قربانی کے جانور کا پسندیدہ رنگ احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس رنگ کا جانور قربانی کرتے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چتکبرے رنگ کا یا ایسا مینڈھا ذبح کرتے جس کی ٹانگیں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوتی تھیں، لہذا ان اوصاف سے متصف مینڈھوں کی قربانی کرنا مستحب فعل ہے، دلائل حسبِ ذیل ہیں۔
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهما
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور (ذبح کرتے وقت) بسم اللہ واللہ اکبر کہا اور ان دونوں کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب التکبیر عند الذبح: 5565۔ صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب استحباب استحسان الضحیة: 1966۔ جامع ترمذی، أبواب الأضاحی، باب ما جاء فی الأضحیة بکبشین: 1494۔ سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب المسنة والجذعة: 1492

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ففيه استحباب استحسان لون الأضحية، وقد أجمعوا عليه
”یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کے لیے خوبصورت جانور کا انتخاب مستحب ہے اور اس پر علماء کا اجماع ثابت ہے۔“
شرح النووی: 120/31
② حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ حدیثِ باب سے استدلال کیا گیا ہے کہ رنگ و وصف کے لحاظ سے زیادہ خوبصورت جانور کی قربانی مشروع ہے۔
فتح الباری: 15/10
③ قاضی شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
واستدل بأحاديث الباب على استحباب التضحية بالأقرن الأملح
”احادیثِ باب سے استدلال کیا گیا ہے کہ سینگوں والے چتکبرے جانور کی قربانی افضل ہے۔“
نیل الأوطار: 117/5
② ایسا جانور جس کی ٹانگیں، پیٹ اور آنکھوں کے ارد گرد کا حصہ سیاہ ہو، کی قربانی بھی مستحب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن، يطأ فى سواد ويبرك فى سواد، وينظر فى سواد فأتي به ليضحي به
”بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے مینڈھے کا حکم دیا، جو سیاہی میں چلتا (یعنی ٹانگیں سیاہ تھیں)، سیاہی میں بیٹھتا (یعنی پیٹ سیاہ تھا) اور سیاہی میں دیکھتا (یعنی آنکھوں کے قریب کا حصہ سیاہ تھا) پھر اسے ذبح کرنے کے لیے لایا گیا۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب استحباب استحسان الضحیة: 1967۔ سنن أبی داود، کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا: 2792۔ مسند أحمد: 78/6۔ صحیح ابن حبان: 5915

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
يطأ فى سواد، ويبرك فى سواد، وينظر فى سواد، فمعناه: أن قوائمه وبطنه وما حول عينيه أسود
”وہ مینڈھا سیاہی میں چلتا، سیاہی میں بیٹھتا اور سیاہی میں دیکھتا سے مراد یہ ہے کہ اس کی ٹانگیں، اس کا پیٹ اور آنکھوں کے ارد گرد کا حصہ سیاہ تھا۔“
شرح النووى : 120/13
② شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وفيه دليل على أنها تستحب التضحية بما كان على هذه الصفة
”حدیثِ باب دلیل ہے کہ مذکورہ اوصاف کے جانور کی (جس کی ٹانگیں، پیٹ اور آنکھوں کے حصے سیاہ ہوں) قربانی مستحب عمل ہے۔“
نیل الأوطار:126/5

سفید رنگ کی بکری کی قربانی:

سفید رنگ کی بکری کی قربانی سیاہ رنگ کی بکری سے افضل نہیں بلکہ اس بارے میں مروی روایات ضعیف ہیں۔
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دم عفراء أحب إلى من دم سوداوين
”مجھے (قربانی میں) سفید بکری کا خون دو سیاہ بکریوں سے زیادہ پسند ہے۔“
ضعيف : مسند أحمد : 417/2- مستدرك حاكم : 4/ 227- سنن بیهقی 273/0 – ثمامه بن وائل بن حصین ابو ثقال اور رباح بن عبد الرحمان بن ابی سفیان بن حويطب مجہول راوی ہیں۔
② سیدہ کبیرہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد کیا:
دم عفراء أزكٰي عند الله من دم سوداء
”اللہ کے ہاں سفید بکری کا خون سیاہ بکری سے زیادہ پاک ہے۔“
ضعیف : طبرانی کبیر: 20532 – محمد بن سلیمان بن مسمول کی ضعیف راوی ہے۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استوصوا بالمعزى خيرا، فإنها مال رقيق، وهو فى الجنة، وأحب المال إلى الله الضأن، وعليكم بالبياض، فإن الله خلق الجنة بيضاء، فليلبسه أحياؤكم وكفنوا فيه موتاكم، وإن دم الشاة البيضاء أعظم عند الله من دم سوداوين
”تم بکریوں سے اچھا سلوک کرو، کیونکہ یہ نرم و نازک مال ہے اور یہ جنت میں بھی ہوں گی، نیز اللہ تعالیٰ کو محبوب ترین مال بھیڑ ہے اور تم سفید لباس کا التزام کرو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو سفید بنایا ہے سو تمہارے زندہ لوگ بھی سفید لباس زیب تن کریں اور تم اپنے مردوں کو اسی رنگ میں کفن دو نیز سفید بکری کی قربانی کا (اجر و ثواب) دو سیاہ بکریوں کی قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔“
موضوع : طبراني كبير : 11038 – الضعيفة: 431 – حمزه بن ابی حمزه جعفی نصیبی متروک اور متھم بالوضع ہے۔