كتاب الصلاة
نماز کا انتظار کرنا اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال أحدكم فى صلاة ما دامت الصلاة تحبسه، لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة
”تم میں سے ہر کوئی اس وقت تک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، اور اسے اپنے اہل خانہ کے پاس جانے سے صرف نماز مانع ہوتی ہے“۔
بخاری، کتاب الصلوة، حديث 659۔ مسلم، كتاب المساجد، حديث 649/275۔
یعنی وہ نماز کے ثواب میں ہوتا ہے اس کے حکم میں نہیں، کیونکہ اس کے لیے بات وغیرہ کرنا جائز ہے جو کہ حالتِ نماز میں جائز نہیں ہوتی۔
دیکھئے فتح الباری 2/167۔
اگر کوئی اور چیز اس کی نیت کو اس سے ہٹا دے تو پھر اس کا ثواب مذکور منقطع ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر انتظار میں کوئی اور چیز بھی شریک ہو جائے تو بھی ثواب مذکور منقطع ہو جائے گا۔ کیا اسے مسجد میں نماز پڑھنے کی نیت سے ثواب حاصل ہو جائے گا خواہ وہ وہاں نہ بھی ہو؟ ظاہر تو اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ ثواب مذکور تو نیت اور وہاں عبادت میں مشغول رہنے کے مجموعے پر مرتب ہوتا ہے۔ لیکن مذکور شخص ( جو انتظار میں بیٹھا ہوا ہے) کے لئے ثواب اس کے لئے ہی خاص ہے۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشاء کو آدھی رات تک مؤخر کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخِ مبارک ہماری طرف کیا اور فرمایا:
صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا فى صلاة منذ انتظرتموها
”لوگوں نے نماز پڑھی اور وہ سو چکے، اور تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا اتنی دیر تک تم نماز ہی میں رہے“۔
بخاری، کتاب الاذان، حديث 661۔
نمازیوں کی طرف منہ کرنے کے بارے میں جو حکمت ہے اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ امام مقتدیوں کو اس چیز کی تعلیم دے جس کے وہ ضرورت مند ہیں۔ اور یہ اسی کے لئے خاص ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تعلیم و نصیحت کا ارادہ کرتا ہو۔ ایک حکمت یہ بھی بیان کی گئی ہے تا کہ پتہ چل سکے کہ نماز ہو چکی ہے۔ اگر امام اپنی اس حالت میں قبلہ رخ ہو کر بیٹھا رہے تو وہ وہم میں مبتلا کر سکتا ہے کہ وہ ابھی تک تشہد ہی میں ہے۔
زین بن المنیر بیان کرتے ہیں۔ امام کا مقتدیوں کی طرف منہ کرنا امامت کا حق ہے پس جب نماز مکمل ہو گئی تو پھر سبب زائل ہو گیا۔ پس مقتدیوں کی طرف منہ کرنے سے اس کا مقتدیوں پر فخر و غرور کرناختم ہو جاتا ہے۔
(فتح الباری 2/ 389،388)
③ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من كان فى المسجد ينتظر الصلاة فهو فى الصلاة
”جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے“۔
النسائی، کتاب المساجد، باب الترغيب في الجلوس في المسجد وانتظار الصلوة۔
امامت اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة على كثبان المسك، أراه قال: يوم القيامة، عبد أدى حق الله وحق مواليه، ورجل أم قوما وهم به راضون، ورجل ينادي بالصلوات الخمس فى كل يوم وليلة
”قیامت کے دن تین قسم کے لوگ کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ ایک وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرتا ہے، دوسرا وہ آدمی جو لوگوں کی امامت کرتا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں، اور تیسرا وہ آدمی جو روزانہ پانچوں نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے“۔
الترمذی، کتاب البر، حديث 1986۔ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ابوالیقظان عثمان بن عمیر الکوفی ضعیف ہے، وہ اختلاط کا شکار تھا، تدلیس کرتا تھا اور غالی شیعہ تھا۔ دیکھئے التقریب 4507۔