نماز با جماعت ادا کرنے کی فضیلت
اسلام میں اجتماعیت کی بڑی اہمیت ہے اور اس کا مظہر اوقات نماز میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اسلام میں نماز دوسرا بڑا رکن ہے، لیکن اس کی ادائیگی میں شریعت نے رہنمائی بھی کی ہے کہ اسے کس انداز سے اور کن کن مقامات پر ادا کرنا ہے۔ اس اجتماعی زندگی، بھائی چارے، مسلمانوں کے باہمی رابطے و تعلق کے حصول کے لیے شریعت نے نمازوں کو اجتماعی صورت میں ایک امام کی اقتداء میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس سلسلے میں فضائل بھی بے شمار بیان کیے ہیں:
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾
”نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“
(2-البقرة:43)
مفسرین کرام نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:
”اس میں باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“
عن أبى الدرداء رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من ثلاثة فى قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليك بالجماعة، فإنما يأكل الذئب القاصية.
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بستی یا جنگل میں تین ایسے آدمی ہوں جن میں (با جماعت) نماز کا اہتمام نہ کیا جائے، تو ان پر یقیناً شیطان غالب آ گیا ہے۔ پس تم جماعت کو لازم پکڑو، یقیناً بھیڑیا اس بکری کو کھا جاتا ہے جو ریوڑ سے دور رہتی ہے۔“
راوی حدیث السائب فرماتے ہیں:
”حدیث میں الجماعة سے نماز کی جماعت مراد ہے۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، رقم: 547۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ ثواب ہے۔“
صحیح بخاري، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، رقم: 645۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، رقم: 650.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى لله أربعين يوما فى جماعة يدرك التكبيرة الأولى كتب له براءتان: براءة من النار، وبراءة من النفاق.
”جو شخص چالیس دن جماعت کے ساتھ مع تکبیر اولی نماز پڑھے، تو اس کے لیے دو خلاصیاں لکھی جاتی ہیں: ایک خلاصی آگ سے، اور دوسری نفاق سے۔“
سنن ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل التكبيرة الأولى، رقم: 241۔ سلسلة الصحيحة، رقم: 2652.
سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندھے ہونے کا عذر پیش کر کے اپنے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
هل تسمع النداء بالصلاة؟ فقال: نعم. قال: فأجب.
”تم اذان سنتے ہو؟“ عبد اللہ نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس آپ نماز میں حاضر ہوں۔“
صحیح مسلم کتاب المساجد ، باب یجب اتیان المسجد الخ، رقم : 653
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
لقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق معلوم النفاق. ولقد كان الرجل يؤتى به يهادى بين الرجلين، حتى يقام فى الصف.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں میں نے دیکھا کہ وہی منافق نماز سے پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا تھا، اور بعض مریض قسم کے لوگوں کو دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
صحیح مسلم کتاب المساجد ، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدی رقم: 654