میں دور از فہم تاویلات کر کے ارتقا ثابت کرنے کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔
➍ طاہرہ کے نام خط لکھ کر عائلی نظام میں مرد کے تفوق کو یکسر ختم کر دیا ہے اور اپنی ناقص عقل کے ذریعے سے اس نظریے کو قرآن کریم سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
➎ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جگہ مرکز ملت کا تصور قرآن سے ثابت کرنے کی سعی باطل کی ہے اور تشریعی احکام کے جملہ اختیارات مرکز ملت کو تفویض کیے ہیں۔
➏ اپنی باطل تاویلات کے لیے فضا ہموار کرنے کے لیے احادیث کو ماننے سے انکار کیا اور صرف ان احادیث کا اقرار کیا ہے جو اس کے جدید ”قرآنی فہم“ کے مطابق ہوں۔
➐ قرآن کریم کی مروجہ اصطلاحات کو نئے معانی و مفاہیم عطا کیے۔ عبادت، ملائکہ، صلاة، زکاۃ، قیامت، جنت اور جہنم کا مروجہ شرعی مفہوم یکسر بدل دیا ہے۔ یہ تمام غلط عقائد عقل کو وحی پر تفوق دینے کا نتیجہ ہیں۔ چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ نظریہ مسلمانان عالم کے عقائد سے صریح متصادم ہے، اس لیے سلیم کے نام سولہویں خط میں لکھا ہے: ”میرا اندازہ ہے کہ قرآن (پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت) کو سمجھیں گے تو مغرب کے مفکرین سمجھیں گے۔“ (کیونکہ وہ لوگ شریعت سے واقف نہیں بلکہ اس کے دشمن ہیں۔)
اور سترہویں خط میں لکھتے ہیں: ”مجھے مغربی اقوام کی سرزمین قرآنی پیغام کے لیے زیادہ سازگار معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہاں عقل ہے ملاً ازم کی جہالت اور تنگ نظری نہیں ہے۔“ (اس قسم کے پرویزی افکار پر مبنی بہت سے پراگندہ خطبات و خیالات کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔)
ثابت ہوا کہ پرویز صاحب نے اپنے اس طرز عمل سے اہل مغرب کو خوش رکھنے کا تہیہ کر رکھا تھا، جیسا کہ ان کے ہم نوا مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اہل مغرب کے ساتھ تعاون کرنے میں تمام کوششیں صرف کی تھیں۔
❀ ایک منکر حدیث کی توبہ: ایک منکر حدیث کے ساتھ میرا مکالمہ ہوا جو کیسٹ میں ریکارڈ ہے۔ اس نے کہا: ہم قرآن کی تفسیر کے لیے عقل کو کافی سمجھتے ہیں۔ میں نے اسے کہا: ہم اس وقت چار آدمی موجود ہیں اور ہم چاروں کی عقل میں ضرور فرق ہے۔ قرآن فہمی کے لیے ہم میں سے کس کی عقل معتبر ہوگی؟ اور اگر ہر شخص کی عقل معتبر ہوگی تو پھر قرآن کریم لوگوں کی عقل کے سامنے ایک کھلونا بن جائے گا اور ہر شخص اپنی عقل کے مطابق اخذ کردہ خیالات کو قرآن کی طرف منسوب کرے گا، نتیجہ اس شخص نے ہمارے سامنے اپنے نظریے سے توبہ کر لی۔