صحیح بخاری کی قابل اعتراض احادیث کا علمی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

بائیسواں شبہ: صحیح بخاری کی قابل اعتراض احادیث

اس عنوان کے تحت پرویز صاحب نے طلوع اسلام میں چالیس احادیث کا صرف اردو ترجمہ نقل کر کے انہیں قابل اعتراض گردانا ہے اور عقل و سائنس کی رو سے ان احادیث پر اعتراض کیا ہے یا اس وجہ سے اعتراض کیا ہے کہ ان کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کی سیرت داغ دار ہوتی ہے یا یہ احادیث قرآن کے خلاف ہیں یا ان سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر حرف آتا ہے، پھر انہوں نے لکھا ہے کہ اس قسم کی اور بھی بہت سی احادیث ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہو سکتیں۔ ان احادیث میں سے صرف ایک حدیث مسلم کی ہے اور باقی 39 صحیح بخاری کی ہیں۔
اس الزام کا جواب یہ ہے کہ صحیح بخاری کی 7275 احادیث میں سے صرف 39 پر اعتراض ہے تو پھر ان کے علاوہ دوسری ہزاروں احادیث کو کیوں نہیں مانتے۔ صرف چند احادیث کی وجہ سے سارے ذخیرہ احادیث کے ساتھ استہزا کسی مسلمان کا تو کیا کسی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کا کام بھی نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ان چالیس احادیث کی سمجھ نہیں آئی ورنہ ان میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