اذان کے احکامات، مؤذن کا جواب اور اذان کے بعد کی دعا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الأذان

اذان اور اس کے متعلق احکامات

الأذان، ہمزہ پر زبر لغوی طور پر الاذان کا معنی ”اعلان“ ہے۔ (دیکھئے القاموس المحيط للفيروز آبادي 4 / 195)
شرعی طور پر اس کے معنی ہیں: ”وہ مخصوص الفاظ جن کے ذریعے فرض نماز کے وقت ہو جانے کا پتہ چلتا ہے“۔ (دیکھئے حاشیة الجمل على المنهج 295/1)
① سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة
”روزِ قیامت اذان دینے والوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔“
مسلم، كتاب الصلاة، حديث 14 / 387۔ ابن ماجه، كتاب الأذان والسنة فيها، حديث 725۔
سلف و خلف نے اس کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ تمام لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نظارہ کر رہے ہوں گے، کیونکہ کسی بلند چیز کو دیکھنے والا اسے دیکھنے کے لیے اپنی گردن لمبی کرتا ہے، تو اس کا معنی ہے کہ وہ کثرت سے ثواب دیکھ رہے ہوں گے۔
نضر بن شمیل نے کہا: ”جب قیامت کے دن لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے تو ان کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی تاکہ وہ اس کرب و تکلیف اور پسینے سے دوچار نہ ہو سکیں۔“
بعض نے کہا: ”ان کے متبعین زیادہ ہوں گے۔“
ابن الاعرابی نے کہا: ”وہ لوگوں میں سے زیادہ اعمال کرنے والے ہوں گے۔“
قاضی عیاض وغیرہ نے فرمایا: ”بعض نے اعناقا کو ہمزہ کے کسرے کے ساتھ روایت کیا ہے، یعنی اعناقا، وہ تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جائیں گے۔ اس سے تیز رفتاری مراد ہے۔“ (دیکھئے شرح صحیح مسلم للنوی 92/3)
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ پس جب وہ خاموش ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال مثل هذا يقينا دخل الجنة
”جو شخص یقین کے ساتھ اس طرح کہتا ہے (یعنی جس طرح مؤذن کہتا ہے) وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
النسائي، كتاب الأذان 2 / 20 باب ثواب ذلك، اس کی سند حسن ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أذن سبع سنين محتسبا كتب الله له براءة من النار
”جو شخص ثواب کی نیت سے سات برس اذان دیتا ہے تو اللہ اس کے لیے جہنم سے براءت لکھ دیتا ہے۔“
الترمذي، كتاب الصلاة، حديث 206، اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں جابر بن یزید بن حارث الجعفي ضعیف اور رافضی ہے۔ (دیکھئے التقريب: 878)
④ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله وملائكته يصلون على الصف الأول والمؤذن يغفر له بمد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس وله مثل أجر من صلى معه
”اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمتیں بھیجتے ہیں، اور مؤذن کے لیے جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے وہاں کی چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں، ہر رطب و یابس جو اس کی آواز سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس شخص کی مثل جو اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسے بھی ثواب ملتا ہے۔“
النسائي، كتاب الأذان، باب رفع الصوت بالأذان، الطبراني الأوسط 8194، الكامل لابن عدي 2426/6، مسند أحمد 284/4۔

مؤذن کا جواب دینا اور اس کی دعا

① سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم النداء فقولوا كما يقول المؤذن
”جب تم اذان سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے۔“
البخاري، كتاب الأذان، حديث 611۔ مسلم، كتاب الصلاة، حديث 383/10۔ أبو داؤد، الصلاة، حديث 522۔
حدیث کے ظاہری الفاظ سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اذان کا جواب دینا صرف اسی کے ساتھ خاص ہے جو اذان سنتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کسی وقت مؤذن کو منارے پر دیکھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ اذان دے رہا ہے، لیکن وہ دوری یا بہرے پن کی وجہ سے اس کی اذان نہیں سنتا تو اس کے لیے متابعت مشروع نہیں۔ الشیخ نووی رحمہ اللہ نے شرح المہذب میں ایسے فرمایا ہے۔ (دیکھئے فتح الباري 2 / 108)
کرمانی نے فرمایا: حدیث میں ”مايقول“ (جو وہ کہتا ہے) کے الفاظ ہیں، یہ نہیں فرمایا: ”مثل ما قال“ (جس طرح اس نے کہا) تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ اس طرح کے کلمے ادا کر کے اس کے کلمے کے بعد جواب دے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں کہتا ہوں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی نسائی میں مروی روایت میں اس بارے میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ہی فرماتے جس طرح مؤذن کہتا حتیٰ کہ وہ خاموش ہو جاتا۔“
ابوالفتح الیعمرى بیان کرتے ہیں: ”حدیث کے ظاہر سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کے فارغ ہونے کے بعد اس کی طرح کہتے تھے۔ لیکن وہ احادیث جو مؤذن کے ہر کلمے کے بعد جواب دینے کو متضمن ہیں، وہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس سے یکسانیت مراد ہے۔ یہ مسلم وغیرہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف اشارہ ہے۔ اگر وہ اس کا جواب نہ دے حتیٰ کہ وہ فارغ ہو جائے تو اسے تدارک پسند ہے اگر وقفہ زیادہ نہ ہو۔“
الشیخ نووی رحمہ اللہ نے شرح المہذب میں بحث کرتے ہوئے ایسے کہا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس کوئی عذر ہو جیسے نماز وغیرہ تو اس بارے میں بھی یہی موقف ہے۔ (دیکھئے فتح الباري 2 / 109، اور العدة شرح العمدة 2 / 190)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ابن وضاح نے دعویٰ کیا ہے کہ ”المؤذن“ کا لفظ مدرج ہے، کیونکہ حدیث ”مثل ما يقول“ پر ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا تعاقب کیا گیا ہے کہ ادراج محض دعویٰ سے ثابت نہیں ہوتا (اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے)۔“ (دیکھئے فتح الباري 2 / 109)
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فإنه من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها منزلة فى الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو فمن سأل لي الوسيلة حلت له شفاعتي
”جب تم اذان سنو تو جس طرح وہ (مؤذن) کہتا ہے تم بھی اسی طرح کہو۔ پھر مجھ پر درود بھیجو اس لیے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ پھر اللہ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو۔ وہ (وسیلہ) جنت میں ایک مقام و منزلت ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لائق ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہوں۔ پس جس شخص نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“
مسلم، كتاب الصلاة، حديث 11 / 384۔ أبو داؤد، كتاب الصلاة، حديث 523۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذى وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة
”جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے:
اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذى وعدته“ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے) تو اس کے لیے روزِ قیامت میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔“
البخاري، كتاب التفسير, حديث 4719۔ أبو داؤد، كتاب الصلاة، حديث 529۔
④ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال حين يسمع المؤذن أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا غفر له ذنبه
”جو شخص اذان سننے کے وقت یہ دعا پڑھتا ہے: ”أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں) تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
مسلم، كتاب الصلاة، حديث 13 / 386۔ أبو داؤد، كتاب الصلاة، حديث 525۔

اذان سن کر مسجد سے نکلنے کی ممانعت

① سیدنا ابو الشعثاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھ ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی تو ایک آدمی مسجد سے اٹھا اور چلنے لگا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے باہر نکل گیا تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”اس شخص نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“
مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة 655/258۔ أبو داؤد 536۔ الترمذي، كتاب الصلاة 204۔