مضمون کے اہم نکات
اقتضــــاء البـــراء عـــن الکــفـــار
کفار سے برا ء ت کے تقاضے
کفار سے براء ت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی باتیں نہ مانی جائیں ان کے مفادات اور خواہشات کا تحفظ نہ کیا جائے۔
① [وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! کفار اور منافقین کی باتیں ہرگز نہ مانو اور ان کی طرف سے اذیت رسانی کی پرواہ نہ کرو، اللہ پر توکل کرو، کارسازی کے لئے اللہ کی ذات کافی ہے۔ (سورۃ الاحزاب:48)
② [فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا]
اے بنی صلی اللہ علیہ وسلم! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو، اور اس قرآن کو لے کر ان کے خلاف زبردست جہاد کرو۔ (سورۃ الفرقان:52)
③ [یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا]،[وَّ اتَّبِعۡ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا]،[وَّ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سے ڈرو اور کفار ومنافقین کی اطاعت نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیری طرف وحی کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو بے شک اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے اس سے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔ اللہ پر توکل کرو، کارسازی کے لئے اللہ کی ذات کافی ہے۔ (سورۃ الاحزاب:1-3)
④ [وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا]
جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی ہے اور جس کامعاملہ افراط تفریط پر مبنی ہے ایسے شخص کی بات نہ مانو۔ (سورۃ الکہف:28)
کافروں سے برأت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے مقابلہ میں اہل ایمان ڈٹ جائیں اور ہلکے نہ پڑیں۔
[وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا]
پس اے نبی! صبر کرو، اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقینا سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں۔ (سورۃ الروم:60)
کفار کا ہر محاذ پر پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے اور ان سے کسی قسم کی نرمی اختیار نہ کی جائے۔
[یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ]
اے نبی! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ التحریم:9)
کافروں کو اپنے یا دوسرے مسلمانوں کے راز مہیا نہ کئے جائیں نہ ہی اہم ملکی امور میں ان سے مشاورت کی جائے۔
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے (مومن) ساتھیوں کے علاوہ تم کسی دوسرے کو اپنا ہمراز نہ بناؤ کیونکہ وہ تمہیں ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ (سورۃ آل عمران:118)
کافر یا مشرک کو کسی ایسے منصب یا عہدے پر مقرر نہ کیا جائے جہاں وہ مسلمانوں کے اندرونی احوال و اسرار سے واقف ہوسکے۔
[عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها قالت: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل بدر، فلما كان بحرة الوبرة أدركه رجل قد كان يذكر منه جرأة ونجدة، ففرح أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رأوه، فلما أدركه، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: جئت لأتبعك وأصيب معك، قال له: رسول الله صلى الله عليه وسلم: تؤمن بالله ورسوله؟، قال: لا، قال: فارجع فلن أستعين بمشرك، قالت: ثم مضى حتى إذا كنا بالشجرة أدركه الرجل، فقال له: كما قال أول مرة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كما قال أول مرة، قال: فارجع فلن أستعين بمشرك، قال: ثم رجع فأدركه بالبيداء، فقال له: كما قال أول مرة تؤمن بالله ورسوله؟، قال: نعم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : فانطلق]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ، کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے تو حرۃ الوبرہ (مدینہ منورہ سے چار میل کے فاصلہ پرایک جگہ کا نام) کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی ملا جس کی شجاعت اور بسالت کا بڑا چرچا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے دیکھ کر خوش ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر عرض کیا: میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں اور جو کچھ (مال غنیمت) ملے اس سے میں بھی حصہ پاؤں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا اللہ اور اس کے رسول پرایمان رکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چلا جا میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے گئے۔ شجرہ کے مقام پر پہنچے تو پھر وہی شخص دوبارہ حاضر ہوا اور اس نے اپنی پہلی بات دہرائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے وہی جواب دیا کہ، چلا جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔ وہ آدمی پلٹ گیا لیکن بیداء کے مقام پر تیسری مرتبہ حاضر ہوا (اور وہی بات عرض کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر وہی بات پوچھی: کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس بار اس نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا پھر آجا۔ [صحیح المسلم:1817]
سامان حرب و ضرب اور اسلحہ سازی کے ذریعہ کفار کو خوفزدہ رکھا جائے۔
[وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ]
جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقتور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لئے تیار رکھو تاکہ اس کے ذریعہ تم لوگ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان دشمنوں کو بھی جنہیں اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ اللہ کی راہ میں تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا تمہیں بھرپور اجر دیا جائے گا اور تمہارا حق مارا نہیں جائے گا۔ (سورۃ الانفال:60)
کفار کے سامنے اپنی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہونے دی جائے۔
