سورج طلوع ہونے تک مسجد میں بیٹھنا، گھر میں نفل نماز، فجر کی دو رکعتیں مختصر پڑھنا اور اول وقت نماز کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سورج طلوع ہونے تک مسجد ميں بيٹهے رہنے كے احكامات

① سیدنا معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قعد فى مصلاه حين ينصرف من صلاة الصبح حتى يسبح ركعتي الضحى لا يقول إلا خيرا غفرت له خطاياه وإن كانت أكثر من زبد البحر
”جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے اور اس دوران خیر کے سوا کوئی بات نہ کرے، حتیٰ کہ چاشت کی دو رکعت پڑھ لے تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں.“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1287۔ مسند احمد، مسند المکثرین 439/3۔ یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں زبان بن فائد ضعیف الحدیث ہے۔

گھر میں نفل نماز پڑھنا

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إجعلوا فى بيوتكم من صلاتكم، ولا تتخذوها قبورا
”اپنے گھروں میں کچھ نفل نمازیں پڑھا کرو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔“
بخاري، كتاب الصلوة 432۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين و قصرها 777۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 1043۔ ترمذی، کتاب الصلوة 451۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قضى أحدكم الصلاة فى مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل فى بيته من صلاته خيرا
”جب تم میں سے کوئی اپنی مسجد میں نماز پڑھے تو وہ اپنی نماز میں سے کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھے۔ کیونکہ اللہ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر و بھلائی پیدا کر دے گا۔“
مسلم كتاب صلوة المسافرين 778۔ ابن خزیمه 212/2۔ ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 1376۔
③ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة المرء فى بيته أفضل من صلاته فى مسجدي إلا المكتوبة
”آدمی کی فرض نماز کے علاوہ اپنے گھر میں نفل نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
البخاري، کتاب الاذان 731۔ مسلم، کتاب صلوة المسافرين وقصرها 781۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 1044۔ الترمذي، كتاب الصلوة 450۔
④ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اشہل کی مسجد میں نماز مغرب ادا کی تو لوگوں نے نفل پڑھنے شروع کر دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليكم بهذه الصلاة فى البيوت
”یہ نفل نماز تم گھروں میں پڑھا کرو۔“
ابوداؤد، كتاب الصلوة 1681۔ ترمذى، كتاب الجمعة 604۔ یہ روایت شواہد کی بناء پر صحیح ہے۔ دیکھیں: صحيح ابن خزيمة 1200، مسند احمد 427/5۔
⑤ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلوا أيها الناس فى بيوتكم فإن أفضل الصلاة صلاة المرء فى بيته إلا المكتوبة
”لوگو! اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھا کرو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ بندے کی وہ نماز افضل ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھتا ہے۔“
بخاری كتاب الاذان 731 مسلم، کتاب صلوة المسافرین و قصرها 781 النسائي، قيام الليل و تطوع النهار 198/3 ابو داؤد، کتاب الصلوة 1044۔

فجر کی دو رکعتیں مختصر پڑھنا

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أذن المؤذن بالصبح و بدأ الصبح صلى ركعتين خفيفتين
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان مختصر سی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الاذان 1109۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين و قصرها 91/724۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يصلي ركعتين يخففهما حتى أقول هل قرأ فيهما بأم القرآن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس قدر مختصر پڑھتے حتیٰ کہ میں کہتی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟
بخاری، کتاب الاذان 1165۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين و قصرها 92/724۔
③ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أذن المؤذن بالصبح و بدأ الصبح صلى ركعتين خفيفتين
”جب مؤذن صبح کی اذان کہتا اور صبح ظاہر ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے“۔
بخاری، کتاب الاذان 1173 مسلم، كتاب صلوة المسافرین و قصرها 87/723۔
④ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله إذا طلع الفجر لا يصلي إلا ركعتين خفيفتين
جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو مختصر رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
مسلم، کتاب صلوة المسافرین و قصرها 88/723۔

اول وقت میں نماز پڑھنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو يعلم الناس ما فى النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا عليه ، و لو يعلمون ما فى التهجير لاستبقوا إليه ، ولو يعلمون ما فى العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا
”اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف کی کتنی فضیلت ہے، پھر اس کے حصول کے لیے قرعہ اندازی کیے بغیر گزارہ نہ ہوتا تو وہ اس بارے میں قرعہ اندازی کرتے۔ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ اول وقت میں کتنی فضیلت ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرتے۔ اور اگر انہیں پتہ چل جائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کتنی فضیلت ہے تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوتے، خواہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا۔“
بخاری، کتاب الاذان 615۔ مسلم، كتاب الصلوة 437۔