صفوں کو توڑنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقيموا الصفوف، و حاذوا بين المناكب و سدوا الخلل، و لينوا بأيدي إخوانكم، ولا تذروا فرجات للشيطان، و من وصل صفا وصله الله، و من قطع صفا قطعه الله
”صفیں قائم کرو، کندھوں کو برابر کرو، شگاف پر کرو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے شگاف نہ چھوڑو۔ جو شخص صف کو ملائے گا اللہ اس پر مہربانی فرمائے گا اور جو شخص صف کو توڑے گا تو اللہ اسے اپنی رحمت و مہربانی سے محروم کر دے گا اسے توڑے گا۔“
ابوداؤد، كتاب الصلوة 666۔ النسائي، الامامه 73/3، مسند احمد 133/2۔
صفوں کے شگاف پر کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وسطوا الإمام وسدوا الخلل
”امام کو درمیان وسط میں رکھو اور شگاف پر کرو۔“
سنن ابی داؤد 681۔ بیهقی 104/3 یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ام یحیی بن بشیر بن خلاد مجہولہ ہے۔
نماز میں صفیں درست کرنا
① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله وجوهكم
”تم صفیں درست رکھو ورنہ اللہ تمہارے چہروں کو بدل دے گا“۔
بخاری، کتاب الاذان 717 مسلم، كتاب الصلوة 436۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 663۔