[عن ابن عباس، قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه مكة، وقد وهنتهم حمى يثرب، قال المشركون: إنه يقدم عليكم غدا قوم قد وهنتهم الحمى، ولقوا منها شدة، فجلسوا مما يلي الحجر، وأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يرملوا ثلاثة أشواط، ويمشوا ما بين الركنين، ليرى المشركون جلدهم، فقال المشركون: هؤلاء الذين زعمتم أن الحمى قد وهنتهم، هؤلاء أجلد من كذا وكذا]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ (عمرۃ القضا کے لئے) مکہ تشریف لائے ا نہیں مدینہ کے بخار نے کمزور کردیا تھا۔ مشرکوں نے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ کل تمہارے پاس کچھ لوگ آنے والے ہیں جنہیں بخار نے بہت کمزور کر رکھا ہے اور وہ بیماری کی شدت سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مشرک لوگ (مسلمانوں کو دیکھنے کے لئے حرم میں) حطیم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں خوب اکڑ اکڑ کر تیز تیز قدم چلیں۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال سے چلیں تاکہ مشرکوں کو مسلمان طاقتور اور صحت مند دکھائی دیں (چنانچہ ایسا ہی ہوا) مشرکین نے مسلمانوں کو رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے ان لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ انہیں بخار نے کمزور کر رکھا ہے یہ بڑے طاقتور اور اچھے بھلے صحت مند ہیں۔ [صحیح المسلم:1266]
کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی عام مسلمان کے مقابلہ میں قابل احترام نہ سمجھا جائے نہ ہی کفار کے مفادات کو مسلمانوں کے مفادات پر ترجیح دی جائے۔
[عن عائذ بن عمرو، نه جاء يوم الفتح مع أبي سفيان بن حرب ورسول الله صلى الله عليه وسلم حوله أصحابه، فقالوا: هذا أبو سفيان وعائذ بن عمرو، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا عائذ بن عمرو وأبو سفيان، الإسلام أعز من ذلك الإسلام يعلو ولا يعلى]
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ کہ وہ فتح مکہ کے روز ابو سفیان بن حرب کے ساتھ حاضر ہوئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ ابو سفیان (ابھی اسلام نہیں لائے تھے لیکن قریشی سرداروں میں سے تھے) اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ (یہ مسلمان تھے لیکن عام آدمی تھے) آئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں یوں کہو) یہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان آئے ہیں۔ اسلام (کفر کے مقابلہ میں) بہت زیادہ عزت والا ہے۔ اسلام غالب ہے مغلوب نہیں۔ [سنن الدارقطني:3620، السنن الكبرى للبيهقي:12283]
وضاحت:
① بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر مسلم حکمرانوں اور سفیروں کو پروٹوکول مہیا کرنا اور بات ہے ان سے قلبی دوستی کرنا یا دل سے ان کا احترام کرنا دوسری بات ہے۔ اسلام نے دوسری بات سے منع فرمایا ہے۔
② کفار کے مفادات کو ترجیح نہ دینے سے مراد یہ ہے کہ اگر حصول علم کے لئے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے موجود ہوں تو کفار کے تعلیمی اداروں کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ مسلمانوں کا مال تجارت اور مصنوعات موجود ہوں تو کفار کے مال تجارت اور مصنوعات کو ترجیح نہیں دینی چاہئے، مسلمانوں کی افرادی قوت موجود ہو تو کفار کی افرادی قوت کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔
اسلامی ریاست کو چھوڑ کر کافر ملک میں رہائش اختیار نہ کی جائے۔
[عن سمرة بن جندب، أما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من جامع المشرك، وسكن معه فإنه مثله]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: جو شخص مشرک کے ساتھ اٹھے بیٹھے اور اس کے ساتھ سکونت اختیار کرے وہ بھی اس جیسا ہے۔ [سنن ابی داؤد:2787]
[عن سمرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تساكنوا المشركين، ولا تجامعوهم، فمن ساكنهم أو جامعهم فليس منا]
سیدنا سمرہ (بن جندب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کے ساتھ سکونت اختیار نہ کرو نہ ہی ان کے ساتھ اکٹھے رہو جو ان کے ساتھ سکونت اختیار کرے گا یا ان کے ساتھ اکٹھا رہے گا وہ ہم میں سے نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين:2627]
[عن جرير بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين، قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: لا تراءى ناراهما]
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو کافروں کے درمیان رہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس لئے کہ مسلمانوں اور کافروں کی آگ اکٹھی نہیں جل سکتی۔ [سنن ابی داؤد:2645]
مشرکین کے درمیان رہائش پذیر نو مسلم کو اگر ہجرت کے وسائل میسر ہوں تو اسے مشرکین سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہئے۔
[اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا]،[اِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا]،[فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّعۡفُوَ عَنۡہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا]
جو لوگ (ایمان لانے کے بعد کافروں کے درمیان قیام پذیر ہوکر) اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں ان کی روحیں جب فرشتے قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو کہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے، بہت ممکن ہے اللہ انہیں معاف فرما دے اللہ درگزر کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔ (سورۃ النساء:97-99)
[عن أبي نخيلة البجلي، قال: قال جرير: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبايع، فقلت: يا رسول الله، ابسط يدك حتى أبايعك واشترط علي فأنت أعلم. قال: أبايعك على أن تعبد الله وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتناصح المسلمين، وتفارق المشركين]
