مقدمہ کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

الحمد لله الذى نزل الكتاب على عبده ليكون للعالمين نذيرا وبشيرا وسبحان الذى أوحى إلى عبده فجعله داعيا وسراجا منيرا، وصلى الله تعالى على ذلك العبد وسلم الذى أرسله تاليا وشارحا، وهاديا مهتديا، واجب الإتباع قاضِياً وحاكماً رءوفا رحيما، وعلى آله وأصحابه الذين بلغوا عنه ما رأوا وعلموا وما بدلوا تبديلا، أما بعد:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ
”بے شک اسلام ہی اللہ کے نزدیک دین حق ہے۔“
(3 – آل عمران: 19)
اور فرمایا:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ تُقْبَلَ مِنْهُ
”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کا متلاشی ہو تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“
(3 – آل عمران : 85)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ دین، دین اسلام ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی دعوت اور اشاعت کے لیے ہر دور میں اپنے پسندیدہ بندے انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ انھوں نے مشترکہ طور پر دو باتیں اپنی اپنی امت کے سامنے پیش کیں۔ پہلی یہ کہ فَاتَّقُوا الله اللہ سے ڈر جاؤ“ دوسری وَاَطِيعُونِ اور میری اطاعت کرو۔“ جیسا کہ سورۂ شعراء میں نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہ السلام کے واقعات میں اور سورہ آل عمران میں عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔ فَاتَّقُوا اللہ میں اللہ تعالیٰ اور عقیدہ توحید کی طرف دعوت، تمام اقسام کفر و شرک سے اجتناب اور تمام اعمال میں ظاہری و باطنی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ وَاَطِيعُونِ میں رسول کے وصف رسالت اور وصف نبوت کی حیثیت سے ان کی مکمل اطاعت کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی اور قلعہ نبوت کی آخری اینٹ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو بنایا اور انھیں مکمل دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو بذریعہ وحی دو اصولوں کے اندر منضبط فرمایا، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بار بار اَطِيعُوا الله وَاَطِيعُوا الرَّسُول کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے اور ان دونوں کا محسوس نقشہ قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں رکھا گیا ہے، جس کا نام وحی جلی اور وحی خفی، یا وحی متلو اور وحی غیر متلو ہے۔ صحابہ کرام سے لے کر آج تک سلف صالحین، ائمہ محدثین، مفسرین، مجتہدین اور علمائے حق نے مختلف انداز سے قرآن کریم اور سنت کی دعوت و اشاعت کا کام کیا۔ انھوں نے خطابت، تالیف و تصنیف، الفاظ و معانی اور لغوی و عرفی شرعی تشریحات کے ذریعے سے انہی دونوں چیزوں کو امت تک پہنچایا۔ ان کے ہاں اصولی طور پر ان دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں رہا۔ ایمانیات اور اصول ادیان، یعنی نماز، روزہ، حج اور زکوۃ، نیز اصول محرمات میں مکمل موافقت موجود ہے۔ صرف چند کیفیات میں اختلاف ہے جس کو فرعی اختلاف کہا جاتا ہے جو حقیقت میں اختلاف نہیں، البتہ تعصب اور جہالت کی وجہ سے بعض لوگوں نے اسے اصولی اختلاف کا رنگ دے دیا ہے جس سے قرآن و حدیث کی صداقت و حقانیت اور فرضیت اطاعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
قرآن و سنت کی مخالفت ہر دور میں کی گئی۔ اجنبی اقوام تو در کنار کچھ اپنوں نے بھی شیطان کے راستے پر چل کر ان کے مطابق عمل کرنے کے سلسلے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ کسی نے قرآن میں لفظی تحریف کرنے کی کوشش کی، جس کی مثالیں روافض کی کتابوں اور مرزا قادیانی کی تلبیسات میں موجود ہیں لیکن ان کی یہ حیلہ گری کارآمد نہ ہو سکی۔ کسی نے معنوی تحریفات اور تاویلات کے ذریعے سے اسلام کی اصلی صورت تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی جس میں مرزا قادیانی اور تحریک طلوع اسلام کے رئیس پرویز احمد سرفہرست ہیں۔ ان کی تحریک صرف معنوی تحریفات پر مبنی ہے جس کے ذریعے سے وہ جاہل اور کم علم اشخاص کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح اکثر مبتدعین (بدعتی) مثلاً: معتزلہ، جہمیہ، اباضیه، خوارج اور دیگر علمی خرافات پھیلانے والے فرقے اس کام میں ملوث ہیں۔ ان سب کا مسلک تاویلات پر مبنی ہے۔ یہ لوگ حقیقت کو چھوڑ کر بلا ضرورت تاویل اور مجاز کو اختیار کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اسلام سے عملی طور پر ختم کرنے کے لیے احادیث کی حجیت سے انکار کیا اور اپنی عقل و خواہش ہی کو صحت حدیث کے پرکھنے کے لیے حاکم و فیصل قرار دیا۔ اس فطرت کے لوگ زمانہ قریب میں فرقہ نیچریہ، چکڑالویہ، سرسید احمد اور علامہ مشرقی کے ناموں اور نسبتوں سے رونما ہوئے لیکن اس تحریک کی ترقی میں پرویز احمد سب سے آگے ہے۔ دور حاضر میں یہ فتنہ زیادہ تر سرمایہ داروں اور دینی علوم سے محروم لوگوں میں پھیل رہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرمایا:
