امام ابو حنیفہ اور اصحابِ ابو حنیفہ پر محدثین کی جرح

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ رحمہ اللہ کے شاگرد محدثین کی نظر میں کیسے تھے؟

جواب: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ گروہِ محدثین کے ہاں بالاتفاق ضعیف ہیں۔ اسی طرح محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ اور حسن بن زیاد لؤلؤی بھی بالاتفاق ضعیف و متروک ہیں۔ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ جمہور محدثین کے ہاں مجروح و ضعیف ہیں۔ اس بنا پر محدثین فقہائے احناف کی کتابوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُمتِ مسلمہ کو ان کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

دین محدثینِ عظام کی کتابوں میں مدون ہے، الحمد للہ علیٰ ذلک۔ کئی وجوہ کی بنا پر محدثین امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب سے خفا تھے۔

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:

[أما سائر أهل الحديث فهم كالأعداء لأبي حنيفة وأصحابه]

سبھی محدثینِ عظام رحمہ اللہ گویا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگردوں کے دشمن تھے۔

(الانتقاء:ص 173، مغانی الأخبار للعینی الحنفی:251/3)

علامہ محمد انوار اللہ فاروقی خلیفہ مجاز حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب فرماتے ہیں:

اب غور کیجئے کہ اُس زمانہ میں امام (ابو حنیفہ) صاحب کے مخالف محدثین کثرت سے تھے، جن کی مخالفت کا اثر اب تک جاری ہے اور محدثین کی عادت تھی کہ جو بات مخالفِ حدیث پاتے، اس پر مناظرے کرتے، یہاں تک کہ جان دینے کو مستعد ہو جاتے تھے، جیسا کہ خلقِ قرآن کے مسئلہ میں آپ نے دیکھ لیا۔ (حقیقت الفقہ، حصہ اول، ص 305)