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنا دست مبارک بڑھائیں تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کروں اور جو شرط لگانا چاہیں وہ لگائیں کیونکہ آپ ہی دین کا علم رکھنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم سے ان باتوں پر بیعت لیتا ہوں۔ ① اللہ کی عبادت کرنا۔ ② نماز قائم کرنا۔ ③ زکاۃ ادا کرنا۔ ④ مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا اور… مشرکوں سے علیحدگی اختیار کرنا۔ [سنن النسائی:4182]
[عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يقبل الله من مشرك أشرك بعد ما أسلم عملا حتى يفارق المشركين إلى المسلمين]
سیدنا بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتے جو اس نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو حتی کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں میں داخل ہوجائے۔ [سنن ابن ماجۃ:2536]
کفار ومشرکین سے مشابہت اختیار نہ کی جائے۔
[عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی (دوسری) قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔ [سنن ابی داؤد:4031]
وضاحت:
کفار و مشرکین کی جن چیزوں میں مشابہت سے روکا گیا ہے وہ یہ ہیں
①عقائد ②عبادات ③مذہبی شعائر ④تہوار اور…عادات واطوار اور طرزِ معاشرت
کفار و مشرکین کی دل سے تعظیم نہ کی جائے۔
[وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]
عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔ (سورۃ المنافقون:8)
وضاحت:
کفار و مشرکین کی تعظیم نہ کرنے میں کفار ومشرکین کے شعائر (مثلاً صلیب وغیرہ) کفار کے تہوار (مثلاً کرسمس ڈے وغیرہ) کفار کے مذہبی مقامات (مثلاً گرجا وغیرہ) اور ان کے مذہبی راہنما (مثلاً پوپ) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یادرہے تعظیم نہ کرنے سے مراد ان چیزوں کو گالی دینا، برا بھلا کہنا یا لعن طعن کرنا ہرگز نہیں بلکہ انہیں وہ مقام اور مرتبہ دینا ہے جو مسلمان اپنے شعائر (مثلاً قرآن مجید) اپنے تہوار (مثلاً عیدین) اپنے مذہبی مقامات (مثلاً مساجد) اور اپنے مذہبی راہنماؤں (مثلاً ائمہ کرام اور فقہا ء عظام) کو دیتے ہیں۔
احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے لیڈروں اور دانشوروں کے اقوال کو "اقوال زریں” کہہ کر پیش نہ کیا جائے۔
[عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدى هدى محمد، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمد و ثنا کے بعد (یاد رکھو) بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور بدترین کام دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت (نئی ایجاد شدہ چیز) گمراہی ہے۔ [صحیح المسلم:867]
کفار ومشرکین کے مرنے کے بعد ان کے لئے مغفرت کی دعا نہ کی جائے۔
[مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ]
نبی کے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ (سورۃ التوبہ:113)
کافروں کو پہلے سلام نہ کیا جائے۔
[عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام، فإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو پہلے سلام نہ کہو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو تو اسے تنگ راہ کی طرف چلنے پر مجبور کردو۔ [صحیح المسلم:2167]
وضاحت:
تنگ راہ کی طرف چلنے پر مجبور کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس راستہ پر مسلمان چل رہے ہوں وہ اس راستے سے الگ ہوکر چلیں تاکہ اسے اپنے غیر مسلم ہونے کا احساس ہو، لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب راستہ پر ہجوم ہو۔
کفار کو وعلیکم السلام نہ کہا جائے۔
[عن أنس، أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أهل الكتاب يسلمون علينا فكيف نرد عليهم؟، قال: قولوا: وعليكم]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں ہم ان کا جواب کس طرح دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہو، وعلیکم۔ [صحیح المسلم:2163]
کافروں کی مادی ترقی، دنیاوی خوشحالی اور شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا جائے نہ رشک کیا جائے۔
[وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ رِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی]
اے محمد! ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیوی شان و شوکت دے رکھی ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لئے دی ہے۔ اصل میں تو تیرے رب کا (دیا ہوا) رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:131)
دین کے معاملہ میں کفار و مشرکین کا حکم نہ مانا جائے خواہ وہ اپنے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔
[وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسۡنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ]
اور ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تیرے پاس کوئی علم (یعنی ثبوت) نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر تم سب کو میری ہی طرف پلٹنا ہے پھر میں تم کو بتاؤں گا تم کیا کرتے رہے ہو۔ (سورۃ العنکبوت:8)
شدید ضرورت کے باوجود کفار اور مشرکین سے اقتصادی امداد نہ لی جائے۔
[عن أنس بن مالك، عن أبي طلحة، قال: شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع ورفعنا عن بطوننا عن حجر حجر فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حجرين]
سیدنا انس بن مالک اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (غزوہ احزاب کے موقع پر) ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر دکھایا کہ ہم نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھ رکھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر (بھوک کی وجہ سے) دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ [سنن الترمذی:2371]