سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشی کا الزام: روایت کی تحقیق

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشی کا الزام

عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن، أو إنسان حسن الحديث يحدثني]

میں اور میرے والد گرامی سیدنا معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے ہمیں قالین پر بٹھایا، ہمیں کھانا پیش کیا گیا، ہم نے کھایا، پھر کوئی مشروب لایا گیا، معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے پیا اور میرے ابو کو تھما دیا اور فرمایا: جب سے رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دیا، میں نے کبھی نہیں پیا، مزید فرمایا: میں قریش میں سب سے زیادہ خوب صورت اور کھاتا پیتا نوجوان تھا اور جو لذت مجھے تب آتی تھی، آج نصیب نہیں ہوتی، سوائے دودھ سے اور کسی انسان کی اچھی باتیں سننے سے۔

[مسند الإمام أحمد:22941]

سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ عبد اللہ بن بریدہ سے حسین بن واقد کی روایت ’’منکر‘‘ ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[عبد الله بن بريدة الذي روى عنه حسين بن واقد ما أنكرها]

عبد اللہ بن بریدہ کی وہ روایات، جو اس سے حسین بن واقد بیان کرتا ہے، کس قدر منکر ہیں۔

[العلل ومعرفة الرجال برواية ابنه عبد الله: 1420]

یہ جرح مفسر ہے، جسے رد نہیں کیا جا سکتا۔