ألا ! إني أوتيت الكتاب ومثله معه ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول: عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وإن ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حرم الله
”سن لو! بے شک مجھے قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہے، سن لو، قریب ہے کہ پیٹ بھر کے کھانے والا کوئی شخص اپنی آراستہ تکیہ دار چوکی (صوفے وغیرہ) پر بیٹھ کر کہے کہ تمھارے لیے بس یہ قرآن کافی ہے، لہذا تم اس میں جو حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اور تم اس میں جو حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو، حالانکہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حرام قرار دیا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔“
سنن أبي داود، السنة، باب في لزوم السنة، حدیث: 4604، وجامع الترمذي، العلم، باب ما نهي عنه أن يقال عند حديث رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: 2664۔
بسا اوقات کوئی بات، بیان کرنے والے کے بیان کے مطابق واقع ہو تو وہ اس کی صداقت کی دلیل بن جاتی ہے کیونکہ اب بھی انکار حدیث کا عقیدہ زیادہ تر انھی لوگوں میں ہے جو کرسیوں اور صوفوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست ایک دفعہ لاہور میں پرویز صاحب کے لیکچر میں شریک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ (پرویز) اور ان کے تمام رفقاء کرسیوں پر براجمان تھے جبکہ خواتین کو اگلی سیٹوں پر بٹھایا گیا تھا۔ میرے اس دوست نے رقعے کے ذریعے سے ان خواتین کے بارے میں پرویز صاحب سے سوال کیا تو وہ ناراض ہو گئے اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو یہاں سے نکال دو۔ جو لوگ مساجد و مدارس میں چٹائیوں پر بیٹھ کر دینی علوم حاصل کرتے ہیں ان میں یہ چیز نہیں پائی جاتی الا ماشاء اللہ۔
یہ فی الواقع اس حدیث کی صداقت کے لیے صریح دلیل ہے اور یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے۔ اسی طرح جو لوگ کسی مفسر اور محدث سے قرآن و حدیث کا علم حاصل نہیں کرتے بلکہ محض اپنے مطالعے پر اکتفا کرتے ہیں وہ بھی زیادہ تر حدیث کے مفہوم اور مقصد کو نہیں سمجھتے اور احادیث کو اپنی عقل ناقص کی میزان پر جانچتے ہیں، اس لیے وہ حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اس وجہ سے کبھی وہ کسی صحابی پر اور کبھی کسی محدث اور مؤلف پر دشنام طرازی کا رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے آپ کو منکرینِ حدیث کے کسی خاص فرقے میں شمار کرنا برا سمجھتے ہیں۔ ایسے طرز فکر کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ لوگ اس فتنے کی وجہ سے نماز، روزہ، زکوۃ اور حج وغیرہ، اصل عبادات چھوڑ کر طلوع اسلام والوں کے طریقے پر چلیں گے جو صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے تمام مسلمانوں کے منہج کو خیر باد کہہ کر نیا طریقہ اپنا چکے ہیں۔ طلوع اسلام کے نام کا مقصد بھی یہی ہے کہ جو اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا اور صحابہ کرام، سلف صالحین نے جس پر عمل کیا تھا وہ اسلام غروب ہو چکا اور اب اسلام نئی روشنی کے ساتھ طلوع ہوگا کیونکہ طلوع کا معنی کسی نئی چیز کا ظاہر ہونا ہے، لہذا یہ نام (طلوع اسلام) بھی ان کی ضلالت بلکہ ان کے کفر پر واضح دلیل ہے۔ اس گمراہی کے پھیلاؤ کے خطرے سے بچنے کے لیے مجھ سے پہلے بہت سے علمائے کرام نے مسلمانوں کے مفاد میں پرویزیت اور انکار حدیث کی تردید میں بہت سی کتب لکھی ہیں۔ میرے چند ساتھیوں کا مدت سے یہ مطالبہ تھا کہ اس موضوع پر ایک کتاب تالیف کرنی چاہیے لیکن میں عدم فرصت اور کمزوری صحت کی بنا پر معذرت کرتا رہا، تاہم ان کے پر اصرار مطالبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے توفیق و تائید طلب کرتے ہوئے اس موضوع پر مختصر اور جامع کتاب مرتب کرنے کا ارادہ کیا۔ اگر چہ یہ مسئلہ منکرین کے شبہات اور تلبیسات کی وجہ سے تفصیل طلب ہے جس کے لیے ضخیم کتاب کی ضرورت ہے لیکن ان شاء اللہ تعالیٰ قرآنی طرز پر مشتمل یہ کتاب ضروری پہلوؤں سے کفایت کر سکے گی، وباللہ التوفیق۔