غزوۂ موتہ میں جعفر بن ابی طالبؓ کے جسم پر نوے سے زائد زخم تھے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فى غزوة مؤتة زيد بن حارثة فقال رسول الله إن قتل زيد فجعفر وإن قتل جعفر فعبد الله بن رواحة قال عبد الله كنت فيهم فى تلك الغزوة فالتمسنا جعفر بن أبى طالب فوجدناه فى القتلى ووجدنا ما فى جسده بضعا وتسعين من طعنة ورمية
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا امیر مقرر فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر زید بن حارثہ معرکہ میں شہید ہو جائیں تو پھر جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے، اور اگر جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ “ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس غزوہ میں میں بھی شریک تھا، ہم نے (لڑائی ختم ہونے کے بعد) جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا ہم نے انہیں مقتولین میں پا لیا، ہم نے ان کے جسم میں نوے سے زیادہ نیزے اور تیروں کے زخم دیکھے۔ “
(صحیح بخاری) (رواه البخاري كتاب المغازي باب غزوة موتة من أرض الشام ، الرقم: 4261)
اور ایک اور روایت میں ہے کہ سارے زخم انہیں سامنے سے لگے تھے:
عن ابن أبى هلال قال أخبرني نافع أن ابن عمر أخبره أنه وقف على جعفر يومئذ وهو قتيل فعددت به خمسين بين طعنة وضربة ليس منها شيء فى دبره يعني ظهره
”نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتلایا کہ میں جعفر رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس کھڑا تھا، میں نے ان کے جسم پر نیزے اور تلوار کے پچاس زخم شمار کیے، ان میں سے ایک زخم بھی ایسا نہ تھا جو پیٹھ کی طرف ہو۔ “
(صحیح بخاری ) (رواه البخاري: كتاب المغازي باب غزوة موتة من أرض شام، الرقم: 4260)

فوائد مستنبطہ

➊ موتہ شام کا ایک علاقہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علاقہ میں تین ہزار کا لشکر روانہ کیا تھا، مقابلہ کے لیے ایک لاکھ کے قریب عیسائی جمع ہوئے تھے، شدید گھمسان کی جنگ ہوئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے تین ہزار کے لشکر کو اس میدان میں فتح عطا فرمائی۔
➋ اس حدیث سے جناب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شجاعت و بہادری کا پتہ چلتا ہے کہ وہ زخموں سے چور ہونے کے باوجود آخر تک لڑتے رہے، ان کے جسم پر سامنے والی طرف نوے زخم نیزے اور تلواروں کے تھے، بقیہ زخم جسم کے باقی حصوں میں تھے۔
➌ تشجیع کی غرض سے شہید کی ہیئت کا بیان کرنا: حدیث مذکور سے دوسروں کی ترغیب و تشویق کے لیے شہید کی میت اور اس کی کیفیت کو بیان کرنے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زخموں کی تعداد اور کیفیت و ہیئت بیان کی۔